خاطب

26/دسمبر1922ء کو چٹگوپہ (معین آباد) ضلع بیدر میں جنم لینے والے سلیمان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ قدرت ان پربیک وقت نا مہربان اور مہربان ہے۔ اپنی شیر خواری کی سولہ ماہی مختصر عمر کے دوران محمد سلیمان کو یتیمی اور یسیری کے ناقابل بیان دکھ جھیلنے پڑے۔ قدرت کا عظیم انتظام اور طویل منصوبہ بندی ہوتی ہے کہ جن سے اسے دنیا میں عظیم کام لینا مقصود ہوتا ہے انھیں پہلے کسی غم سے آشنا کردیتا ہے۔ غم سے یہ آشنائی صرف منتخب بندوں کے حصے میں ہی آتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو غم سے نشاط کشید کرنے کے ہنر سے واقف ہوتے ہیں۔ غم ان کے لیے اکسیر حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ غالبؔ نے کہا تھا ؎

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے غم مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں

یہ شعر ننھے محمد سلیمان کی شخصیت پر صادق آتا ہے۔ رنج و غم میں کچھ تھوڑا سا فرق ضرور ہوتا ہے۔ رنج، دکھ اور تکلیف کے ذاتی احساس کا نام ہے جب کہ غم، اپنے رنج میں دوسروں کی تکلیف اور دکھ کی شمولیت کے بعد پیدا شدہ احساس کا نام ہے۔ غم کبھی کبھی ذاتی بھی ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ آفاقی ہوجاتا ہے۔ جب تک کہ یہ ذاتی رہتا ہے اس کا د ائرہ اثر محدود رہتا ہے لیکن جب یہ آفاقی ہوجاتا ہے تو پھر شاعر کا غم، ذاتی نہیں رہتا بلکہ یہ سب کا غم، زمانے بھر کا غم ہوجاتا ہے۔ غم، انسان کی شخصیت کو نکھارنے میں کاسمٹکس کا کام کرتاہے۔ جس کے پر سوز کانٹوں کی سوزش فن کار اپنے دل و دماغ پر ہر وقت محسوس کرتا رہتا ہے۔ یہی غم جب انگیز ہونا شروع ہوتا ہے تو فن کی تخلیق ہوتی ہے اور فن کار بے اختیار یہ کہہ اٹھتا ہے ؎

میں رستے کی پنتی ہوں دیپک ہوں فن کا یہ سارا اجالا ہے مرے سُخن کا
مِجے نئیچ پہچانے لوگانچ میرے میں انمول ہیرا ہوں دکھن کے کھن کا

اُمید کی کرنیں، نئی صبحوں کے خورشید نے اپنی پر نور ضیاؤں کے روپ میں گھپ اندھیروں کی دبیز چادروں کو پھاڑ کر ہی پھیلائی ہیں۔ سو انتہائی نا مساعد حالات میں محمد سلیمان سے سلیما ن خطیب بننے تک کے اس سارے عمل کے لیے درکار لازمی لوازمات قدرت نے انہیں اپنے ڈھنگ سے بہم پہنچانے شروع کیے۔ چنانچہ تنقید کے ذریعے اردو ادب کی حد بندی کرنے والے نقادوں کو یہ جان کر شدید حیرت اور صدمہ پہنچا ہوگا کہ جس زبان کو انہوں نے عام بول چال کی زبان قرار دیاتھا اس زبان میں اعلیٰ پائے کی شاعری خلق ہوئی۔ چنانچہ دکنی ادب کو محمد قلی قطب شاہ نے جس طرح اعزاز بخشا تھا اسی دکنی ادب کو کئی صدیوں بعد سلیمان خطیب نے اپنے اظہار کا وسیلہ بناتے ہوئے بہترین ادب خلق کیا اس طرح وہ اتنے مشہور ہوئے کہ جب جب بھی دکنی ادب کا ذکر آتا ہے سلیمان خطیب کی شاعری (جدید دور کے حوالے سے) لازم و ملزوم ہوجاتا ہے۔

