خاطب

دکنی زبان کے معروف شاعرسلیمان خطیبؔ کی شاعری کے ہمہ جہت پہلوؤں میں سے ایک پہلو ان کی کردار نگاری ہے۔ان کی نظموں کے ارتقا اور انجام کے مدارج کا انحصار مرد اور عورت کے کرداروں پر ہوتا ہے۔ یہ کردار ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہوتے بلکہ ارتقائی مدارج کو طے کرنے میں ایک دوسرے کے ممد و معاون ہوتے ہیں۔سلیمان خطیب کی نظموں کے نسائی کردار بڑے بھر پور اور توانا ہیں۔ خواہ وہ جاہل ساس ہو یا تعلیم یافتہ بہو، لکھنوی شاعر کی دکنی بیوی ہو یا محبوب صاحب کی محبوب بی، وہ اپنے وجود کا احساس ہر رنگ، ہر روپ میں دلاتے ہیں۔

سلیمان خطیب کے مجموعہئ کلام ”کیوڑے کا بن“ کی نظم پہلی تاریخ جو میاں بیوی کی نوک جھونک پر مبنی ہے اس کے کئی ڈرامائی موڑ ہیں۔ اس نظم کے ارتقا میں بنیادی موضوع کے علاوہ دیگر موضوعات بھی زیر بحث آتے ہیں۔ شوہر اور بیوی کی اس بحث میں بیوی کی جھلّاہٹ خاندانی مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے سماجی و معاشی مسائل کا رخ کرتی ہے۔ کبھی وہ شوہر پر ناراض ہوتی تو کبھی اُسے مناتی ہے۔ کبھی وہ شعلہ ہے تو کبھی شبنم۔ اس کے مختلف تیور ہمیں نظم کے ہر موڑ پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔شوہر ”پہلی تاریخ“ کو تنخواہ لے کر خوشی خوشی گھر میں داخل ہوا ہے اور بڑے جذباتی انداز میں اپنی خوشی کا اظہار کر رہا ہے۔

شوہر:

تجھے معلوم ہے، کی اِتّا خوشی سے آیوں مجھے آتے سو بی نئیں آتے سے گانے گایوں
آدھی بریانی بھی ہوٹل سے دبا کو لایوں دیکھ جیبق میں ترے واسطے کیا کیا لایوں
آج تنخواہ ہے مری آج ہے چاندی سونا بول گلّے میں ترے واسطے کیا کیا ہونا

اِ س کے جوا ب میں بیوی جو کچھ کہتی ہے وہ شوہر کو خوابوں کی جنت سے نکال کر حقیتقت کے ریگزار میں لانے کے لیے کافی ہے۔

بس ہوا بھوت ہوا شیخی بگھارو نکّو کھٹےّ مٹّھے مجھے باتاں میں مٹھار ونکّو
گھولناں سے تُمے شیشے میں اتارو نکّو باتاں، باتاں میں تُمے لاتاں بی مارو نکّو
کی شرم نئیں سو کتئیں بات کو تنخواہ آرئیے آنے کی دیر بھی نئیں سیٹھ کے گھر کو جارئیے

لیکن یہی بیوی جب شوہر کے ناراض ہوتے ہوئے دیکھتی ہے تو اُس کا لہجہ دھیما پڑ جاتا ہے اور اس دھیمے لہجے میں اُس کی فکر، اُس کی پریشانیاں اور پھر ان تفکّرات کو شوہر سے بانٹنے کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔

تمنا نئیں بولی تو بولو جی میں کن کو بولوں؟ کو تلک بیٹھ کو چاول کی کِرک کو ڈھولوں
کیا کتئیں میں بھی گھُلوں ہور کیا تمنا گھولوں بند مُٹّھی کے بھرم کو بھلا کیسے کھولوں؟

