خاطب

ہاں! میں اسی نام سے انہیں مخاطب کیا کرتی تھی اوراسی نام سے مضمون بھی لکھ رہی ہوں۔گلبرگہ کے ایک مشاعرہ میں میرے والد اسماعیل شریف صاحب ازلؔ سے ان کی ملاقات ہوئی تو اس طرح سے تعارف ہوا کہ شاعرِ اعظم کے بھائی میرے والد کے شاگرد تھے۔اس طرح یہ بھی میرے والد کی شاگردی میں داخل ہوگئے اور جامعہ نظامیہ کا امتحان منشی فاضل کامیاب کیا۔

۳۱/ مارچ۶۴۹۱ء کی ایک شام جب کہ شور عابدی مرحوم نے یہ شعر پڑھا:

ہے عقدِ ثریاؔ کہ عقدِ سلیمانؔ

ستاروں کی دُنیا میں ایک کھلبلی ہے

تب سے انہیں میں جاننے لگی دراصل خطیب خاندان میں کہیں اُن کا رشتہ طئے ہوگیا تھا۔انہوں نے اُس رشتہ کو توڑ کر مجھے اپنایا تھا اور اس طرح اپنے خاندان کی ناراضگی مول لی تھی۔ برسوں بعداُن کے حسنِ اخلاق اور خلوص سے یہ ناراضگی جاتی رہی۔اس بارے میں کبھی میں پوچھتی تو کسی کا یہ شعر پڑھتے ؎

کچھ علاجِ دل کریں تو سامنے بیٹھا ہوں میں

سب عزیز و اقربا ناحق بُرا کہنے کو ہیں

ہاں!تو اُس زمانے میں اُن کی شاعری عروج پر نہ تھی۔ اُس وقت کی ایک نظم”پڑوسن“ مجھے یاد ہے۔۰۶۹۱ء میں انہوں نے”پہلی تاریخ“ لکھی جوبڑی حد تک خود اپنے گھریلو حالات سے متاثر ہوکر لکھی گئی تھی۔یہ نظم مشہور ہوئی اوراس کے ساتھ ساتھ وہ بھی مشہور ہوگئے۔اس کے بعد”ساس بہو“۔ ”چھوراچھوری“ ”پگڈنڈی“۔ ”دکنی عورت کا انتظار“ جیسی متعدد نظمیں لکھیں۔جس کی وجہ وہ حیدرآباد سے باہر بھی متعارف ہوگئے۔۶۶۹۱ء میں پہلی بار وہ بمبئی گئے۔اس کے بعد تو یہ حال تھا کہ جنوبی ہند میں ہی نہیں شمالی ہند یعنی دہلی،کشمیر وغیرہ سے بھی انہیں مدعو کیا جانے لگا۔مشاعروں کی دعوت قبول کرنے سے پہلے وہ مجھ سے مشورہ لیتے، کہ جاؤں نہ جاؤں۔ایسا مقام جہاں کبھی جانے کا اتفاق نہ ہوا ہو وہاں کی دعوت قبول کرلیتے اور مجھ سے کہتے ذرا آپ جواب لکھ دیجئے نا۔جب یہ مستقر پر نہ ہوں تو میں ہی اکثر خطوط کے جوابات ہست یا نیست میں لکھ دیتی۔

جب نظم لکھنا شروع کرتے تو گھر میں اور باہرکئی کئی بار سب کو سناتے اورپوچھتے کیسی ہے؟ جب مکمل ہوجاتی تو مجھ سے کہتے کہ خوشخط لکھ دو۔

اُن کی نظموں میں یہ فیصلہ کرنا بہت ہی مشکل ہے کہ کونسی بہترہے۔”پہلی تاریخ“ تو تمام متوسط خاندانوں کی پہلی تاریخ ہے۔اس لئے اگر مجھ سے کوئی میری پسند پوچھے تو میں کہوں گی کہ مخدومؔ کی پیروڈی”بیچارگی“ جو چیز مخدومؔ کو لکھنا چاہیے تھا وہ انہوں نے لکھی۔

