خاطب

سلیمان خطیب کا بحیثیت شاعر دور دور تک شہرہ ہے۔مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اچھی نثر لکھنے پر بھی قادر تھے۔دراصل سلیمان خطیب نے طالب علمی کے دور ہی سے لکھنا شروع کیا تھا۔ ابتداء میں لطائف اور پہیلیاں لکھیں اور رسالوں کو روانہ کرتے رہے۔سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں ان کا ایک مضمون اگست۶۳۹۱ء میں ماہنامہ’اتالیق‘ اورنگ آباد میں شائع ہوا تھا،اس وقت سلیمان خطیب میدک ہائی اسکول کی جماعت نہم کے طالب علم تھے۔اُن کے لطائف اور پہیلیاں ماہنامہ ’سب رس‘ حیدرآباد کے شمارہ اگست۹۳۹۱ء میں جگہ پاچکی تھیں۔

انہوں نے ابتداء میں اپنے مضامین مختلف ناموں گمنام حیدرآبادی،حق گو،بشپ سالومن(Bishopsolomon) اور ایک مزاحیہ مضمون”کیا خوب زمانہ ہے“ ہنس مکھ لال کے نام سے لکھا۔

سلیمان خطیب کی نثری تخلیقات میں ڈراموں، افسانوں،مضامین،انشائیوں کے علاوہ اُن کے خطوط کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔اُن کے مضامین ملک کے معیاری رسائل نگار،سب رس، رباب، ساقی، ہمایوں، شباب، جہانگیر، عطارد،آج کل، منادی، اتالیق، عالمگیر، پرچم، آندھراپردیش، ہمدرد، انسان، زاویئے، جام حیات، گلبرگ،صبا،نقوش(نانڈیر) رہبر دکن،میزان،پیام اور سیاست حیدرآبادمیں شائع ہوچکے ہیں۔مگر ان کی تمام تحریریں دستیاب نہیں ہیں۔ جو بھی تحریریں ملی ہیں وہ شگفتگی،خوش طبعی،لطافت،شوخی،بے تکلفی،لطیف مزاح اور طنز سے معمور ہیں۔عبارت میں سلاست اورروانی پائی جاتی ہے۔تحریر عام فہم،بے تکلف اور روز مرہ اور محاورات سے عبارت ہے۔سلیمان خطیب مشرقی تہذیب کے حامی اور مغربی تہذیب سے نالاں تھے جس کا اظہار شاعری کے علاوہ اُن کی نثری تحریروں میں بھی ملتا ہے۔اُن کی تحریروں کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ لطیف مزاح سے کام لیکر معاشرہ کی ناہمواریوں پر گہری چوٹ کرتے ہیں۔یہاں مختلف اصناف کے تحت اُن کے بعض رشحاتِ قلم کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

ڈرامے: نثر میں انھیں ابتداہی سے ڈرامے سے دلچسپی ہے۔گلبرگہ میں اپنے دورکے کامیاب ڈائرکٹر رہے ہیں۔زمانہ طالب علمی میں ”حق نمک“ کی ہدایت کاری کی تھی۔جوانی میں کالج کے طلبہ کے لیے خواجہ احمد عباس کا ڈرامہ”یہ امرت ہے“ ڈائرکٹ کیا۔مجتبیٰ حسین گلبرگہ کالج کے ایک ڈرامے کے بارے میں لکھتے ہیں:

”جب ہم لوگوں نے گلبرگہ کالج میں ”یہ امرت ہے“ اسٹیج کرنے کا فیصلہ کیا تو پتا چلا کہ اس ڈرامے کے ہدایت کار سلیمان خطیب ہیں۔سلیمان خطیب نے جب ڈرامے کی ہدایت کاری شروع کی توہم موصوف کی زبردست صلاحیتوں سے آگاہ ہوئے۔“