سلیمان خطیب نے جب کبھی شوہر اور بیوی کے مکالمے لکھے ہیں تو دونوں کے اندازِ گفتگو کے تضاد سے کردار کی شخصیت کو اُبھارا ہے۔ اپنی نظموں میں بیوی کے جس کردار کو انُھوں نے تراشا ہے وہ کردار خارجی سطح پر بڑا تُند خو، کھُردرا اور مصلحت نا شناس کردار ہے لیکن داخلی سطح پر وہ ایک نرم دل، راست گو اور حقیقت پسند عورت کا کردار ہے۔

”لکھنوی شاعر کی دکنی بیوی“ کے مکالمات ملاحظہ کیجئے۔ شوہر نے جتنانرم اور خوشامدانہ انداز اختیارکیا ہے بیوی نے اتنا ہی جارحانہ انداز

شاعر:

یہ بھی اندازِ بیاں کتنا ہے پیارا بیگم اسی اندازِ بیاں نے ہمیں مارا بیگم
تم پر قربان سمرقند وہ بخارا بیگم واہ کیا خوب مکرّر ہو دوبارا بیگم

بیوی:

تُمے اسپیچ، مرے بات کو شعراں جوڑے کیا نزاکت سے اجی ڈول کو پاپڑ بیلے
شاعری ماٹھی پڑو جان کا جوکھم ہو گئی کھیت باڑی کرو، دھندا کرو، بیچو گھوڑے

نظم ”میاں کے دوست“میں بیوی شوہر سے شاکی ہے کہ جُزمعاشی کے باوجود اس کی دوست نوازی جاری ہے۔ وہ شوہر کے دوستوں کو کوس رہی ہے۔ اپنے شوہر کے نادانی کا ماتم کر رہی ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ اپنے سہاگ کی سلامتی کے لئے دُعا گو ہے۔ وہ شوہر کی جذباتی کمزوریوں کے با وجود اُسے اپنا مجازی خدا مانتی ہے۔ سلیمان خطیب نے اس نظم کے آخری دو بندوں میں ایک وفا شعار بیوی کی نفسیات کو کامیابی سے پیش کیا ہے۔

اِن کی تعریفاں تو کر کر کو پھُلاتے جاتئیں خالی بھانپاں پو فقط دال گلاتے جاتئیں
اِنوں چنڈے پو چڑھے سر کا چڑھاتے جاتئیں اِنوں ہے نئیں سو بی گھر میں کا منگاتے جاتئیں
گھر کی عزت ہے میں سب بھار بھِجاتے رہتیوں بھُکّے بچّوں کو تھپک کو میں سُلاتے رہتیوں
ایک چُمنی کو میں بارے سے بچاتے رہتیوں اپنے لچّھے کو میں مضبوط بناتے رہتیوں
اِن کی جیو جان سلامت، ٹلو ہر ایک گھڑی اِن کے دم سے ہے لباں پو مرے مِسّی کی دھڑی

سلیمان خطیب کی طویل نظموں کے بر خلاف ایک مختصر سی نظم ”اٹھائیس تاریخ“ ہے جس میں انھوں نے ایک کلرک کی بیوہ کا کردار بڑے متاثر کن انداز میں پیش کیا ہے۔ اس نظم کا کلائمکس دل کو گرفت میں لینے والا اور بیوہ کی مجبوری و بے چارگی کا مرقع ہے:

اٹھائیس تاریخ

روز لڑ لڑ کو جان کھا کھا کو اچّھا جنگل میں سو گئے آ کو
مُنڈی کاٹی کو پہلے مرنا تھا لے کو مُٹّھی میں جان بیٹھی ہے
ایسا مرنا بھی کئیکا مرنا جی گھر میں بیٹی جوان بیٹھی ہے
کِتّے لوگاں کے پاواں پڑ پڑ کو گھر سے میّت کو میں اُٹھائی ہوں
جینا،مرنا تمہارا قرضے کا آج پھُولاں اُدھار لائی ہوں
یتّا احسان ہم پو کرنا تھا تنخواہ لینے کے بعد مرنا تھا

