خاطب

سیتاپھل حیدرآبادی: انجمن ترقی پسند مصنفین رہیگی یا Abolish (تحلیل) ہوجائے گی؟

رام پھل دہلوی: بھئی حق بات تو یہ ہے کہ مَیں کسی قدر تھکا ہوا تھااس لئے برقی پنکھے کے نیچے پہنچتے ہی اونگھ گیا میں تو سمجھتا ہوں کہ:

نشستند وگفتند وبرخاستند

سیتاپھل حیدرآبادی: بھئی یہ مصرعہ تو بہت مشہور ہے اس کا مصرعہئ اولیٰ کیا ہے؟

رام پھل دہلوی: بھئی دوسرا مصرعہ.....!!(کچھ سوچ کر) بس ہوگا کوئی مصرعہ یونہی سا۔بغیر مصرعہ کے شعر تو نہیں ہوتا نا۔

مرزا امجد علی خاں: (دوسرے ٹیبل سے) نعوذ باللہ! کیامعلومات ہیں!اتنی سی بات نہیں معلوم(ترنم میں)

پئے مشورت مجلس آراستند نشستند وگفتند وبرخاستند

رام پھل دہلوی: یہ کون صاحب ہوئے؟

سیتاپھل حیدرآبادی: ارے بھئی جانے بھی دو‘ کوئی ہوگا رجعت پسند کھوسٹ کندھے کے رومال اور ململ کے تاج (ٹوپی) سے تو’چارمینار‘ کا ہم عصر دکھائی دیتا ہے۔تویہ شعر بحر رجز میں ہے یا بحر رمل میں۔؟

رام پھل دہلوی: میں تو اس کو بحر الکاہل میں سمجھتا ہوں کیوں کہ میں تو شعر گاکر موزوں کرتا ہوں (میز پر طلبہ بجاکر) نشتند وگفتند وبرخاستند۔ارے ہاں رے ہاں رے۔ارے ہاں رے ہاں

مرزا امجد علی خاں: وہ مارا! گاکرموزوں کرنے والے کو’موزونِ طبع‘ کہا جاتا ہے‘شاعر نہیں کہتے۔سمجھے برخودار۔شاعر تو پیدا ہوتا ہے۔ عروض پر عبور نہ ہو تو شعر کیوں کہتے ہو؟ یہ تو ارکان ہوئے۔اس کی بحر تو متقارب مثمن مقصور ہے۔فعولن،فعولن،فعولن،فعل۔

سیتاپھل حیدرآبادی: یہ تو بلاوجہ مداخلت کرتا ہے یار نان سنس۔ نشستندوگفتند وبرخاستند

مرزا امجد علی خاں: ہاہاہا...بحر رمل مسدس محذوف کا شعر ہے‘ سبحان اللہ حضرت داغؔ نے کیا خوب کہا ہے:

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی آپ سے تم‘ تم سے توُ ہونے لگی

فاعلاتن،فاعلاتن،فاعلن

سیتاپھل حیدرآبادی: مولانا۔آپ یہاں سے اُٹھ کر جایئے

مرزا امجد علی خاں: یہ ہوٹل ہے صاحبزادے!کسی کی میراث تو نہیں۔

رام پھل دہلوی: اماں جانے بھی دو۔کیسے کے منہ لگتے ہو۔

سیتاپھل حیدرآبادی: ہمارے ہاں ’ناز ؔلکنت‘ ایک نیا شاعر پیدا ہوا ہے کہتاہے:

رگِ برگِ گل کا مہکتا نفس

رام پھل دہلوی: ارے بس رے بس رے‘ ارے بس رے بس.....بھئی میں تو سہل ممتنع کا قائل ہوں۔ شعر ہوں تو یوں ہوں۔لقمان غریبؔ کہتا ہے ؎

پینا ویسے جرم نہیں ہے لیکن ہم بدنام بہت ہیں

سیتاپھل حیدرآبادی: یہ بھی کوئی شعر ہوا؟

کلیانیؔ میں آم بہت ہیں چٹگوپہ میں جام بہت ہیں
غنچہ شبنم، شبنم غنچہ ایسے مصرعے عام بہت ہیں

رام پھل دہلوی: ہاہاہا......(فر،فر،ناک صاف کرکے)واللہ کمال کردیا۔ کیا جل کر کہا ہے ع ایسے مصرعے عام بہت ہیں۔ تم پیروڈی بہت اچھی لکھ سکتے ہو‘واقعی اُردو ادب میں اس کی کمی ہے۔