سلیمان خطیب کے تحریر کردہ ڈراموں میں پنگھٹ،نمک،زنجیریں اور بھائی کو خصوصیت حاصل ہے۔یہ ڈرامے اسکولوں اور کالجوں میں اسٹیج کیے جاتے رہے۔پہلی جمعگی اور پانچواں رسم ان کے ریڈیائی ڈرامے ہیں۔پہلی جمعگی منظوم ڈرامہ ہے۔پانچواں رسم بھی ریڈیائیڈرامہ ہے جو جہیز کی لعنت کے خلاف لکھا گیا ہے۔یہ ڈرامہ دکنی زبان میں ہے جو ہفت روزہ ”نقوش“ میں شائع ہوچکا ہے۔ ڈراموں سے دلچسپی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے شاعری میں بھی ڈرامائی عنصر کو برقرار رکھا۔اُن کی نظمیں ساس بہو،پہلی تاریخ،پہلی جمعگی،شاعر کی بیوی اس کی کامیاب مثالیں ہیں۔اوّل الذکر دونوں نظموں کو اکثر تعلیمی اداروں میں اسٹیج کیا جاتاہے۔

افسانے: سلیمان خطیب نے افسانے بہت کم لکھے،جو بھی افسانے دستیاب ہیں وہ ان کی ابتدائی تحریروں کا نمونہ ہیں۔اُن کے ایک افسانے”پنگھٹ“ کا موضوع خطیب صاحب کے الفاظ میں ”جوان پتری کو بڈھے کھوسٹ کے پلوباندھنا“ہے۔بے جوڑ شادی کا انجام یہ ہوا کہ پرشانت(ہیرو) کو گولی مار دی جاتی ہے اور لیلا(ہیروئن) خود کشی پر مجبور ہوتی ہے۔اس افسانے کو ڈرامے کی شکل میں بھی پیش کیا گیا ہے۔

دوسرا افسانہ”ہم سفر“ ہے جو غیر مطبوعہ ہے۔یہ دو دلوں کے بچھڑنے کا قصہ ہے۔یہ افسانہ روز نامچے کی شکل میں ہے،اس میں محبت میں ناکامی کے باعث مرد کی پشیمانی اور اس کی نفسیاتی کشمکش کو پیش کیا گیا ہے۔

ایک اور افسانہ”سانپ کا بچہ“ ذات پات کے موضوع پر لکھا گیا ہے۔یہ افسانے اور ڈرامے اُن کی تحریروں کے اوّلین نمونے ہیں۔ان کی تحریر کے اصل جوہر ہمیں ان کے مضامین،انشائیوں اور مکتوبات میں نظر آتے ہیں۔

مضامین: سلیمان خطیب نے میری خواہش پر دومضامین سپرد قلم کیے۔پہلا مضمون”آپ بھی عجیب آدمی ہیں“ گلبرگہ اسٹوڈینٹس کاٹیج حیدرآباد کے سالانہ ترجمان ”انسان“ کے لیے تحریر فرمایا۔دوسرا مضمون شور عابدی مرحوم کے شعری مجموعے”خم کاکل“ کی اشاعت کے موقع پر بہ عنوان ”گلبرگہ کلب کا ایک شاعر“ لکھا۔

”انسان“ میں شامل”آپ بھی عجیب آدمی ہیں“ پر لطف مضمون ہے۔معاشرہ میں جھوٹ اس قدر عام ہوگیا ہے کہ اصول پسند اور سچ بولنے والوں کو زندگی کے ہر مرحلے میں شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔مضمون نگار نے دلچسپ پیرائے میں مختلف مثالوں کے ذریعے”الحق مر“(سچ کڑوا ہوتا ہے) اور”اَلْکَذِبْ حَلوٌ“(جھوٹ میٹھا ہوتا ہے) کی وضاحت کی ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ صداقت کے پیکر اور عدم تشدد کے دیوتا کو سچ بولنے کی قیمت جان دے کر ادا کرنا پڑی۔اس خصوص میں خطیب صاحب رقم طراز ہیں:

”۸۴۹۱ء کی ایک شام کو مادرِ وطن کے ایک سپوت نے اتنا شدید سچ پسند نہیں فرمایا فوراً اُٹھا اور اُٹھ کرانتہائی متانت سے تڑ تڑ تڑ تین گولیاں سچائی کے پیکر کے سینے میں مار دیں۔سچائی مسکرائی،پرنام کیا اور ہمیشہ کے لیے بیکنٹھ باشی ہوگئی۔سچائی تو مرگئی اب اپنے گھر میں سچائی کہاں ہے؟ پھر آپ کیوں سچ بولتے ہیں؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ سچائی کو یونان میں زہر کا پیالہ دیا گیا۔بیت المقدس میں سولی دی گئی۔کربلا کے میدان میں شہید کیا گیا اور سچائی دیوانی یہ کہتی رہی کہ ؎