ابتداء میں مشاعروں میں بڑے شوق سے شرکت کرتے تھے،ادھر چار‘پانچ سال سے مسلسل خطوط آتے اوراصرار بڑھ جاتا تب ہی دعوت قبول کرتے۔ورنہ کہتے تھے اب میری صحت ایسی نہیں کہ لمبے لمبے سفر کروں۔ہائی بلڈپریشر ہے۔اگر کبھی ریل میں کچھ ہوگیا تو...؟

جب ناسک کے مشاعرہ میں عامر عثمانی کی موت ہوئی تو وہ بہت گھبرا گئے۔کہنے لگے میری موت بھی ایسی ہی ہوگی۔تب سے میں انہیں مشاعروں میں جانے سے روکتی، اس پر بھی میری اور اپنی مرضی کے خلاف چلے جاتے تھے۔کیونکہ لوگوں کا کہنا تھا آپ کے بغیر ہمارا مشاعرہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔آپ ہی بزم کی رونق ہیں۔سچ بات بھی یہی تھی۔ ہر مقام پر مشاعرہ سے واپسی پر افرادِ خاندان کو تمام روئداد سناتے۔ہر بچے سے گھر کی تفصیلات لیتے،ڈاک دیکھتے، فلٹر بیڈس جاتے اور اپنے غیاب میں پانی کا انتظام کیسا رہا پوچھتے؟ تب کہیں کھانا کھاتے، لاکھ میں کہوں پہلے آپ منھ ہاتھ دھوکر کچھ آرام کیجئے مگر نہیں مانتے۔اُن کی ملازمت کے بارے میں اکثر لوگوں کا یہ خیال تھا کہ مشاعروں سے فرصت نہیں تو ملازمت کیا کرتے ہوں گے؟ مگر یہ خیال بالکل غلط تھا‘ مشاعرے پر جاتے وقت تمام ملازمین کو ہدایت دیتے اورآنے کے بعد سب سے پہلے فلٹر جاکر اپنی غیر موجودگی میں کیا ہوا‘ اُس کی رپورٹ لیتے۔اچانک رات کے بارہ بجے،دو بجے اور کبھی چار بجے اُٹھ کر چکنگ کرتے اگر کوئی ڈیوٹی پر ملازم سوتا ہوا پایا جاتا توگالیاں دے کر اُٹھاتے اوراتنا خفا ہوتے کہ بعض وقت غصہ سے طبیعت خراب ہوجاتی۔ میں کہا کرتی آپ کو جو کرنا ہے قلم سے کیجئے، تاکہ اُن لوگوں پر اثر ہو۔گالیوں کا اُن پرکچھ اثر ہوتا نہیں۔دوسرے آپ کی طبیعت بھی خراب ہوجائے گی۔ اس کے جواب میں کہتے نہیں...بیگم! غریب لوگ ہیں۔اگر جرمانہ ہوجائے یا معطل ہوجائیں تو کیسے جئیں؟ اپنے سے بڑے آفیسر کے ساتھ وہ ماتحت کی طرح نہیں بلکہ ایک دوست کی طرح رہے۔ان کا خلوص ہی کچھ ایسا تھا جو ہر ایک کا دل جیت لیتا۔کبھی بھی کسی کو رنج یا تکلیف نہیں پہنچائی۔ اگر کوئی ان کے خلاف کچھ کہتا تو بڑی ہی خندہ پیشانی سے نظر انداز کردیتے تھے۔ان کے نزدیک غریب اورامیر مساوی تھے۔اگر کسی غریب کے گھر سے دعوت آجاتی تو کہتے ضرور جانا چاہئے تاکہ اُس کا دل خوش ہو۔بعض اوقات ایسا بھی ہوا ہے کہ انجانے لوگ شادی کے دعوت ناموں میں المنتظرین میں اُن کا نام لکھ دیتے۔جب دعوت نامہ ملتا تو ہنس کر یہ کہتے”کیا کرے گا‘ بیچارہ کم از کم میرے نام سے چار لوگ شرکت کرلیں گے۔ایسی شادی میں جانے کے بعد وہاں لوگ پوچھتے”آپ کا لڑکی سے یا لڑکے سے کیا رشتہ ہے؟“ایسے سوالات کے جوابات کا مجھ سے مزہ لے لے کر‘ تذکرہ کرتے تھے اور کبھی کہتے آپ میرے بعد مجھ پر مضمون لکھیئے،میں سمجھتا ہوں آپ ہی بہتر مضمون لکھ سکیں گی۔

