<
خاطب

قدیم زیورات‘ملبوسات‘شکستہ عمارات‘پُرانے کھنڈرات اور زمین میں دھنسی ہوئی بستیاں ہماری توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں کہ وہ اپنے عہد کی مکمل تفسیر اور مدلّل تاریخ پر بحث کرتی ہیں۔یہ قدیم تہذیب وتمدن کے وہ دھندلے نقوش ہیں جو عہد رفتہ کے رسم ورواج اورمعاشرتی تہذیب کی طرف رہبری ورہنمائی کرتے ہیں چنانچہ مصری اہرام کی کشادگی اور موہنجوداڑو کی کھدوائیاں اسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں جن پرحکومتیں لاکھوں روپیہ پانی کی طرح بہارہی ہیں۔اگر کچھ آثار قدیمہ زندہ وپائندہ ہیں تو اس کی کافی نگہداشت کی جاتی ہے تاکہ وقت کا تیز دھارا انہیں صدمہ نہ پہنچائے۔

لوگ گیت بھی عہدِ رفتہ کی تہذیب وثقافت کے پُرخلوص امین ہیں جو حدیثوں کی طرح سینہ بہ سینہ چلے آرہے ہیں۔اگر اُن کی ترتیب وتبویب نہ ہو تو یہ اُن سینوں میں منجمد ہوکر منوں مٹی تلے دب جائیں گے اور زمانہ اُن پر قبور تعمیر کردے گا۔دکنی لوک گیت جو بھاگ نگر اور بھاگ متی کی پریم کہانی سناتے ہیں قطب شاہی، عادل شاہی اور بہمنی سلطنتوں کی مٹی ہوئی تہذیب کے نقیب ہیں۔اُن کو محفوط کرنا خود اپنے آپ پر احسان کرناہے۔

یہاں قارئین کی دلچسپی کے لئے دکنی لوک گیتوں کے چند ایک نمونے پیش کئے جاتے ہیں جن میں ثقافتی پہلو قابل لحاظ حد تک اُبھرا ہوا ہے۔

گلبرگہ کی دونی، سوّا ہاتھ کا پنّا مُکھ میں ہنستا بنا‘ بنی کا قد ننھا

دیکھنے کو سیدھا سادہ شعر ہے‘مگر ہے تیغِ دو دم۔ایک طرف تو دُلہن کے پست قد ہونے کا تمسخر اُڑایاگیا ہے‘ دوسری طرف گلبرگہ کی صنعتِ پارچہ بافی پر بھرپور وار ہے۔شعر کا مطلب یہ ہے کہ دُلہن کے قد وقامت کو دیکھنے یا جانچنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس نے گلبرگہ کی سوا ہاتھ والی دونی پہن رکھی ہے اور اُس کی کوتاہ قامتی پر دولہا منہ ہی منہ میں ہنس رہا ہے۔

ایک زمانہ میں گلبرگہ صنعتِ پارچہ بافی کے لئے بہت مشہور تھا۔یہاں کا کالا چندر کالا‘تیلا رومال‘باریک سوتی لنگیاں اورپکّے رنگ کی دونیاں دُور دُور تک جاتی تھیں۔اب تک بھی صنعت پارچہ بافی کے لئے محلہ مومن پورہ بہت مشہور ہے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ دونی کا عرض بہت چھوٹا ہوتا تھا۔دونی لہنگے پر اوڑھی جاتی تھی جس کے پلّو اور خور ہوتی تھی۔اب اُس کی جگہ اوڑھنی نے لے لی ہے جس کے نہ پلّو ہوتاہے نہ خور (Border)برائے نام ایک ریشمی سانپ ہے جو گلے سے لپٹا ہوا خلاء میں رقص کرتا ہے ؎

کالا چندر کالا گوری کو سُہاتا اُس کا سائیں اُس کو پدمن کہہ بلاتا

اس شعر کی خوبی تو ایک علیحدہ مسئلہ ہے لیکن اس شعر کی تخلیق نے اپنی نغماتی کیفیات وفنی رچاؤ کے ساتھ ساتھ کالا چندرکالا کو بھی آب حیات بخشی ہے۔گوری کے ساتھ’کالا چندر کالا‘ کہنا بادلوں کے تاریک سینہ کو چیر کر ’ماہِ شبِ فار دہم‘ کو کھینچ لانا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دکنی لوک گیتوں کے خالقوں کے جمالیاتی نقطہ ئ نگاہ کو مان لینا پڑتا ہے۔اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ گوری نے کالا چندر کالا کی ساری پہن رکھی ہے جس سے اُس کے حسن کو چار چاند لگ گئے ہیں۔اس کے حسن جہاں تاب سے متاثر ہوکر اس کا خاوند اُس کو’پدمنی‘کہنے پر مجبور ہے۔کالا ’چندر کالا‘ کالی ریشمی ساری کو کہا جاتا تھا جس کا پلّو اورخور سرخ ریشم کے ہوتے تھے۔خور پر سپولا دوڑتا تھا۔اب یہ چیز ناپید ہے۔