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

مندرج بالا سطور سے واضح ہے کہ سلیمان خطیب کی تحریر میں طنز کی کاٹ غضب کی ہے۔”گلبرگہ کلب کا شاعر“ سلیمان خطیب کا تحریر کردہ ایک عمدہ خاکہ ہے۔شور عابدی اور سلیمان خطیب دونوں گلبرگہ کلب کے سرگرم رکن تھے۔آپس میں بڑا یارانہ تھا۔دیرینہ رفاقت کے باعث انہوں نے شور عابدی کی شخصیت کی کامیاب عکاسی کی ہے۔ شور صاحب ملازمت کے سلسلے میں بیدر میں تھے۔خطیب ایک مشاعرہ پڑھنے بیدر آگئے تو اُن سے ملاقات کا جو تاثر پیش کیا ہے اس کا انداز بیاں شگفتہ اور بے تکلفانہ ہے:

”مدتوں بعد ایک دن شور سے بیدر میں ملاقات ہوتی ہے۔میکدہ بردوش تشریف لارہے ہیں۔فرماتے ہیں،”میں گلبرگہ میں ہوں یا تم بیدر آئے ہو؟“ بیدر اور گلبرگہ بغل گیر ہوتے ہیں۔حضرت اکمل صاحب کی خانقاہ میں ہماری صدارت میں مشاعرہ ہے۔شور تعریف میں زمین وآسمان کے قلابے ملارہے ہیں۔یہ تو شور کا خلوص ہے ورنہ خطیب کہاں اور کہاں شور!“

خطیب صاحب کا ایک مضمون”میری زندگانی او ردروغ بیانی“ بہ لحاظ اسلوب اہمیت کا حامل ہے۔طنز، شگفتگی،شوخی اور سلاست سے متاثر کرتا ہے۔زندگی میں جھوٹ اس قدر سرایت کرگیا ہے کہ اس کے بغیر زندگی کی گاڑی ہانکی نہیں جاسکتی۔

شوہر بیوی سے جھوٹ بولتا ہے،اُمید وار رائے دہندوں کوجھوٹے وعدوں پر ٹرخاتا ہے۔نام نہاد قلمکار، ادب میں اعتبار حاصل کرنے کے لیے نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔دروغ بیانی کا منظر خطیب صاحب کے الفاظ میں پیش ہے:

”۲ بجے شب گھر واپس ہونے پر بیوی کے سوال پر شوہر نے یوں جواب دیا۔’بابا ننگے شاہ کا وعظ سن رہا تھا۔دس بار ہ ہزار کا مجمع ہوگا،قیامت کا وعظ تھا۔لوگ دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے۔دستیاں بھیگ رہی تھیں،داڑھیاں بھیگ رہی تھیں۔آنچل بھیگ رہے تھے۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی رو رہے تھے۔اس لیے میں بھی دو بجے تک روتا رہا۔“

سچ تو یہ تھا کہ رات دیر گئے دوستوں کی محفل میں رمی چلتی رہی اور وہ رم پیتا رہا۔

’الیکشن کا موسم‘ بھی ایک پُر لطف مضمون ہے۔یہ مضمون حال میں سہ ماہی طنزومزاح بنگلور میں شائع ہوا ہے۔الیکشن کا موسم جب بھی آتا ہے، سیاسی جماعتوں کے اُمیدوار شناساؤں اور غیر شناساؤں کے گھر وں کا طواف کرتے ہیں۔ بقول خطیب :

”وہ رُخ انور جو صرف ڈنر اور سرکاری تقریبوں کے موقع پر جلال وجمال کے کرشمے دکھاتا تھا ہر دروازے پر کاسہ گدائی لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔“