اچھا کھانے اور اچھاکھلانے پر کاربند تھے۔گلبرگہ میں ان کی دعوتیں مشہور تھیں۔دعوتوں میں ویجیٹرین اورنان ویجیٹرین کا خاص اہتمام ملحوظ رکھتے۔جہاں تک ہوسکے لوازمات زیادہ سے زیادہ پیش کرنے کی کوشش ہوتی۔دعوت کے دن باورچی خانے کے کئی چکر لگاتے اور ہر چکر میں ایک پکوان بڑھادیتے۔میں اُس وقت کافی چڑجاتی۔وہ رات میں آٹھ مدعوین کا ذکر کرتے...صبح بارہ کا‘ اور شام ہوتے ہوتے یہ تعداد بیس ہوجاتی۔میں اُن کی اس عادت سے بخوبی واقف تھی اور آخر ی تعداد کا شروع ہی سے انتظام کردیتی۔

وہ اپنے دوستوں کے خلاف کچھ سننا گوارا نہیں کرتے تھے یوں تو سب ہی دوستوں کو اتنا چاہتے کہ ہمیں فرق کرنا مشکل ہوتا وہ کس کوزیادہ چاہتے ہیں۔مگر پھر بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ محمد علیؔ صاحب اور وہاب عندلیب کو بہت چاہتے تھے‘ محمد علی صاحب سے اُن کی دوستی اُس وقت سے ہے جبکہ ابھی انہوں نے سیاست کے میدان میں قدم نہیں رکھا تھا۔جن دنوں محمد علی صاحب کے قلب پرحملہ ہوا‘ وہ بہت روتے رہے۔وہاب عندلیبؔ صاحب کے بارے میں کہا کرتے”وہاب میرا چھوٹا بھائی ہے۔میرے لئے جو خلوص و محبت وہاب کے دل میں ہے وہ کسی میں نہیں۔“

اُن کی یہ کوشش رہتی کہ اُن کی طرف سے لوگوں کو کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچے۔لیکن اُن کے اثر ورسوخ کی بناء پر لوگوں سے انہیں بڑی تکلیف پہنچی۔مثلاً طبیعت خراب ہے اور کوئی کہہ رہا ہے ذرا میری ملازمت کے لئے سفارش کردیجئے، یا میرے لڑکے کو کالج میں داخلہ دلوادیجئے۔یا میرا تبادلہ ہوگیا ہے منسوخ کرادیجئے۔ لاکھ کہتے”بھئی میری کون سنتا ہے“ مگر لوگ پیچھے پڑ جاتے۔مجھ سے کہتے لوگ بہت ستاتے ہیں بیگم۔ناسازی مزاج اور عدیم الفرصتی کے باوجود لوگوں کے کام کروادیتے۔