سیتاپھل حیدرآبادی: تم نے’شادیاں اور شادیانے‘ پر تبصرہ توخوب لکھا ہے‘کیا واقعی اچھی کتاب ہے؟

رام پھل دہلوی: اچھے بُرے کو گولی ماریئے،یہاں پڑھنے کی کس کو فرصت ہے ان ”محترمہ“ کا تقاضہ تھا لکھ مارا‘ورنہ اکٹھے(۰۵۳) صفحات بھی پڑھنے کی چیز ہوتے ہیں۔

سیتاپھل حیدرآبادی: پر اس سے جو عوام گمراہ ہوگئے۔

رام پھل دہلوی: گولی ماریئے عوام کو،میں عوام کو دیکھتا پھروں یا ’محبوبہ‘ کو

سیتاپھل حیدرآبادی: اب تمہارے مطالعہ کا کیاعالم ہے؟

رام پھل دہلوی: کل ہی کی بات ہے کہ میں آل احمد سرورؔ کی ”باپ بیٹے“ پڑھ رہا تھا ویسے کافی طویل نظم ہے مگر ہے خوب۔

سیتاپھل حیدرآبادی: کیا بکتے ہو یار‘یہ تو”لورگنیف“ کے روسی ناول Father and son کا ترجمہ ہے۔ انور عظیم نے اُردو میں منتقل کیا ہے پورے چار سو صفحات ہیں۔

رام پھل دہلوی: توبہ، پھر تو غضب ہوگیا۔ میں نے آل احمد سرورؔ کو مبارکباد بھی لکھ دی تم سے کیا چھپائیں میں نے یہ کتاب پڑھی نہیں تھی مسٹر بے ڈھبؔ نے تذکرہ کردیا تھا۔ یوں بھی مجھے آل احمد سرورؔ کوخوش رکھنا ہے۔اپنی پارٹی کا آدمی ہے پھرنقاد ہے۔ کل ہماری کسی تخلیق پر بھرپور ہاتھ مارے تو.....!

کریلے کر: (مجلس بلدیہ کا ممبر داخل ہوتاہے) آداب عرض ہے،کیا ہورہا ہے؟

سیتاپھل حیدرآبادی: ہم لوگوں میں ہوتا کیا ہے وہی ادبی گفتگو ؎

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

کریلے کر: واہ شاید غالبؔ کا شعر ہے۔

سیتاپھل حیدرآبادی: جی نہیں یہ خواجہ میر دردؔ ہیں۔

رام پھل دہلوی: اماں، جھوٹ کی حد کردیتے ہو‘ داغؔ ہیں داغؔ۔ خیر فرمایئے آپ کہاں سے تشریف لارہے ہیں۔

کریلے کر: وہی فینانس کمیٹی سے۔نامعقولوں سے سابقہ پڑا ہے۔ بیت الخلاء اور پیشاب خانوں کے لئے(۵۱) ہزار روپیہ مانگتے ہیں۔ آدھا پیسہ تو’حکام‘ کھاجائیں گے۔میں خود میسن(Mason)اور بڑھئی رہ چکا ہوں۔ اب ترکاری بیچتا ہوں۔ سمنٹ(۴) روپے تھیلا‘ گچ تین روپیہ ۸ آنے گھانہ‘اینٹ(۵۲) روپئے ہزار‘لوہے کی سلاخیں پندرہ روپیہ من‘مزدور۸ عدد روز کا‘میسن کے تین روپیہ‘ کیلیں دوروپیہ سیر۔پھر انجینئر کہتا ہے کہ بنیاد تین فٹ دینی ہوگی Black Soil ہے میں کہتا ہوں بنیاد کھود کر کون دیکھ رہا ہے‘ بنیاد کا قصہ ہی ختم کردونا۔گیا وہ زمانہ جبکہ بنیاد دس دس فیٹ اٹھتی تھی۔

رام پھل دہلوی: تو کیا یہ’بے بنیاد‘ زمانہ ہے؟

کریلے کر: یوں ہی سمجھئے۔دیکھئے نا! ان پیشاب خانوں یا بیت الخلاء کی ضرورت ہی کیا ہے۔ هزاروں برس سے جب یہ چیز نہیں تھی توآج کیوں۔ضرورت ایجاد کی ماں ہےأدرخت کی آڑ،گلیوں کی موڑ،شکستہ دیواریں،کھلے میدان اِن فرائض کو خود انجام دیتے ہیں۔ابھی لوگوں کے دماغ سے’شان‘ نہیں اتری،دیش کے پیسے کو دیمک لگ رہی ہے۔ گُُھن کھاجارہا ہے۔