ہمن بھاوج رانی سب سے بڑی شانی بادل پو کا پانی پشتولا سے چھانی

اس شعر میں نند نے بھاوج پر بھرپور طنز کیا ہے۔وہ کہتی ہے کہ ہماری بھاوج بڑی ہی عقلمند(شانی) ہے وہ بارش کے پانی کو جوچھتوں‘دیواروں کی گردجھاڑ لاتا ہے اپنی زرین پشتولا سے چھان رہی ہے اور اس طرح بھائی کے مال کو تباہ کررہی ہے۔اس شعر میں قوافی ملاحظہ فرمایئے۔

رانی،شانی،پانی اور چھانی لیکن شعر برائے قوافی نہیں معلوم ہوتا۔بے وقوفی کو گندے پانی اور بھائی کے مال کو پشتولا سے تشبیہ دی گئی ہے۔پھر اس شعر نے’پشتولا‘ کو حیاتِ جاوید بخشی ہے۔’پشتولا‘ ایک قیمتی ساڑی ہے جس کا آنچل زر کا ہوتا تھا۔بعض لوگ اسکو”پنچ تولہ“ بھی کہتے ہیں مگر مضافات میں پشتولا ہی رائج ہے۔

نند کا ناتا مجھے نئیں بھاتا سالو کے برقعے میں سُر والے کا کانٹا

’ سُروالے کا کانٹا‘ گھاس کے باریک کانٹے کو کہتے ہیں جو اندر ہی اندر چبھتا رہتا ہے۔کہنے کو نرم گھاس ہے مگر چبھنے میں ڈنک کی طرح۔پھر ننھی منّی نازک نند کی باریک چٹکیاں بھرنے کی عادت کی مناسبت سے’سُر والے کا کانٹا‘ کہنا بڑی نفیس بات ہے۔سُر والے کے کانٹے کا رنگ بھورا ہوتا ہے اور سالو کے برقعہ میں اُس کا چھپاہونا گویا دشمن کے ہمرنگ زمین دام ہے یعنی دوستی کے اوٹ بھرپور دشمنی۔

ناک میں پہنے سو نَت جیب خانی سلام لو جٹھانی، بڑے جیٹھ کی رانی

’جیب خانی نتھ‘ اب بھی قدیم حیدرآباد کے گھرانوں میں رائج ہے۔یہ ایک چھوٹے قسم کی نتھ ہوتی ہے جس کے دونوں طرف دوہیرے کی کنیاں ہوتی ہیں اور بعض لوگ قیمتی کنکر بھی بٹھاتے ہیں۔’جیب خانی نتھ‘ کی خوبی یہ ہے کہ اس میں دوموتی کھڑے ہوتے ہیں۔شعر کا مطلب یہ ہے کہ اے بڑے جیٹھ کی رانی!چھوٹی دیورانی کا سلام لو۔بڑی ہونے کا ثبوت یہ بھی ہے کہ تم جیب خانی نتھ پہنتی ہو اور ایک معنی یہ بھی نکلتے ہیں کہ تم بڑے جیٹھ کی رانی ہو‘چہیتی ہو‘ دیکھونا! تم جیب خانی نتھ پہنتی ہو‘ہم کوبھلا کہاں نصیب۔آپ کی خدمت میں مودبانہ سلام عرض ہے۔کہنے کو یہ ’دیورانی جٹھانی‘ کی نوک جھونک ہے لیکن اس طرح ’جیب خانی نتھ‘ کی تہذیب محفوظ ہوگئی ہے۔

دُلہن مری جائی، گھٹنیاں میں نرمائی الماس کے اگیارو منہ دیکھے نندائی

دیکھئے نرمائی کا قافیہ کتنا چست اور ایک دوسرے سے پیوست ہے۔شعر کا مطلب یہ ہے کہ میری بیٹی دُلہن کی نرمی کو تو دیکھو جیسے گھٹنے ہیں ہی نہیں۔یہ شرمیلی ادا نندائی یعنی نند کے خاوند کو اس قدر بھائی کہ اُس نے رونمائی میں الماس کے اگیارو(ہیرے کے چھلے) نذر کئے۔

پان کھاتی گوری، کتّھا نئیں سو بیڑہ کی دیئے جی ماں باپ پریت نئیں سو جوڑا

دکن میں یہ مثل مشہور ہے کہ اگر کوئی پان محبت سے کھلائے تو اُس کا منہ لال ہوجاتا ہے ورنہ جوں کا توں جیسے کوئی پتہ ّ چبارہا ہو۔یہاں شعر کا مفہوم یہ ہے کہ گوری پان تو کھارہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ کمبخت اس میں کتھّا ہی نہیں ڈالا گیا۔منہ نام کو لال نہیں ہوا۔یعنی شوهر کے ساتھ زندگی تو گزار رہی ہے لیکن بے رنگ‘ پھیکی‘جس جوڑے میں محبت نہ تھی بھلا ماں باپ کو ایسی بے جوڑ اَن میل شادی کرنے کی کیا ضرورت تھی۔یہ ایک بے زبان عورت کا صدیوں پہلے کا احتجاج ہے جو گیت کے بولوں میں ڈھل گیا ہے۔