الیکشن کے دنگل میں کیا ہوتا ہے۔کس طرح اُمید وار اپنے مفاد کی خاطر امن میں خلل ڈالتے ہیں اور فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں اور غیر محسوب دولت لٹاتے ہیں۔سلیمان خطیب اس خصوص میں رقمطراز ہیں:

”الیکشن کا دنگل بڑا خوبصورت ہوتا ہے۔حسین سے حسین مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔کبھی رائی اور پہاڑ کا مقابلہ ہوتا ہے تو کبھی برابری کا،سچائی اورجھوٹ دست وگریباں ہوجاتے ہیں۔طرفین کے کارکن باہم متصادم ہوتے ہیں۔دولت کی ریل پیل ہوتی ہے۔آپس میں زبان چلتی ہے،لٹھ چلتی ہے،جوتی چلتی ہے،گھونسا بازی ہوتی ہے،بعض اشرار دانستہ فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہیں۔مسجد ومندر،دیر وحرم،کعبہ وکلیسا کو الجھا کر اپنا معاملہ سلجھالیتے ہیں۔“

”چند یادگار مشاعرے“ مشاعروں کی ایک روئیداد ہے جس میں سلیمان خطیب نے شرکت کی تھی۔ایک دلچسپ رپورتاژ ہے۔مشاعروں کی روئیداد بیان کرتے ہوئے سلیمان خطیب نے انجمن خیر الاسلام ممبئی کے ایک مشاعرہ کااحوال بیان کیا ہے جس میں ماہنامہ تجلی کے ایڈیٹر حضرت عامر عثمانی بھی شریک تھے۔جنہوں نے شعر سناتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہا۔خطیب صاحب نے اس منظر کی اس طرح عکاسی کی ہے۔

”حضرت گلزار دہلوی نے حضرت عامر عثمانی سے کلام سنانے کی خواہش کی مولانا نے یہ شعر پڑھا

ایک ریت کی دیوار تھی دھیرے سے گری ہے احساس کی دہلیز پہ کوئی لاش پڑی ہے

اور ختم ہوگئے۔مشاعرہ برخواست ہوا۔میں نے آج تک کسی شاعر کو اسٹیج پر مرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔مولانا سفید چادر میں محوخواب تھے۔وہ عمر بھر ماہنامہ تجلی مرتب کرتے رے۔اُن کے چہرے پر وہی نور تھا گویا سورج غروب ہونے کے بعد شفق پھیل گئی ہو۔“

مندرجہ بالا سطور اس امر کی غمازی کررہے ہیں کہ سلیمان خطیب کو ماحول کی تصویر کشی میں کمال حاصل تھا۔

سلیمان خطیب کے تحریر کردہ دیگر مضامین”کیا خوب زمانہ ہے“(مزاح)”ان بچوں کو ماردو“۔”ٹیبل ٹاک“ (ترقی پسند شاعروں کے مابین مکالمہ)لوگ گیت اور ثقافتی پہلو،پھر نئی کونپل پھوٹی قابل ذکر ہیں۔”پھر نئی کونپل پھوٹی“ میں حمید الماس کی شاعری پر یوں رائے زنی کی ہے:

”حمید الماس کی شاعری میں شکستہ شیشہ کی دھار،مہکتے بدن کی گرمی،عود اور لوبان میں بسائی ہوئی زلفوں کی دھیمی دھیمی خوشبو ہے۔ایک خوشبو جو داغ دل بن کر شاعری میں شامل ہوگئی۔“

انشائیے: سلیمان خطیب ایک اچھے انشائیہ نگار بھی تھے،اُن کے تحریر کردہ انشائیوں میں ”کتاب پڑھنے کی تکنیک“ ماضی پر ایک نظر،آنکھیں،خیریت اور حرام زادی اہمیت کے حامل ہیں۔ان میں آنکھیں،خیریت اور حرام زادی غیر مطبوعہ انشائیے ہیں۔انشائیہ”کتاب پڑھنے کی تکنیک“ اور”ماضی پر ایک نظر“ شائع ہوچکے ہیں۔