سیتاپھل حیدرآبادی: پھر آپ نے کیا سوچا؟

کریلے کر: دھنیا مرچی والے کو یہ گتہ دیا جائے تو کام اچھا بھی ہوگا اور سستا بھی

سیتاپھل حیدرآبادی: مگر وہ تو آپ کے ’داماد‘ ہیں؟

کریلے کر: ہوئے تو کیاہوا‘ سسرا زمانہ بھی تو یہ’سالے دامادوں‘ کا ہی ہے۔ہی ہی ہی

رام پھل دہلوی: ہاہاہاخوب!آپ ٹھنڈا پئیں گے یا چائے،کافی؟

کریلے کر: میں تو دہی بڑے کھاتا ہوں ’مرچیاں‘بہت پسند ہیں،چچ،آہا۔

رام پھل دہلوی: یہاں تو وہ نہیں ملتے،لسّی پی لیجئے۔

کریلے کر: یہ بھی خوب!جس ہوٹل میں مرچ اور بھجیے نہ ہوں وہ بھی کوئی ہوٹل ہے میں چاہتا ہوں کہ ایسی ساری ہوٹلوں کو برکھاست کروادوں۔

سیتاپھل حیدرآبادی: اور برخواست کروانے کا گتہ بھی’دھنیا مرچی والے‘ کے نام چُھوٹے۔ہاہا

بگلاپوری کچوری: (قوم کے نیتا) نمستے جی!!

رام پھل دہلوی: نمستے!پدھاریئے نیتا جی۔کیا وچار ہیں آپ کے‘ کہاں کہاں بھاشن ہوئے؟

بگلاپوری کچوری: ’پیڑہ نگر‘ میں ایک پاٹھ شالہ کا اُدگھاٹن کرنے گیاتھا۔

کریلے کر: اس میں پندرہ ہجار روپیہ جمع ہوا تھا‘بلڈنگ تو دس ہجار کی بھی نہیں آتی جی۔پھر پچھلے الیکشن کے موقعہ پر اناتھ آشرم بنوانے کا وعدہ کیا تھا۔

بگلاپوری کچوری: اب کے الیکشن کے شروع میں اس کا بھی’مارکٹ اوٹ‘ ہوجائیگا

سیتاپھل حیدرآبادی: شاید دوسرے الیکشن تک’بلاک اوٹ‘ ہاہا۔

بگلاپوری کچوری: سالے اُس سب انسپکٹر کو جندہ رہنا نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں ’منجوپہلوان‘ نے رامو دھوبی کے یوں جراسا ہاتھ لگایا تھا کہ سالا’ٹھس‘ بول گیا جیسے حلق میں جان رہ گئی تھی۔ہاتھ لگتے ہی اُڑ گئی۔ اب پرچہئ وارداتِ اتفاقی میں چاک کرنے کہتا ہوں تو سب انسپکٹر کا بچہ کہتا ہے کہ”ہتھکڑی ڈلوادوں گا۔ گورنمنٹ کا نمک کھاتا ہوں۔“ نمک حرام کہیں کا۔دیکھو بیٹے جی کو کیسا مزاج چکھاتا ہوں۔وہ منسٹر ہیں نا میرے پتا جی کے بھیجتے کے پوتے کے نواسے داماد، وہ چپ تھوڑے ہی رہیں گے۔ ہماری عزت ان کی عزّت ہے۔منجوپہلوان نے الیکشن میں دیش کی کچھ کم سیوا نہیں کی ہے۔

سیتاپھل حیدرآبادی: ارے ہاں،وہ ’منجو پہلوان‘ تمہارے اکھاڑے والا جس نے پچھلے الیکشن میں رام بابو ماسٹر کا ہاتھ توڑ دیا تھا؟

بگلاپوری کچوری: جی ہاں۔ اگر یہ پہلوان نہ ہو تو شریف لوگ الیکشن میں آنے سے رہے

رام پھل دہلوی: خصوصاً آپ جیسے سفید پوش شرفا۔

بیرا: ”کیا چاہئے صاب“!!