اماں مری جائی گلبرگہ سے آئی سات مسالے خوشبو کے پلّو بھر کو لائی

گلبرگہ کے گیسودراز مصالحے ہندوستان گیر شہرت کے حامل ہیں۔اس شعر سے پتہ چلتا ہے کہ اُس زمانے میں بھی لوگ آج کی طرح ’تحفے تحائف‘ کے طور پر گلبرگہ کے مصالحے لے جاتے تھے۔اس طرح اس کی شہرت کی خوشبو دُور دُور تک پھیلتی تھی۔

اس شعر کا مطلب ہے اماں مری جائی یعنی بیٹی گلبرگہ سے آئی ہے اور سات قسم کی خوشبوؤں سے تیار کیا ہوا مصالحہ پلّو بھر کر یعنی بڑی مقدار میں بطور تحفہ لائی ہے۔ذرا دیکھو تو میری بیٹی کو مجھ سے کتنا پیار ہے۔

شادی بیاہ کا ایک گیت ہے۔

تین دمڑی کی مندل لائے چینی کٹوریاں کیا ناک لے کو بولنے آئے چینی کٹوریاں بولنے لگے تو نھاٹنے لگے چینی کٹوریاں

اس گیت میں سمدھنوں کو چینی کٹوریوں سے استعارہ کیا گیا ہے کیونکہ چینی کٹوری خوبصورت بھی ہوتی ہے اور نفیس بھی۔جب ثابت وسالم ہوتی ہے تو جل ترنگ بجتا ہے جب اُس میں بال آجاتا ہے تو کچرے میں پھینک دی جاتی ہے۔پھر وہ کسی کام کی نہیں رہتی۔سمدھنوں کے مزاج کی مناسبت سے چینی کٹوریاں‘ کتنی خوبصورت اورحسین تشبیہ ہے۔ جو پوشاک دولہا کے لئے لائی گئی ہے وہ دُلہن والوں کو پسند نہیں آئی۔یہاں تین دمڑی کا شملہ(مندل) کہہ کر تمسخر اُڑایا گیا ہے۔لفظ’نھاٹنا‘ دوڑنے کے معنی میں مستعمل ہے۔لفظ ’نھاٹنا‘ کومُلّا وجہی مصنف ’قطب مشتری وسب رس‘ اس طرح استعمال کرتا ہے۔

جو آیا جھلکتا سورج داٹ کر اندھارا جو تھا سوگیا نھاٹ کر

دکنی لوک گیت کے الفاظ جو آج مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں ایک زمانے میں ان کی ترقی یافتہ شکل تھی۔یہ اُس وقت کی بات ہے جبکہ عربی اور فارسی کے الفاظ نے اُردو کی جگہ نہیں لی تھی بلکہ اُس کا ماخذ ’برج بھاشا‘ تھی جو سنسکرت کے لفظ ’چھایہ‘ سے چھاؤں اخذ کرچکاتھا اور سورج کی جگہ سوریا سُرج اُچانے لگا تھا اور ’درشنا‘ دِسنا میں تبدیل ہوچکا تھا۔

دکنی لوک گیت ادب سے زیادہ زندگی کی طرف متحرک ہیں۔وہ حیاتِ انسانی کے معاملات سے بحث کرتے ہیں۔لوک گیت کوئی فوق الفطرت پری زادوں کی کہانیاں نہیں ہیں۔یہ ہمارے ہی جیسے گوشت وپوست رکھنے والے انسانوں کی آپ بیتیاں ہیں۔وہ اجتماعی سماجی شعور کی پوری پوری نمائندگی کرتے ہیں۔ان گیتوں کا رنگ ایلورا واجنتا کی تصویروں کی طرح پائیدار ہے۔ان گیتوں کے کہنے والوں نے قواعد کا سہارا لیا نہ اسناد کا بلکہ قواعد خود اُن کے ساتھ ہوگئی اور اُن کا فرمایا ہوا مستند ہوگیا.........

نوٹ: سلیمان خطیب نے قریہ قریہ گھوم کر بہت سارے دکنی لوک گیت جمع کئے تھے اوراُن سے متعلق ایک مقالہ بھی لکھنا شروع کیا تھا جو مکمل ہوتا تو یقینا ایک قابل قدر اور بسیط مقالہ ہوتا۔افسوس کہ بڑی جانفشانی سے اکٹھا کئے ہوئے ان گیتوں کی بازیافت نہیں ہوسکی البتہ سلیمان خطیب نے جو مقالہ ادھورا چھوڑا اس کو اس کتاب میں محفوظ کردیا گیا ہے۔

(غیر مطبوعہ)

٭ ٭ ٭