”کتاب پڑھنے کی تکنیک“ ایک عمدہ انشائیہ ہے۔جس میں نام نہاد عاشقان کتب و مطالبہ کنندگان اپنی جیب پر بارڈالے بغیر نت نئی ترکیبوں وتکنیکوں سے راستہ چلتے ہوئے،ٹرین کے سفر میں،بک اسٹال پر کھڑے کھڑے یا اپنے گھر کے قرب وجوار میں کتب ورسائل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ان مانگے تانگے کی کتابیں پڑھنے والوں میں طرح طرح کے لوگ ہیں۔ایسے ہی چند اشخاص کا خطیب صاحب نے خاکہ اُڑایا ہے۔

”آپ کبھی کوئی خوبصورت کتاب لیکر گھر سے باہر نہ نکلیے لیکن آپ اپنی طبیعت سے مجبور ہیں۔لہٰذا ایک قدیم کرم فرما جو سائیکل پر طوفان کی طرح گزر رہے ہوں گے آپ کے ہاتھ میں کتاب دیکھ کر فوراً سائیکل سے اتر پڑیں گے۔کیا کوئی نئی کتاب ہے خطیب صاحب؟’جی ہاں‘ ذرا دیکھ تو لوں اور پھر وہ آپ کو سڑک پر آدھے گھنٹہ تک دھوپ میں تپادیں گے اگر یہ صاحب نہیں ملے تو دوسرے دوست دُکان سے اُٹھ کر آئیں گے۔فرمائیں گے رسالہ بڑا شاندار معلوم ہورہا ہے ذرا لکھنے والوں کو دیکھ لوں کون کون ہیں۔ بس ایک نظر تکلیف تو ہوگی۔اُن کی تکلیف کا سلسلہ بھی پندرہ بیس منٹ سے کم نہیں ہوگا۔خواہ آپ دواخانہ جاتے ہوں یا ریلوے اسٹیشن یا آفس آپ کو نہیں چھوڑیں گے۔اتنے میں دوسرے بے تکلف قسم کے دوست کہیں سے نکل پڑیں گے۔پیچھے سے ایک زور کا گھونسا کمر میں رسید کریں گے پھر فرمائیں گے’سڑک پر کیا کررہے ہو‘ یہ دوست بھی وہی عمل دہرائیں گے یعنی کتاب کا از سر نو مطالعہ‘ اگر آپ عجلت کریں توکہہ دیں گے ہاں میں جانتا ہوں تم بڑے کام والے ہو شام میں آکر لے جانا کتاب محفوظ رہے گی۔“

خطیب صاحب نے اس انشائیہ میں کتب ورسائل مانگ کر پڑھنے والوں کی تصویر کشی کی ہے۔یہ انشائیہ قدرت بیانی کے ساتھ بات میں بات پیدا کرنے کے وصف سے معمور ہے۔

انشائیہ ”آنکھیں“ میں آنکھوں کی مختلف اقسام اور اُن کی کرشمہ سازیوں کا پردہ فاش کیا ہے۔انشائیہ نگار نے نئی اصطلاحات گھڑی ہیں جیسے واحد النور،انجمن عین الواحدین،معرکہ سر کرنے والی آنکھیں،پس پردہ آنکھیں،لال پیلی آنکھیں،مخمور غلافی آنکھیں وغیرہ انشائیہ کی ابتداء اس طرح ہوتی ہے ؎

جس کو تیری آنکھوں سے سروکار رہے گا بالفرض جیا بھی تو وہ بیمار رہے گا

آنکھیں دو ہوتی ہیں لیکن بنانے والے دو سے چار بھی بناتے ہیں۔جب آنکھیں چار ہوتی ہیں تو دودل ایک ہوجاتے ہیں اور پھر کسی چنبیلی کے منڈوے تلے گانے لگتے ہیں ع

دونگاہیں تیری دونگاہیں میری مل کر چار ہوئیں

اس انشائیے میں قوت متخیلہ کی کار فرمائی عروج پر ہے۔

”ماضی پر ایک نظر“ بھی لوازماتِ انشائیہ سے پُر ہے جو خاص رواور خاص طرز سے لکھا گیا ہے۔سال ۴۷۹۱ء کی تکمیل پر انشائیہ نگار مختلف مسائل سے گزرتے ہوئے فیشن کی بدلتی قدروں پر اظہار خیال کرتا ہے اور ۴۷۹۱ء سے یوں مخاطب ہے۔