ہوتا تو یہ آیا ہے کہ اردو ادب کے ناقدوں نے جب بھی تنقید لکھی ان کے نزدیک صرف سنجیدہ ادب ہی ادب رہا۔ جاسوسی ادب، مزاحیہ ادب کے تعلق سے ان کا نظریہ یہ رہا کہ اس میں زندگی کے ارضی حقائق نہیں ہوتے۔ حالاں کہ ایسا صرف رومانی ادب کے سلسلے میں ہوا ہے۔ جاسوسی ادب ہو کہ مزاحیہ ادب اس میں کرداروں کی مثالیت کے باوجود زندگی کے ارضی حقائق پنہاں رہے ہیں پتہ نہیں یہ بات کیوں کر ہمارے نقادوں کی زیرک نگاہوں سے پوشیدہ رہی۔ کچھ عرصہ پہلے ہمارے صف اول کے نقاد شمس الرحمن فاروقی نے اکبر الٰہ آبادی کی شاعری پر زر نقد صرف کرکے حق ادا کرنے کی بھر پور کوشش ضرور کی۔ فاروقیوں کے لیے یہ بات باعثِ افتخا ر ہو سکتی ہے مگر غیر فاروقیوں کے لیے یہ ناک بھوں چڑھانے کا نادر موقع ہے۔ پھر بھی کسی ناقد نے ایسا کرنے کی جسارت تو کی ہے۔

بات ہو رہی تھی دکنی کے ممتاز شاعر سلیمان خطیب کی۔یوں تو ڈاکٹر محی الدین قادری زورؔ او ران کے دیگر احباب نے قدیم دکنی ادب پر بہت کچھ لکھا۔ اردو کے اولین شہ پاروں کے بارے میں عرق ریزی سے معلومات فراہم کیں۔ لیکن بعد کو آنے والوں نے ان محققین کی تحقیق پر اکتفا کر تے ہوئے اپنے لیے پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کا سامان تو کیا لیکن دستیا ب اور موجودہ دکنی ادب پر قلم اٹھانے سے گریز کیا۔نتیجے میں دوسروں کے علاوہ دکھن کے کھن کے ہیرے کے ادب میں صحیح مقام کا تعین نہ کیا جا سکا۔

سلیمان خطیب کا نام نامی آج دکنی مزاحیہ ادب میں جس مقام پر ہے وہا ں تک رسائی کے لیے کسی بھی مزاحیہ شاعر کو شاید کافی پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔ کیوں کہ فن تو فن ہے لیکن نقادوں کے لیے یہ صرف funہے۔ حضر ت سلیمان خطیب کی شاعری پر استعارے کے حسین مسجع و دلکش پردے پڑے ہوئے ہیں جو تجسیم کے حسن کو مزید نکھارنے کا سامان بہم پہنچاتے ہیں۔یہ پردے دبیز بھی ہیں او ر مہین بھی۔ سلیمان خطیب نے ان سے حسب ضرورت کام لیا ہے۔ سلیمان خطیب کی شاعری کے مزاحیہ رنگ پر آخرمیں ان کا سنجیدہ رنگ غالب آجاتا ہے۔ ان کی طویل نظمیں جو مزاحیہ انداز سے شروع ہوتی ہیں طنز کے نوکیلے خاروں کی سوزش لیے ہوئے سنجیدہ عبرت آمیز اختتام کو پہنچتی ہے۔ رجائیت سلیمان خطیب کے کلام میں جا بجا پائی جاتی ہے ان کی نظم ”پہلی تاریخ“ کا یہ قطعہ ملاحظہ ہو ؎

دیکھو امرئی کے ہرے منڈوے میں کوئل بولے دھن مڑی اوڑ کو ہریالہ دوپٹہ ڈولے
بولو دُنیا کو ہنسے، جھوم کے بادل جھولے جھک کو آکاش میری دھرتی کے پاواں چھولے
جب بھی موڑ کا کوئی دھرتی سے نکل آئیں گا ہم غریباں کے پسینے کی قسم کھائیں گے

