میرے ابّا سب کے شاعر
آج جبکہ میں خطیب نوازوں کے کہنے پر مضمون لکھنے بیٹھا ہوں تو میرے ذہن میں یادوں کے لا تعداد ستارے جگمگانے لگے ہیں۔ ان یادوں میں آنکھوں میں سمندر جگانے والی بڑی یادیں بھی ہیں اور چھوٹی بھی، چھوٹی مگر تیز اور نکیلی سیدھے دل میں اتر جانے والی۔ ابّا کا درس زندگی محبت تھا۔ وہ زندگی بھر پاؤں میں کانٹے، دل میں چھالے اور آنکھ میں آنسو لیے محبت کے پھول بانٹتے رہے۔ وہ اپنوں سے بھی محبت کرتے تھے اور غیروں سے بھی، دوستوں کو بھی چاہتے اور دشمنوں کو بھی۔ اس بے پناہ محبت کے صلہ میں، انہیں کیا ملا اس کی انھیں قطعی پرواہ نہیں تھی۔ ان کے ذہن پر تو بس یہی خیال مسلط تھا کہ قدرت نے بچپن میں ان سے جو خزانہ چرایا ہے اس خزانے کو خوب خوب لٹایا جائے۔ انھوں نے کبھی کسی سے خصومت نہیں رکھی۔ وہ زندگی بھر عفو و درگذر پر کار بند رہے۔ اپنے سخت ترین مخالف اور دشمن کو بھی معاف کردیتے اور ضرورت پڑنے پر اس کی ہر قسم کی مدد کرتے۔ اس سلسلے میں یہاں میں ایک شخص کا ذکر کروں جو بلا سبب ان سے کدورت رکھتا تھا اور نہ صرف ذہنی صدمات پہنچایا کرتا بلکہ جسمانی صدمہ پہنچانے کے مواقع تلاش کرتے رہتا تھا۔ مگر یہی شخص کسی قانون شکنی کے جرم کا مرتکب ہوا تو ابّا نے ضمانت دلا کر اسے پولیس کی حراست سے چھُڑایا، ایسے کئی واقعات ہیں جن سے ان کی شرافت اور نیک نفسی ظاہر ہوتی ہے۔
شعراء کا ایک مخصوص حلقہ ابّا کا مخالف تھا۔ ہمعصروں میں آپسی چشمک کب نہیں رہی ہے۔ غالبؔ اور ذوق کی آپسی چشمکیں ادبی دنیا میں مشہور ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کی تاک میں رہتے تھے۔ اگر ذوقؔ نے غالبؔ کے خلاف کچھ کہہ دیا تو غالبؔ بھی جواباً آگے بڑھ کر وار کرتے اور اگر کبھی غالبؔ کچھ کہتے تو ذوقؔ اس کا منھ توڑ جواب دیتے اس کے برعکس ابّا نے اپنے ہم عصروں کی کارروائیوں کا نہ کبھی اثر لیا اور نہ ہی کبھی کسی سے اس کا ذکر کیا۔
ابّا کے مخالفین مشاعروں کے Organizers پر دباؤ ڈالتے کہ انہیں مدعو نہ کریں۔ بعض دفعہ مخالفین کے مشاعروں کے Organizers کے نام لکھے ہوئے خطوط ابّا تک پہنچ جاتے، اس کے باوجود بھی ابّا ان لوگوں سے دوستی اور محبت کا رشتہ قائم رکھتے اور ان لوگوں پر یہ ظاہر نہیں کرتے کہ وہ ان کی دوستی میں چھپی ہوئی دشمنی سے واقف ہو چکے ہیں۔ ابّا نے اپنی یا کسی دوسری شخصیت کے لیے لڑائی نہیں لڑی۔ زبان کے نام پر فتنہ نہیں کھڑا کیا۔ وہ ہر زبان کی ترقی کو اس کا حق سمجھتے تھے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ ایک زبان کی ترقی سے دوسری زبان متاثر نہ ہو اور خود بھی اس پر عمل کرتے تھے۔ وہ ساؤتھ انڈیا اردو اکاڈمی گلبرگہ کے بانی تھے۔ کرناٹک ہندی پرچار سبھا (گلبرگہ) کے نائب صدر اور مراٹھی ساہتیہ منڈل گلبرگہ کے رکن تھے۔ ابّا کی شاعری ان کے بلند کردار اور ان کی اعلیٰ شخصیت کا آئینہ ہے۔ ان کی شاعری میں بات کونسی ہی ہو اور جہاں سے بھی شروع ہو بالآخر جا پہنچتی ہے۔ انسانیت کے اونچے اصولوں پر ابّا میں بڑے شعراء کی سی نازک مزاجی نہیں تھی۔ شعر کہنے کے لیے وہ کبھی خاص ماحول کے تابع نہیں تھے ۔ وہ خلوت میں بھی شعر کہہ سکتے تھے اور شور و شغب میں بھی، دوران سفر، بازار میں، آفس میں چلتے پھرتے نظمیں ہوجاتیں۔ اور چلتے پھرتے ہی اپنے اطراف کے ماحول سے نظموں کے موضوعات اٹھا لیتے مثلاً ’’ہراج کا پلنگ‘‘ ہمارا اپنا ہے اس نظم میں پلنگ کی جو تصویر کھینچی گئی ہے وہ بالکل ہمارے پلنگ کی ہے۔ ان کی ایک اور نظم ہے ’’یتیم خانہ کے بیٹے‘‘ یہ یتیم خانہ ہمارے گھر کے پیچھے تھا۔ اسی یتیم خانہ میں ایک صاحب ملازم تھے اور ان صاحب کا عہدہ ہاؤز فادر کہلاتا تھا۔ نظم ’’لولی فادر‘‘ اسی سے بنی ہے۔ ’’تلاش گمشدہ‘‘ میں جس نوجوان کا حلیہ بیان کیا گیا ہے وہ ان کے ایک پرستار کا ہے۔ ’’پڑوسی نامہ‘‘ ہمارے ایک پڑوسی کا اعمال نامہ ہے۔ در حقیقت اس نظم کی محرّک ہند چینی جنگ ہے۔ اخباری اطلاع بھی ان کی نظم کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب ڈاکٹر برنارڈ نے دل کی تبدیلی کا آپریشن کیا تو انہوں نے ’’دل کی تبدیلی‘‘ لکھی۔ امریکی خلا باز نے چاند کو فتح کیا تو ’’اپالو نمبر ۱۱‘‘ لکھی۔ راشن کی دکان میں ایک بچے کی پیدائش کی خبر پڑھ کر ایک چنبیلی کے منڈوے تلے کی پیروڈی ایک غلے کی اونچی دکان کے تلے لکھی۔ یہ پیروڈی بہت مشہور ہوئی۔ اس پیروڈی کے بعد مخدوم نے اپنی نظم سنانی چھوڑ دی تھی، جناب محمود عقیل (نانڈیڑ) بیان کرتے ہیں، کسی مشاعرے میں ابّا اور مخدومؔ کے ساتھ وہ بھی شریک تھے۔ سامعین نے جب مخدومؔ سے ’’چارہ گر‘‘ کی فرمائش کی تو مخدوم نے نظم سنانے سے پہلے ابّا سے وعدہ لیا کہ وہ ان کے بعد اپنی پیروڈی ’’بیچارگی‘‘ نہیں سنائیں گے۔ مشاعروں میں ابّا کی ہر نظم تہلکہ مچا دیتی، پسند اپنی اپنی مختلف لوگ مختلف نظموں کی فرمائش کرتے مگر ابّا کو اپنی نظم ’’پگڈنڈی‘‘ بہت پسند تھی اور واقعی یہ ان کا شاہکار ہے۔ یہی وہ نظم ہے جو انہیں انگریز شاعر ورڈز ورتھ کے مقابل لا کھڑا کرتی ہے اس نظم کا روسی زبان میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے۔