”مسٹر ۴۷۹۱ء! آپ نے میرے بچے نور نظر بلکہ لخت جگر کوفِٹ پائنٹ سے نکال کر بیل باٹم(Bell Bottom) بیرل باٹم(Barel Bottom)اور ایلی فینٹ باٹم(Elephant Bottom)میں اُتار دیا یعنی اس کا پاؤں ہرن کا پاؤں تھا آپ نے ہاتھی کا پاؤں بنادیا بلکہ فیل پاکردیا جو ایک قسم کی خطرناک بیماری ہے جس میں پاؤں بھاری ہوتا ہے،خواہ عورت کا ہو یا مرد کا۔میرے بچے کے بش شرٹ پراخبار کے نمونے چھاپ دیئے اور فلم اسٹار کی تصاویر پرنٹ کردیئے اور بش شرٹ کوناف سے بڑھا کر گھٹنے تک پہنچادیا کمر تنگ کردی اب وہ پرانی عورتوں کی کُرتنی یا فراک معلوم ہوتا ہے۔“

”خیریت“ غیر مطبوعہ انشائیہ ہے لوگ وقت ناساعت، موقع بے موقع تکیہ کلام کی طرح لفظ ”خیریت“ سے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں جہاں کہیں ہم اپنے شناساؤں سے ملتے ہیں۔اسی ایک لفظ خیریت سے مخاطب کی عافیت جاننا چاہتے ہیں۔مخاطب بھی صورت حال چاہے کتنی ہی سنگین ہو جواباً لفظ خیریت ہی کا سہارا لیتا ہے۔چاہے آپ بیمار ہوں یا آپ کے گھرانے کے افراد،جواباً خیریت ہی کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔اس موضوع پر سلیمان خطیب نے مثالوں کے ذریعہ موقع بے موقع خیریت دریافت کرنے کی روایت پر سخت نشترزنی کی ہے۔ایک اور غیر مطبوعہ انشائیہ”حرام زادی“ میں حیدرآباد کے باغ عام کے پھولوں،پودوں،سبزہ زاروں،فواروں، نرسری اور کیاناز(Cannas)کے تختوں کی منظر کشی کی گئی ہے۔اس انشائیہ میں سقوط حیدرآباد سے پہلے کی ثقافت اور معاشرتی آداب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔نوابوں یا اس عہد کے افسروں کے رکھ رکھاؤاور تہذیب کی عکاّسی بھی کی گئی ہے۔ اس دور میں گھروں کی ملازمائیں بھی اس طرح رہتی تھیں کہ اُن پر گھر کے افراد کا گمان ہوتا تھا۔اس انشائیہ میں باغ عاممیں واقع داروغہ کے بنگلہ کا جائزہ لیا گیا ہے جہاں کی ایک شعلہ بدن ملازمہ وضع قطع ولباس میں خاتونِ خانہ معلوم ہورہی تھی مگر جب درون خانہ سے عتاب نازل ہوا کہ”کہاں مر گئی حرام زادی“ تو یہ حقیقت واشگاف ہوئی کہ وہ شعلہ بدن،خاتون خانہ نہیں ملازمہ ”نوبہار“ تھی۔

سلیمان خطیب افسانوں اور ڈراموں میں رنگ نہیں جمع سکے اُن کی تحریر کے اصلی جوہرانشائیوں اور خطوط میں نظر آتے ہیں۔ڈاکٹر شمیم ثریا(صاحبزادی سلیمان خطیب) اپنے تحقیقی مقالے”سلیمان خطیب...شخصیت اور فن“ میں اعتراف کرتی ہیں:

”جہاں تک سلیمان خطیب کے افسانوں کے اسلوب کا تعلق ہے وہ اُن کے مزاج سے میل نہیں کھاتے،افسانے لکھنے کے لیے جس سنجیدگی،استقلال اور متانت کی ضرورت ہوتی ہے وہ سلیمان خطیب میں مفقود تھی۔ان کی طبیعت کی شگفتگی،بذلہ سنجی،بے باکی اور آزاد روی انہیں ایک کمزور افسانہ نگار بناتی ہے۔“