کنڈم طوفانی: کھانے کو کچھ ہے؟

بیرا: بریانی،چانپ، قورمہ، مرغ،مچھلی،مٹن،سوکھا گوشت، چکن،گردے،کلیجی،بھیجا،کباب، لقمی،سموسے،آملیٹ

کنڈم طوفانی: بھئی تم اکسپرسں قسم کی بولی بولتے ہو۔ہم پاسنجر ہیں ہمارے تو کچھ پلّے نہیں پڑتاخیر ایک بھیجا لے آؤ۔ ’صاب کا بھیجا نکال‘۔بیرے نے آواز لگائی۔

پکوڑی مل: ارے بھئی اِدھر آئیو۔

بیرا: کرسی پر سے یہ سامان نکال دو سیٹھ۔

پکوڑی مل: سامان نکال دوں!میں نے سامان ہی کیا رکھا ہے۔سبزی کی تھیلی، پیاز کی گٹھری،چھتری،لوٹا، ایک جوتوں کا جوڑ۔کیا کرسی ٹوٹ جائے گی؟ہوٹل چلاتے ہو یا مذاک کرتے ہو؟

بیرا: مگر یہ سیکل بھی توہے؟

سیٹھ: کیا کہا ٹِلّو کی سیکل نیچے رکھوں،میرے بچے کی!! اُدھر دیکھونا اس چئیر پر تو ان صاحب نے دھو تی سوکھنے ڈالی ہے کچھ نہیں بولتے۔

بیرا: آپ دھوتی نکالو سیٹھ یہ ہوٹل ہے۔

دوسرا سیٹھ: ارے واہ۔بارش میں بھیگتا آیا ہوں۔دھوتی اندر نہ ڈالوں تو کیا باہر پھیلاؤں۔ان صاحب کو کچھ نہیں بولتے جو چار گیالن مٹی کے تیل کاڈبہّ میزپر دھرے بیٹھے ہیں۔ جاؤ ایک گرما گرم اسپیشل لاؤ۔ہوہو،کیا ٹھنڈچُھٹی ہے بھئی!!

بوڑھی آواز: (ہوٹل کے ایک کمرہ سے)یہ سراسر بہتان ہے صاحب کہ میں ساری جائیداد بیچ کر پاکستان جارہا ہوں۔ آپ کے اخبار میں یہ خبر غلط چھپی ہے۔آپ نہیں سمجھتے کہ اس سے میرے خاندان پرکیا کیامصیبتیں آئیں گی۔

جوان آواز: دیکھئے ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے نواب صاحب! وہ جھوٹ تو نہیں بولتا‘ اس پربھی تو ذمہ داری ہے۔ آپ نے مکان تو فروخت کیا ہے نا؟

بوڑھی آواز: فروخت کیا ہے مگر کس لئے۔بچی کی شادی کے لئے۔ نوشہ کو دوہزار روپئے جوڑے کے دینے ہیں کیا کریں۔لوگ نام کے دام مانگتے ہیں ابھی تک سرکارسے جاگیر کی قسط نہیں ملی۔

جوان آواز: مگر ہم عوام کی زبان تو نہیں پکڑ سکتے۔عوام کی ترجمانی کرنا ہمارا فرض ہے۔

بوڑھی آواز: خدا کے لئے آپ اس کی تردید فرمادیجئے۔میں آپ کی هر قسم کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں۔

جوان آواز: ذرا آہستہ بولیئے۔

ہمہ در و دیوار گوش دارند

بیرا: کیا چاہئے صاب؟

بوڑھی آواز: ایک بریانی،کباب،لقمی،دم کاگوشت،مچھلی،ڈبل روٹی کاٹ کرلاؤ ارے ہاں میٹھا بھی‘ میرے لئے ایک چائے۔

جوان آواز: آپ نہیں کھائینگے نواب صاحب؟

بوڑھی آواز: جی نہیں ابھی گھر سے کھاکرآرہا ہوں۔

سیتاپھل حیدرآبادی: ارے یار اس شعر میں تو حشو ہے۔

رام پھل دہلوی: وہی چیز تو مرے اشعار میں پڑھنے کی ہوتی ہے۔

بیرا: کرسی خالی کرنا صاب،دوگھنٹے سے بیٹھے ہیں آپ،گراک(گاہک) واپس جارہا ہے۔

رام پھل دہلوی: بیٹھے ہیں تو کیاہوا؟ دوپیالی چائے بھی تو پی ہے۔ گاہکوں سے ایسا ہی سلوک کرتے ہو!!