”تنخواہ لینے کے بعد مرنا تھا“ میں جہاں بھر پور طنز ہے وہیں ایک بیوہ کی حقیقت پسندی اور حوادثِ زمانہ کا سامنا کرنے کی قیمت بھی نمایاں ہے۔سلیمان خطیب کے نسائی کرداروں میں ساس بہو کے کردار بڑے جان دار ہیں۔ نظم ”ساس بہو“ میں ساس بڑی جاہل ہے۔ تعلیم یافتہ بہو اُسے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ وہ احساسِ کمتری کا شکار ہے۔ اس احساس کو چھپانے کے لیے وہ بہو کی ہر حرکت اور عمل کو ناقدانہ نگاہ سے دیکھتی ہے:

ساس:

اُنگلیاں چٹخا کو بات کرتیے تُو؟ مُنڈیاں جھٹکا کو بات کرتیے تُو؟
تیرے دیدے دِوالاں ہو کو جاؤ دیدے مٹکا کو بات کرتیے تُو؟
گھورتی کیا ہے دیدے پھوڑوں گی دات کِلّی بٹھا کو چھوڑوں گی

ساس کی اس کڑی نکتہ چینی کے باوجود بہو بڑے صابر اور شائستہ لہجے میں جواب دیتی ہے۔

باتیں کرتی ہو کس طرح امّی؟
بات ہیرا ہے بات موتی ہے بات لاکھوں کی لاج کھوتی ہے
بات ہر بات کو نہیں کہتے بات مشکل سے بات ہوتی ہے

نظم ”پہلی جمعگی“ کی ساس بھی بڑی دبدبہ والی اور چالاک ہے۔ ”چھورا چھوری“ اور ”پہلی جمعگی“ یہ دونوں نظمیں جہیز کی لعنت کے خلاف لکھی گئی ہیں۔ سلیمان خطیب نے جہاں کہیں ”ساس“ یا ”لڑکے کی ماں“ کا کردار پیش کیا ہے وہ ایک منفی کردار ہے۔اُس کی خودغرضی، چالاکی اور لالچ عوام میں تنفّر کا جذبہ اُبھارتے ہیں لیکن ایسے کردار ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ نظم”چھورا چھوری“ میں دُلہے کی ماں اپنی فرمائشات یوں پیش کرتی ہے۔

بھار والے تو بھوت پوچھیں گے گھر کا بچہ ہے گھر کا زیور دیو
ریڈیو سیکل تو دُنیا دیتی ہے اللہ دے رئیے تو ایک موٹر دیو
بھوت چیزاں نکّو جی تھوڑے بس ایک بنگلہ ہزار جوڑے بس

”پہلی جمعگی“ کی ساس بھی کچھ کم نہیں۔ اس کو بہو سے جہیز میں بہت کچھ ملنے کی توقع تھی لیکن جب جہیز دیکھا تو ساری توقعات پر پانی پھر گیا۔

کِتّا سمجھا کو بولی بے چاری برف جمنے کی دینا الماری
مجھے خواہش تھی تھنڈے پانی کی یاد آتی تھی نوجوانی کی
باتاں کرتے سو کائیکا کی ڈبّہ وہ بھی دیتے تو بھوت اچھّا تھا
ایک پھنکا بھی لاکو دینا تھا میری گھُڑسی میں کیا سہاتا تھا

سلیمان خطیب کی نظموں کے تمام نسائی کردار زندہ اور جیتے جاگتے کردار ہیں۔ وہ مرد کرداروں پر حاوی ہیں اور اپنے ہونے کا احساس دِلاتے ہیں۔ اُن کا دکنی لب ولہجہ کلام کا لُطف بڑھا دیتا ہے۔ اِن کرداروں نے سلیمان خطیبؔ کی نظموں میں جان ڈال دی ہے۔

٭ ٭ ٭