خطوط: سلیمان خطیب نے اپنے دوستوں، مداحوں اور رشتہ داروں کو جو خطوط لکھے ہیں وہ بے تکلفی، اپنائیت،شگفتگی اور بذلہ سنجی کے آئینہ دار ہیں۔اُن کے خطوط سے قاری ”نصف ملاقات“ کے تاثر سے لطف اندوز ہوتا ہے۔سلیمان خطیب کے مکتوب الیہ میں مبارزالدین رفعت‘ نجم الثاقب شحنہ‘ کاوش بدری‘مجتبیٰ حسین‘آمنہ ابوالحسن‘ مسز ابراہیم جلیس‘ڈاکٹرطیب انصاری‘محمود عشقی‘عظمت عبدالقیوم‘حافظ محمد جیلانی‘ملنسار اطہر احمد عظمت بھلاواں وغیرہ کے علاوہ نصف بہتر،محترمہ راشدہ ثریا اور فرزندان ودختران شامل ہیں۔

سلیمان خطیب کے خطوط میں سیاحتی مقامات کی منظر نگاری کے علاوہ اُن کی نجی زندگی اور مسائل حیات بھی درآتے ہیں،بعض خطوط ادبی تنقید کا عمدہ نمونہ ہیں۔سرسید اور حالی کے خطوط میں سنجیدگی اور متانت پائی جاتی ہے جبکہ سلیمان خطیب کے خطوط میں موجود شگفتگی،شوخی اور بے باکی انہیں غالب کے قریب کرتی ہے۔

مئی۳۶۹۱ء کے اواخر میں خطیب صاحب مشاعرے میں شرکت کے لیے مدراس گئے ہوئے تھے۔مدراس سے انہوں نے اپنی صاحبزادیوں تسنیم وشمیم کے نام خط لکھتے ہوئے مدراس اور اُس کے ساحل کے بارے میں درج ذیل تفصیلات فراہم کیں۔

”مدراس کیا ہے؟نیلگوں سمندر کے کنارے ایک سفید براق سافرشتہ پَر کھولے ہوئے کھڑا ہے۔اس کا دلفریب ساحل دُنیا کا دوسرے درجہ کا ساحل ہے۔جہازوں کواندر آنے کے لیے ایک مصنوعی نہر بنائی گئی ہے۔جہاز کیا ہیں چھوٹے چھوٹے محل ہیں۔سمندر کا نظارہ بڑا ہی دل آویز ہوتا ہے۔خصوصاً طلوع وغروب کا منظر‘ سمندر کے کنارے شام میں ایک میلا سا نظر آتاہے لوگ سمندر کے کنارے ریت پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور شوریدہ موجیں قدموں کو اُٹھ اُٹھ کر چوم لیتی ہیں۔“

دہلی اور کشمیر کے مشاعروں میں شرکت کے بعدبھی انہوں نے وہاں کے اہم مقامات کے بارے میں اپنے افراد خاندان کو خطوط لکھے۔

سلیمان خطیب کثیر العیال تھے اور ذرایع آمدنی محدود‘ اسی جز معاشی میں قلندرانہ زندگی بسر کی۔ساجد صدیقی لکھنوی شفاعت بکڈ پو‘ ناندیڑ کی جانب سے مہینے کے آخری ایام میں وی پی وصول ہونے پر جواب میں جو لکھا اس سے صورت حال کا اندازہ ہوتا ہے۔لکھتے ہیں:

”پچیس روپئے بارہ آنے دے کر وی پی کیا چھڑائی جان چھڑائی،۳۲/ تاریخ کو وی پی ملی،مہینے کے آخر ی دن رمضان کے ہم شکل ہوتے ہیں۔گھر میں اٹھتے بیٹھتے اللہ اللہ رہتا ہے۔چہرے پر محرم کی اُداسیاں رہتی ہیں ایسے میں والا جناب کی نوازش بے کراں،خدایاد آگیا۔مرتے کو مارے شاہ مدار‘حضور کاچہرہ آنکھوں میں پھر گیا۔صدق دل سے دُعائیں دیں۔“