پہلی تاریخ کا یہ کردار شوہر مستقبل کی آس لے کر پر امید ہے کہ کبھی تو غریبوں کی محنت رنگ لائے گی اور کبھی تو ان کے حالات بدلیں گے۔ غریب کے لیے بیٹی کی شادی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ انہوں نے سماج کی ان بے ہودہ و بے جا رسومات پر کھل کر طنز کیا ہے۔ سلیمان خطیب کے مزاحیہ رنگ میں طنز کی تند و تیز زیریں لہریں کروٹیں بدلتی محسوس ہوتی ہیں۔ ان لہروں کی اُٹھان دیکھئے:

جی میں آتا ہے اپنی بچی کو اپنے ہاتھوں سے خود ہی دفنادیں
لال جوڑا تو دے نہیں سکتے لال چادر میں کیوں نہ دفنادیں

یہاں شاعر مایوسی یا قنوطیت کا شکار نہیں ہے بلکہ یہ خیالات ایک غیرت مندباپ کی عکاسی کر رہے ہیں کہ جہیز کے لالچی بھیڑیوں کے غول میں اپنی لخت جگر کو جھونکنے سے بہتر ہے کہ اسے موت کے حوالے کر دیا جائے اور اس کی قبر پر یہ بھی لکھ دیا جائے کہ اس کی موت کے ذمہ دار سرمایہ د ار ہیں جو خود مردہ ہیں اور انہیں زر کی ہوس نے مارڈالا ہے۔مزاح میں طنز کے پوشیدہ نشتر سے جو آہنگ پیدا ہو رہا ہے وہ نہ صرف ذوق مطالعہ کو تسکین پہنچا تا ہے بلکہ قاری کو یہ کہنے میں کسی بھی تامل سے روکتا ہے کہ یہ شاعری طنزیہ لب و لہجے میں کی گئی سنجیدہ مزاحیہ شاعری ہے۔ نظم”سانپ“ میں شاعر نے جہیز جیسی لعنت کے لالچیوں کے لیے سانپ کا ا ستعارہ استعمال کیا ہے۔سانپ کا یہ استعارہ صرف انھی ا فر اد کے لیے نہیں ہے بلکہ ہر قسم کا لالچ کرنے والوں پر صادق آتا ہے اس طرح یہ استعارہ سیع معنوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ جیسے ؎

خوب سوچو سمجھ کے بچی دو کاٹ کھانے کو سانپ آتے ہیں
روپ بھر کر کبھی فرشتوں کا گھر بسانے کو سانپ آتے ہیں
اچھے زیور میں اچھے کپڑوں میں اچھی کاروں میں سانپ آتے ہیں
گل مہکتے ہیں جب بھی گلشن میں ان بہاروں میں سانپ آتے ہیں
ہم نے منبر پہ سانپ دیکھے ہیں ہم مندر میں سانپ دیکھے ہیں
کیا بتائیں کہ اونچی کرسی پر کتنے زہریلے سانپ دیکھے ہیں
گھر کے اندر بھی سانپ دیکھے ہیں گھر کے باہر بھی سانپ دیکھے ہیں

مفاد پرستوں، ہوس خوروں اور لالچی مطلب پرستوں سے زندگی کا کوئی شعبہ خالی نہیں ہے۔ شاعر نے ان تمام عناصر کے لیے صرف ایک لفظ ”سانپ“ کو بطور استعارہ استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اس نظم کو ایک خوبصورت موڑ دیا ہے بلکہ اسے وسیع معنی بھی عطا کیے ہیں مزاحیہ انداز میں شروع کی گئی اس نظم کا اختتام بے حد سنجیدہ طرز پر ہوا ہے۔ سلیمان خطیب کا یہ منفرد اور دلآویز امتزاج ان کی ہر نظم میں ہمیں ملتا ہے۔بدلتی تہذیب اور ٹوٹتی بکھرتی اقدار اور نئی نسل کے ذہنی دیوالیہ پن پر سلیمان خطیب تڑپ تڑپ اٹھتے ہیں۔ نظم ”ہمارے بچے“ اسی بے چینی کا نتیجہ ہے جو شاعر کے دل میں موجزن ہے۔ صالح اولاد یقینا خوش بختی کی نشانی ہے۔ اولاد کی صالحیت تربیت اور اکل حلال سے عبارت ہے جس کی طرف ہمارے سماج نے آنکھیں موند رکھیں ہیں۔ بہتر سے بہتر زندگی کے حصول کی تگ و دو میں ہم نے اولاد کی تربیت سے روگردانی کی ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شاعر کہہ رہا ہے:

بچوں کومیرے یارب جینے کا تو ہنردے آنکھیں تو دی ہیں تو نے آنکھوں میں کچھ نظر دے
بیٹی ہو چاند بی بی بیٹا ہو ٹیپو جیسا ورنہ تو میرے مالک،ماؤں کو بانجھ کر دے

سلیمان خطیب نے جہاں مختلف سماجی مسائل کو اپنے موضوعات بنایا وہیں انھوں نے وطن دوستی کے جذبات سے بھی اپنی شاعری کو رنگا ہے ؎

ہر بات سیدھی سادی گیتا کا پاٹھ جیسے گوتم کو گفتگو ہے پیارا وطن ہمارا
خسرو کے گیت جس میں تلسی کے پیارے دوہے اک پیار کا سبو ہے پیارا وطن ہمارا

یا پھر یہ نظم

ہمالہ کی چاندی پگھلتی رہے میرے گھر میں گنگا اُبلتی رہے
یہ گاندھی کی گوتم کی پیاری زمین ہمیشہ جواہر اگلتے رہے
اہمسا کا اب بول بالا رہے ترنگے کا ہر سو اجالا رہے

اس مضمون کے آغاز میں ہم نے اردو نقادوں کے حوالے سے چند باتیں کہی ہیں۔ مگر سلیمان خطیب نے ایک پوری نظم ہی ان نقادوں کے نام معنون کی ہے جو ادب میں درجہ بندی کے قائل ہیں۔ اپنی نظم ”نقاد“ میں خطیب صاحب کہتے ہیں ؎

لے کو بیٹھیں سب کتاباں ہنڈیاں بھر کو چو طرف بھئی کو دیکھو پیٹ چیرو نئیں نکلتا اک حرف
چار مضموناں اڑا کو چار حرفاں جوڑ کو اک نوا گھر بنا رئیں سو گھراں توڑ کو
اب فرق کرتئیچ نئیں اپنے میں ہور سقراط میں ایک میٹرک کیانکالیں آٹھ نو اقساط میں

غرض سلیمان خطیب کا کلام ہمارے سماج کی ارضی حقیقتوں کا آئینہ دار ہے۔ انھوں نے ہندوستان، اُس کے مسائل، غریب، تعلیم کی ناقدری، بدلتی تہذیبوں اور اقدار کی شکست و ریخت کی باتیں کی ہیں۔ جو زبان انھوں نے اپنے اظہار کے وسیلے کے لیے اپنائی وہ عام بول چال کی زبان ہے۔ عام بول چال کی زبان جس میں ادبیت اور سنجیدگی کم کم ہوتی ہے کو سلیمان خطیب نے اپنے خوبصورت استعاروں میں استعمال کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ زبان چاہے جو بھی ہو اظہار کا سلیقہ چاہئے اور اسے برتنے کا ہنرآنا چاہیے۔ سلیمان خطیب نے عام بول چال کی زبان کو زندگی میں قید کرکے اسے عمر جاوداں عطا کی ہے۔ اس فن میں ان کا کوئی ثانی نہیں اور وہ یہ کہنے میں بالکل حق بجانب ہیں ؎

ڈُبتے سورج کا نور ہوں دیکھو اپنی غربت کی شام ہوں باشا
دم غنیمت ہے میرا دکھن میں اپنے فن کا امام ہوں باشا

(غیر مطبوعہ)

٭ ٭ ٭