کیا خوب زمانہ ہے
راجہ کی آنکھ سے ٹپ ٹپ آنسو گررہے تھے۔ ایک ہاتھ نے دیا اور دوسرے ہاتھ نے لیا مگر اس طرح سے کہ ایک ہاتھ کی خبر دوسرے ہاتھ کو نہ ہوئی اور آج شاعر چیخ رہے ہیں کہ ع
”دانہئ گندم“ اس لئے عطا نہیں ہوتا کہ کہیں یہ شاعر اعظم بھی حضرت آدم کی طرح ”جنت ارضِ دکن“ سے کوچ نہ کرجائیں اورہماری سرزمین کو کسی بڑے شاعر کی تربت سے محروم نہ ہوجانا پڑے تاکہ دُنیائے سیاست کے تاجدار آ آکر پھول چڑھاسکیں۔ اُس زمانے میں فقیر کو ہم ڈھونڈتے پھرتے تھے‘اب فقیر ہم کو ڈھونڈھتاپھرتا ہے۔اُس زمانے کا فقیر دیتا تھا،اس زمانے کا فقیر لیتاہے اور لینے کی بھی نئی نئی ترکیبیں سونچتا ہے جس کو اصطلاح میں آرٹ یا فائن آرٹ کہا جاسکتا ہے۔جیسے بس کے کرایہ کو تین پیسے کم ہیں آپ مدد فرمایئے۔قرآن مجید کا ترجمہ گونڈ زبان میں ہورہا ہے۔ ’گیتا‘ کے نسخے چھپوانے ہیں‘ اخبار نکل رہاہے، گنگا کے کنارے جہاں رام لچھمن نے پانی پیا تھا،رام مندر تعمیر ہورہا ہے، مہاجرین سیلاب زدہ ہیں،گؤرکھشالہ بنایا جارہاہے اسکول کی بلڈنگ تعمیر ہورہی ہے،امتحان کی فیس دینی ہے،کتابوں کے لئے،فلم تیار کرنی ہے جس کی پوری آمدنی گاندھی فنڈ میں دی جائیگی وغیرہ وغیرہ۔اگر آپ کچھ نہ دیں تو پھر وہ آپ سے لے لیتا ہے خواہ آپ دن کے اُجالے میں ہوں یا رات کے اندھیرے میں‘ تنہا ہوں یا بھرے بازار میں۔لوٹتا بھی خود ہے اور ہمدردی بھی خود کرتا ہے۔ بیک وقت درد بھی ہے دوا بھی،بے درد بھی ہے ہمدرد بھی۔وہ زمانہ’گل وبلبل‘ کا زمانہ تھا،تاج محل کا زمانہ تھا،ایلورا اجنتا کا زمانہ تھا۔یہ زمانہ ائٹم بم اور ہائیڈروجن بم کازمانہ ہے۔ ہیرو شیما بسائے نہیں جاتے بگاڑے جاتے ہیں۔اس زمانے میں بلبل کو پنجرہ میں رکھا جاتا تھا اور آج شاعروں کو رکھا جاتا ہے۔شاعر چیختا ہے‘ صیاد خوش ہوتا ہے۔ داد طلب نگاہوں سے دُنیا کی طرف دیکھتا ہے۔ ع
یہ سفید سفیدلمبے کانوں والے کازمانہ ہے۔ یہ اس کا زمانہ ہے جس کی کسی زمانے میں قدر نہ ہوئی۔ یہ صرف دھوبی کا تھا کسی انسان کا نہ تھا۔آج کے زمانے نے پست کردہ نسل کوابھارا ہے۔کیا خوب کِیا ہے۔پہلے اُستاد پڑھاتا تھا طالب علم پڑھتے تھے۔ اب شاگرد پڑھاتا ہے اُستاد پڑھتے ہیں۔شاگرد سگریٹ پیتا ہے اُستاد منہ پھیرلیتا ہے۔ اگر منہ نہ پھیرے تو ہڑتال کی جاتی ہے‘ استاد کا دانہ پانی بند کردیا جاتا ہے،مرغا بٹھایا جاتا ہے۔صرف اُس کو ہی نہیں اُس کے سارے خاندان کو۔