مندرجہ بالا تحریر بے ساختگی اور سلاست کا عمدہ نمونہ ہے۔روز مرہ محاورے اور ضرب الامثال کے استعمال نے تحریر کو دوآتشتہ بنادیا ہے۔سلیمان خطیب کی مکتوب نگاری کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ عمدہ تنقیدی بصیرت کے حامل تھے۔انہوں نے اپنے بعض خطوط میں ادبی تنقید کا حق ادا کیا ہے‘کاوش بدری کے نام اپنے ایک مکتوب میں ان کی طویل نظم”کاویم“ پر اس طرح تبصرہ کیا۔

”کاویم“ خود کلامی،خودرموزی اور خود سوزی کی پہلی کتاب ہے جس میں آہ بھی ہے واہ بھی،کوہ بھی ہے کاہ بھی(کاہ لیے کہ بعض مقامات پربلاوجہ نظم طویل ہوگئی ہے)محراب علم وادب میں ایک نیادماغ ہے تاک تازہ سے چھلکتا ہوا نیا ایاغ ہے۔شب دیجور میں ایک روشن چراغ ہے۔دیکھیں کتنے تشنہ لب فیض یاب ہوتے ہیں۔کتنی آندھیاں اس کو بجھانے کی کوشش کرتی ہیں۔اس قدر پاکیزہ‘طویل‘بلند وبالا‘ارفع واعلیٰ نظم ایک زمانے کے بعد نظر سے گزری۔نو آغاز غنچوں کی طرح شگفتہ الفاظ کا انتخاب،مسائل کی گہرائی اور گیرائی لاجواب ہے۔میری طرف سے مبارک باد قبول کریں۔“

نجم الثاقب شحنہ مدیر ’گجر‘نے سلیمان خطیب سے ’گجر‘ کے بارے میں رائے مانگی تھی۔خطیب صاحب ’گجر‘ کے بارے میں لکھتے ہیں:

”گجر کی ترتیب وتبویب آفتاب وماہتاب ہے۔ڈرتا ہوں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔جوش ملیح آبادی اور فیض احمد فیض کی تخلیقات کی حیثیت اس نوبہ نو تازہ گجرے میں باسی پھول کی سی ہے۔گوکلام کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن مطبوعہ چیزوں سے رسالے کا وزن گرجاتا ہے۔لکھائی چھپائی پر آپ نے کوئی توجہ نہیں دی۔سچ مانیے دوچار صفحات پڑھتا ہوں تو آنکھ میں پانی اُتر آتا ہے۔ لکھنے والوں میں خاص تنوع ہے متقدمین اورمتاخرین بیک صف شانہ بہ شانہ نظر آتے ہیں۔یوں میں سب ہی سے گزرگیا لیکن شاذ تمکنت سے گزر نہ سکا۔شاذ تمکنت میں چونکادینے والی بات ہے۔نیا تجربہ ہے،تجسس ہے، تلاش ہے کشمکش ہے اور اپج ہے۔ایک بات کہوں،کان ادھر لایئے۔یہ حیدرآباد کا مستقبل ہے۔“

شاذ کی نظم”میرا فن میری زندگی“ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”شاذ کی زبان وبیان میں بڑا الجھاؤ ہے وہ تحیر خیز پیچیدہ تراکیب سے قاری کے ذہن کو سلجھنے اور سمجھنے سے زیادہ الجھنے اور بھٹکنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔وہ خط مستقیم سے زیادہ خط منحنی کے گرد گھومنے میں تلذذ حاصل کرتے ہیں جس سے فضائے شعر وسخن میں ایک قسم کی نامانوسیت‘ اجنبیت‘ بیگانگی اور حبس پیدا ہوجاتا ہے۔دم گھٹنے لگتا ہے اور قاری ایک دم بھاگ نکلتاہے۔“

پس سلیمان خطیب نے جہاں دکنی شاعری میں اپنے اَن مٹ نقوش چھوڑے ہیں وہیں وہ اپنی نثر کی وجہ سے بھی ادب میں یاد رکھے جائیں گے۔

(غیر مطبوعہ)

٭ ٭ ٭