نظم لکھنے کا ان کا ایسا طریقہ تھا وہ شعر لکھتے تھے میں نے کبھی انہیں قلم اور بیاض لے کر شعر لکھتے نہیں دیکھا وہ دل ہی دل میں شعر کہتے اور دماغ میں محفوظ رکھتے تھے اور سب سے اہم بات یہ کہ خیالات کے بہاؤ میں وہ قافیہ، ردیف، اور بحر کی پابندیوں کو حائل ہونے نہ دیتے تھے۔ پہلے خیال کے پرندے کو الفاظ میں باندھ لیتے اور جب نظم مکمل ہوجاتی تو بے وزن اشعار کاغذ پر لکھ کر برابر کرلیتے۔ مگر ایسا بہت ہی کم ہوتا۔ زیادہ تر خیالات شعر کی شکل میں ڈھل کر نکلتے۔ انہیں اپنا سارا کلام زبانی یاد تھا شاید ہی کبھی انہوں نے لکھ کر پڑھا ہو۔
ابّا کے برجستہ اور فی البدیہہ کہے ہوئے اشعار بھی خاصہ وزن رکھتے ہیں۔ میرے ایک ماموں بارہ سال سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ بارہ سال کے اس عرصے میں وہ ایک بار بھی ہندوستان نہیں آئے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے عید الفطر کے موقعہ پر انہیں عید کارڈ بھیجا جا رہا تھا، جب میں نے جیب سے قلم نکالا اور یہ اشعار لکھ دیے:
اس کے بعد انہوں نے ہر شخص کو بھیجے جا رہے عید کارڈ پر اشعار لکھے جن میں مکتوب الیہ کے نام بڑی خوبصورتی کے ساتھ جڑے گئے تھے۔
ظرافت، حاضر جوابی، بذلہ سنجی ابّا کے خمیر میں شامل تھی، کتنی ہی فکر و پریشانیاں ہوں، ماحول کتنا ہی کھنچا کھنچا ہو یا سنجیدہ ہو ان کی ظرافت کی حِس متاثر نہ ہوتی۔ شدید حیرت، پریشانی، اور ہیبت کے عالم میں بھی جب کہ آدمی کے حواس معطل ہوجاتے ہیں، ان کی رگِ ظرافت پھڑکی، ان کی اس ظرافت نے بسترِ مرگ پر بھی ساتھ نہ چھوڑا۔
عثمانیہ ہاسپٹل (حیدرآباد) میں جہاں ابّا نے زندگی کے آخری دن گزارے۔ ایک سسٹر نن آیا کرتی تھی۔ نن سسٹرز خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیتی ہیں اور اس خیال سے کہ اس سن میں شادی مانع ہوگی وہ شادی نہیں کرتیں، جب کسی صاحب نے اس سے (Nun) کی وضاحت چاہی تو ابّا جو اس گفتگو سے بے تعلق آنکھیں بند کیے لیٹے تھے یکایک کہہ پڑے (Nun for None)۔
ابّا نے ایک مجاہد کی زندگی گزاری، بہادر سپاہی کی طرح حالات سے لڑتے رہے ۔ ابھی صرف چھ ماہ کے تھے کہ پہلے ماں اور پھر باپ بھی چل بسے اور اس چھ ماہ کی عمر سے ہی ابّا تمام عمر بے جگری کے ساتھ حالات سے لڑتے رہے۔ البتہ زندگی کے آخری حصہ میں وہ بہت تھک گئے تھے۔ زمانے کے تلخ و ترش حادثات سہتے سہتے وہ اندر سے بری طرح ٹوٹ پھوٹ گئے تھے ان کا ریزہ ریزہ وجود محض ہوا کے ایک جھونکے کا منتظر تھا اب صرف ایک بہانے کی تلاش تھی اور یہ بہانہ بھی مل گیا۔ یرقان کے روپ میں۔
لوگ کہتے ہیں گلشنِ دکنی کا بلبلِ آتش نوا خاموش ہو گیا۔ دکنی کی مانگ اجڑ گئی۔ دکنی شاعری کا آفتاب غروب ہو گیا۔ سلیمان خطیبؔ کے گزر جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی نہیں بھر سکتا۔ میں سوچتا ہوں ایک شاعر، ایک فنکار پھر پیدا ہو سکتا ہے، دکنی کو ایک نیا مسیحا مل سکتا ہے، مگر مجھے میرا باپ نہیں مل سکتا!!!!!