وہ اپنی بیوی اور بچوں کو ہمیشہ سے بہت زیادہ چاہتے تھے۔اپنی صحت سے زیادہ میری صحت کا خیال رکھتے۔ میں نے کبھی اپنے لئے دوا نہیں خریدی وہ خود ہی بہت ساری دوائیں اُٹھالاتے اور کہتے”آپ کمزور ہوگئی ہیں یہ استعمال کیجئے۔آپ ہیں تو گھر ہے۔یہ بچے ہیں‘ آپ ہی کو یہ گھر چلانا ہے۔میرا کیاہے۔“ جب تک میں امریکہ میں رہی ہر امریکہ جانے والے کے ساتھ میرے لئے دوائیں بھیجتے رہے۔بچوں کو مارنے سے زیادہ ڈراتے دھمکاتے تھے۔ جب کبھی عید آتی تو بچوں کو دُکان لیجاکر اُن کے حسب مرضی کپڑے دلاتے۔میں اس کے سخت خلاف تھی یہ عادت بہت خراب ہے بچوں کو ماں باپ کی مرضی پر چلنا چاہئے آپ اُن کی عادت بگاڑ رہے ہیں۔ کہتے تھے۔”جانے دو بھئی! اب ہم ہی تو اُن کی خواہشات پوری کرنے والے ہیں۔ہمارے بعد ہمارے بچوں کی خواہشات کون پوری کرے گا۔دوسرے،کہیں اُن کو اپنے باپ کی جز معاشیء کا احساس نہ ہو۔“چونکہ وہ چھ ماہ میں ہی یسر ویتیم ہوگئے تھے۔اس لئے اُن کے بچپن کی کہانی بڑی دُکھ بھری تھی۔جسے کبھی کبھی اپنے بچوں سے بڑے دکھ بھرے انداز میں بیان کرتے۔ہمیشہ اُن کے دل میں یہ خوف رہتا کہ میرے بعد کہیں میرے بچوں کا انجام بھی اسی طرح نہ ہو‘ اس لئے وہ اپنے بچوں کو حتی الامکان خوش رکھنے کی کوشش کرتے۔میرا ایک بچہ تحسین خطیب پولیو کا شکار ہے۔ وہ تو اُن کا سب سے زیادہ لاڈلا تھا۔کیونکہ اُس کو بھی اپنے والد کی طرح علمی اور ادبی ذوق ہے جب مشاعرے سے لوٹتے تو اُس کا کام یہ ہوتا کہ ساری ڈاک ایک جگہ جمع کرکے اُن کے سامنے پیش کرے اُس سے اس طرح رائے لیتے جیسے کسی بڑے آدمی سے رائے لے رہے ہوں۔

شاعر ہونے کے ناطے وہ بہت حساس طبیعت رکھتے تھے، چنانچہ فلٹر بیڈس کے سرکاری گھر سے تخلیہ کرنے لگے تو میں نے اُنہیں ہرگز اس بات کا پتہ لگنے نہیں دیا کہ کس دن ہم اپنے ذاتی گھر منتقل ہورہے ہیں۔کیونکہ فلٹر بیڈس کے ماحول سے‘ اپنے عملہ سے اور اُس گھر سے انہیں اُنس ہوگیا تھا۔کہتے!”بڑا مبارک گھر ہے بچیوں کی شادیاں ہوگئیں،عزت ملی،شہرت ملی،سب کچھ ملا۔چنانچہ ایک دن ٹرک کا انتظام کرکے تمام سامان ٹرک میں رکھا گیا۔ٹرک چلنے کو ہی تھا کہ آپ آگئے۔باہر ورانڈے میں گم صم کوئی آدھا گھنٹہ بیٹھے رہے۔ میں بولی چلیئے دوپہر کا کھانا کھالیجئے۔ مجھے بہت ساراکام ہے۔اندر آئے اُس وقت چہرے کا یہ عالم تھا کہ اب رو ہی پڑیں گے۔کہنے لگے:”آخر آپ جارہی ہیں؟“ میں نے کہا: کیا آفس سے احکام آنے تک رہیں گے؟۔خدا کا شکرادا کیجئے اپنا گھر بن گیا ہے اس گھر میں ہم تیس سال رہے مگر اپنا نہ ہوسکا اور وہ بنتے ہیاپنا ہوگیا۔بولے۔”ٹھیک ہے۔“ مجھے ہمیشہ سے ہی اپنے ذاتی گھر کی خواہش رہی ہے۔میں نے ایک دفعہ کہا تھا۔خدا نے چیونٹی کے لئے گھر بنایا ہے اور چڑیا کے لئے بھی... مگر ہمارے لے نہیں۔جب گھر بن گیا تو مجھے ہر وقت چھیڑتے”چیونٹی کا گھر تو بن گیا۔“