پان والا: دوسادے پان،ایک طوفانی زردہ،ایک آنہ صاب۔

پاشو قلعی گر: کل دیدیں گے اب چھُٹّا نہیں ہے۔

پالش والا: بوٹ پالش،بوٹ پالش۔ ہم پالش والے،ہم ہمّت والے۔

چھگن لال: ایک پیسہ لے گا؟

پالش والا: ایک پیسہ میں مٹی نہیں آتی سیٹھ۔

ایک طالب علم: میرے پاس صرف ڈھائی روپیہ فیس کا بچا ہے یار وہ بھی ماں نے پڑوس سے اُدھار لئے ہیں۔

دوسرا طالب علم: فیس کل بھی دی جاسکتی ہے۔ہم انتظام کردیں گے۔آج ہو جائے آدھی،آدھی بریانی،اور ’حاتم طائی کی بیٹی‘

بے منزل کا مسافر: ایک آدھا آنہ دیجئے صاحب! بس کے کرایہ میں کم پڑا ہے۔

مسٹر چکرم باز: میں جانتا ہوں تم ہر آدمی سے آدھا آنہ لیتے ہو۔ایک ایسا جھانپڑ دوں گاچل نکل یہاں سے۔مہذب بناپھرتا ہے حرام زادہ!آدھاآنہ دیجئے صاحب!جیسے باپ کا مال ہی ہے۔

ایک آدمی: بھائی روس اپنی فوجیں کم کررہا ہے‘امریکہ اپنی فوجیں کم کررہا ہے برٹش اپنی فوجیں کم کررہا ہے تو پھر یہ’ہائیڈروجن بم‘ کے تجربے کیوں کئے جارہے ہیں۔

دوسرا آدمی: صرف’امن عالم کے لئے‘ آپ کے لئے۔ میرے لئے۔ او! بوائے ذرا شکر لادو۔

بیرا: خالی پیلی بیٹھنے کو یہ ہوٹل نئیں ہے۔باہرجاؤ،چار گھنٹے سے بیٹھے ہو۔

مدقوق نوجوان: کہاں جائیں۔

بیرا: قبرستان میں۔

مدقوق نوجوان: ٹھیک ہے،تم ٹھیک ہی کہتے ہو،ایک گلاس پانی لاؤ۔

بیرا: پانی وانی کچھ نہیں ملتا،نکل جاؤ یہاں سے۔

مدقوق نوجوان: یار تم تو دوسروں کوروٹی بانٹتے پھرتے ہوہم کوایک گلاس پانی بھی نہیں دیتے۔یزید ہوکیا؟

بیرا: منھ سنبھال کربات کرؤ۔گردن میں ہاتھ دے کر نکال دوں گا۔

مدقوق نوجوان: نوکری کے آفس والے کہتے ہیں کہ گردن میں ہاتھ دے کر نکالو۔اُدھارمانگتا ہوں تو سیٹھ کہتا ہے کہ گردن میں ہاتھ دیکر نکالو۔ڈاکٹر سے منّے کے لئے دوا مانگتا ہوں تو کہتاہے گردن میں ہاتھ دے کر نکالو۔مزدوری مانگتا ہوں تو گتہ دار کہتا ہے کہ گردن میں ہاتھ دیکر نکالو اور تم سے چار روز کابھوکاپانی مانگتا ہے تو تم بھی....!!

ہوٹل کا مالک: کیا ہے بنو.... سلار...کیا ہے رے... کون بدمعاش ہے وہ۔

بیرا: یہ جاتا نہیں ہے سیٹھ۔خالی پیلی چار گھنٹے سے سیٹ گرم کرتے بیٹھا ہے

ہوٹل کا مالک: گردن میں ہاتھ دے کر نکالو....!!

سب نوکر: نکالو،نکالو،چور،بدمعاش کہیں کا (مارتے ہیں، نوجوان گرجاتا ہے)

ڈاکٹر: سیٹھ صاحب یہ تو ختم ہوگیا۔

ہوٹل کا مالک: کیا کہا۔ختم ہوگیا؟ بھاگو بھاگو۔ارے وہ دیکھو پولیس آرہی ہے۔خدا کے لئے مجھے بچاؤ ڈاکٹر صاحب۔

رام پھل دہلوی: یہ کس غریب کے سینے سے ہوک اٹھتی ہے

لرز رہے ہیں محل تھرتھرا رہاہے قمر (مخدومؔ)

سیتا پھل حیدرآبادی: یہ کس کا شعرہے یار۔

رام پھل دہلوی: مخدوم کا

سیتا پھل حیدرآبادی: تو پھر مجھے مخدوم بہت پسند ہے۔

(غیر مطبوعہ)

٭ ٭ ٭