مجھے اُس زمانے پر بڑا ہی فخر ہے کیونکہ اُس زمانے میں بادشاہ کا بیٹا بادشاہ ہوتا تھا اس زمانے میں بادشاہ کا بیٹا فقیر اور فقیر کا بیٹا بادشاہ ہوجاتا ہے جیسے گوتم بدھ فقیر ہوگیا اور ہٹلر بادشاہ۔اُس زمانے کا بادشاہ جنگ سے توبہ کرلیتاتھا،آج کا خوش ہوتا ہے جیسے اشوک اعظم اور آیزن ہوور۔اس زمانے کے نقاد اور ادیبوں وشاعروں کا مزاج بھی بدلا ہوا ہے جیسے اگلا نقاد زیدؔ کے بارے میں لکھتا تو یوں لکھتا”حضرت زید“ نے کتاب العجائب”عرف“ خزینہئ قدرت“ پر کتنے دُرِشہوار لٹائے ہیں جہاں جہاں انعام پائے ہیں وہاں استاد انہ ہاتھ بھی دکھائے ہیں وغیرہ۔آج کا نقاد یوں لکھے گا”زیدؔ بھرپوراور جاندار نگاہ انتقاد کا حامل ہے۔تنقید کا رنگ ہلکا بھورا ہے اس نے”کتاب العجائب“ کو تحت الشعور کی آنکھ سے دیکھا ہے جس میں لاشعوری جھلکیاں ہیں۔اس کے داغ دھبّوں کو اپنے لمبے لمبے تیز ناخنوں سے کھرچ کر ادب کو مدارِ ادب کے گِرد گھمادیا ہے جس سے نئے نئے زاویے اُبھر گئے ہیں۔“
آج کے افسانہ نگار حقیقت اور واقعہ نگاری کی طرف مائل بہ پرواز ہیں۔”شب رنگ“ جوان ہے لیکن ذات کی حبشن،سنگِ اسود کی تراشی ہوئی چٹان۔ بھرپور رانوں پر چپڑچپڑ تیل ملتی ہے اور بیٹھنے میں بڑی بے ترتیبی سے بیٹھتی ہے اکثر ساڑی کا نچلا پرت کھل کھل جاتا ہے۔“
شاعروں نے روایتی شاعری چھوڑ دی ہے کچھ اس قسم کی شاعری سے شغف فرمارہے ہیں۔
جدید پودا
ایک ادیب دوسرے ادیب کی تواضع کرتا تو بیچارے احسان سے دُہرے ہوئے جاتے تھے۔مولانا،آپ نے تکلیف فرمائی،مہاراج آپ کی نوازشات نے تو خادم کو بندہئ بے دام بنالیا ہے اور آج کچھ اس قسم کی گفتگو ہوتی ہے۔”سالے چائے پلائے گا کہ نہیں۔بیٹا! اب شان کی مت بولو،جوتے مار کر پیسے نکال لوں گا۔“
ایک دفعہ غالبؔ نے اچھا سا عبا پہن رکھا تھا کسی نے کہا”ماشا اللہ کیا خوب عبا ہے“ نجم الدولہ دبیر الملک نے فوراً عبا اُتار کراس کو دیدیا اور کہا ”بہ بخشم“ اور آج ایک ادیب دوسرے ادیب کاکوٹ پہن کر کہہ رہا ہے۔”دیکھ سالے! تیرا کوٹ مجھے کیسا سج رہا ہے،کمرہ نمبر۷۱ حیراں ہوجائے گا مگر کسی سے بولنا مت ورنہ جوتے ماروں گا۔“مگر بڑے باپ کا بیٹا ایک چھوٹا سا کوٹ بھی نہیں بخش سکتا۔پھر بڑے باپ کا بیٹا عرض کرے گا”غریب فیضی اور سرکار کے ساتھ میں نے شراب پی۔رات’بدر ِمنیر‘ کے پاس گزاری۔ حرام زادی گاتی خوب ہے لیکن ہے’خول‘۔
پہلے کی جنگ سپاہیوں کی جنگ تھی،بہادروں کی جنگ تھی، میدان کی جنگ تھی جس میں صرف سپاہی مارے جاتے تھے ایک میدان مارتا تھا ایک میدان ہارتا تھا اور آج کی جنگ میں سپاہی بچتے ہیں میدان محفوظ رہتے ہیں۔ شہر برباد ہوتے ہیں۔ بچے،بوڑھے،عورتیں موت کے گھاٹ اُتارے جاتے ہیں۔ ماں کی چھاتیاں سوکھ جاتی ہیں۔بچے کمھلاجاتے ہیں مرجاتے ہیں۔کچّی دھان کی بالیوں میں سوندھے دودھ کی بجائے بارود کی بو آنے لگتی ہے۔پھر قاتلوں کے بازو شل ہوجاتے ہیں تھک جاتے ہیں۔ عوام مجروح شیر کی طرح بپھر کر جب آگے بڑھتے ہیں تو یہ خونخوار بھیڑیئے گھبراکر امن کا پھریرا فضاء میں کھول دیتے ہیں اور چور خود’چور چور‘ پکارنے لگتا ہے کیا خوب زمانہ ہے!زمانہ زندہ باد۔