۴۷۹۱ء میں انہیں اسٹیٹ ایوارڈ ملا۔۵۷۹۱ء میں گلبرگہ میں ”جشنِ خطیب“ منایا گیا اور مجموعہ کلام ”کیوڑے کابن“ شائع ہوا۔ان تمام باتوں سے وہ خوش تھے مگر‘ساتھ ہی یہ کہتے کہ اب تمام خواہشیں پوری ہوگئیں۔۷۷۹۱ء میں انہیں وظیفہ ہوگیا۔وظیفہ کے بعد وہ بہت خاموش رہنے لگے تھے‘ گھریلو حالات بھی ناگفتہ بہ تھے۔بڑے لڑکے کو بی. کام کئے دوسال ہونے پر بھی ملازمت نہ مل سکی۔دوسرے لڑکے ابھی زیر تعلیم ہیں۔اوروظیفہ کی کارروائی بھی زیر تکمیل ہے۔ان ہی فکروں کی وجہ سے اُن کی صحت زیادہ متاثر ہوگئی۔

اسی سال جون میں‘ مَیں اپنے بھائیوں سے ملنے امریکہ چلی گئی۔انہیں میری اس کارروائی سے کسی قسم کی دلچسپی نہیں تھی۔مجھے ویزا ملتے ہی چپ ہوگئے۔باہر بہت کم نکلتے اور دن بھر لیٹے رہتے۔اگرمیں طبیعت کے بارے میں پوچھتی تو کہتے۔”ٹھیک ہوں“ ان کے اس طرح سے بدلنے پر میں بھی کافی پریشان تھی۔پھر یہ سوچتی کہ جلد ہی تو لوٹ آؤں گی اورانہیں بھی اس کا تیقین دلائی۔امریکہ جانے کے بعد ستمبر میں مَیں نے لکھا کہ میں آنا چاہتی ہوں۔آپ کا کیا حکم ہے؟ جواب ملا۔برسوں بعد بھائیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے بار بار جانا تو نہیں ہوسکتا۔مزید چند ماہ رہ کر آیئے۔میری فکر مت کیجئے۔میں ٹھیک ہوں۔“ اس قسم کے خطوط مجھے مطمئن کرتے رہے۔ابتداء ہی سے انہیں گردوں کی شکایت تھی۔پھر تقریباً دس سال سے ہائی بلڈ پریشر ہوگیا تھا۔ ذیابطیس بھی تھا۔گولیاں تواستعمال کرتے تھے مگر ساتھ ہی مرض کو بڑھانے والی چیزیں بھی استعمال ہوتی رہتی تھی۔ مثلاً سفر کرنا‘مسلسل جاگنا‘ آرام کی کمی اور بدپرہیزی۔۵۱/ اکٹوبر۸۷۹۱ء کو اُن پر یرقان کا حملہ ہوا اور گردے بھی اپنا کام بند کردیے۔۔گلبرگہ کے ڈاکٹرز کی رائے کے مطابق انہیں امبولینس کے ذریعے گورنمنٹ جنرل ہسپتال گلبرگہ سے عثمانیہ ہسپتال حیدرآباد لے جایا گیا۔امبولینس میں اُن کے ساتھ میری لڑکی شمیم ثریا‘ لڑکا یامین خطیب اور بھانجا سراج اظہر تھے۔بچی کہہ رہی تھی کہ ابا بار بار یہ دُعاکررہے تھے”اے خدا مجھے تھوڑی سی مہلت دے“ میں سمجھ نہ سکی کہ کیا کہہ رہے تھے۔میں شکاگو میں تھی کہ شاعر اعظم کی علالت کا ٹرنک کال آیا اور میں فوری ہندوستان کے لئے روانہ ہوگئی‘ روانہ ہوتے وقت ٹرنک کال کی کہ میں آرہی ہوں فلاں دن پہنچ جاوں گی۔کہتے ہیں کہ وہ بہت خوش ہوگئے اور حالت بھی سدھرنے لگی۔۹۱/ اکتوبرکی شام میں حیدرآباد پہنچ گئی، فوری دواخانہ گئی, انہیں تکیوں کے سہارے بٹھایا گیا تھا، زبان میں لکنت تھی،بڑی مشکل سے بات کرتے تھے،مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے۔”آپ ہی کے لئے جی رہا ہوں۔“ پھر انہوں نے وہ شعر پڑھا جو مجھے ایک بار خط میں بھی لکھا تھا:

آؤ کہ گھر کی فضائیں سلام کہتی ہیں

تمام دِل کی دُعائیں سلام کہتی ہیں

پھر کہنے لگے۔”لوگ سمجھتے ہیں اس میں فیض احمد فیضؔ کا خیال ہے مگر لوگوں کو کیا معلوم کہ میں نے یہ کس کے لئے لکھا ہے؟“ خیر اب معلوم ہوگیا۔اس کے بعد پھر کسی قسم کی بات نہیں کی۔میں نے مزاج کے بارے میں دریافت کیا تو خاموش رہے۔صرف مجھے دیکھتے رہے اس انداز سے کہ آنکھوں سے بڑی مایوسی ٹپکتی تھی۔عیادت کو آئے لوگوں کو کم از کم خدا حافظ تو کہتے مگر میرے لئے انہیں الفاظ نہ ملتے۔ سب کا خیال تھا کہ میرے آنے سے وہ جلد اچھے ہوجائیں گے،مگر۰۲/ اکتوبر سے ان کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ خدا سے انہوں نے جو تھوڑی مہلت مانگی تھی بعدمیں سب کی سمجھ میں آگئی۔

۱۲/ اکتوبر شام کے آٹھ بجے جب کہ میں اورمیرا لڑکا اُن کے قریب تھے اُن کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی۔پسینہ جاری ہوگیا اور تنفس بے حد تیز ہوگیا۔میں بہت پریشان ہوگئی اور اپنے بھائی رفعت اللہ شریف کا جو ہاوز سرجن ہے انتظارکرنے لگی۔وہ ساڑھے آٹھ بجے آیا۔اُن کی حالت دیکھتے ہی ڈیوٹی میڈیکل افسر کو اطلاع کی گئی۔ نرس نے انجکشن دیا مگر تنفس برابر نہ ہوسکا۔نوبجے شب آکسیجن دی جانے لگی۔میں یہ دیکھ نہ سکی اور فوری گھر آگئی، جناب عابد علیخاں صاحب مدیر روز نامہ سیاست کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔صاحبِ موصوف فوراً ڈاکٹر کے ساتھ پہنچ گئے اورہر ممکنہ کوشش کی گئی۔مگر سب لاحاصل ثابت ہوا‘ رات کے ایک بجے وہ مجھے اور میرے بچوں کو اس دُنیا میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تنہا چھوڑ گئے۔انہیں اتنا بھی خیال نہ رہا کہ اُن کے بچے اور بیوی جن کی ذرا سی تکلیف پر وہ تڑپ اٹھتے تھے یہ صدمہ عظیم کیسے برداشت کرپائیں گے؟

یہ کس نے مجھ کو یارب زخمِ جگر دیئے ہیں؟

آنکھوں کے دو کٹورے اشکوں سے بھر دیئے ہیں

(خطیبؔ)