خطوط (شاہین و تنویر کے نام)
شاہین سلمہ‘ و تنویر سلمہا! دُعائیں
میں ۹/ ستمبر۳۷۹۱ء رات کے ۰۳: ۸ بجے حیدرآباد سے نکلا۔میرے ساتھ ڈاکٹر رفعتؔ بھی ورنگل تک تشریف لائے تھے۔مجھے حیدرآباد میں ریزرویشن (دہلی تک)مل گیا ورنہ بڑی تکلیف ہوتی کیونکہ ٹکٹ دینے والے ’کلیم صاحب‘ ہمارے پرستار نکلے۔ایک سکھ جوڑا ہمارے مقابل کی سیٹ پرآل واولاد کے ساتھ اودھم مچائے ہوا تھا۔کافی نیند آئی۔میرے ساتھ دوحافظ بچے جو بی. اے اور بی. کام میں پڑھ رہے ہیں حیدرآباد سے دہلی آئے۔وہ قرأت کے مقابلہ میں ملیشیا جارہے ہیں۔انورؔ صاحب حیدرآبادی واڑی والے میرے ڈبہ میں تھے۔کافی ہاتھ پاؤں دباتے رہے۔خدمت کرتے رہے۔دہلی۹/۱۱ کی صبح ۶ بجے پہنچا۔مجتبیٰ حسین اسٹیشن پر نہیں آئے۔انور صاحب نے حمالی کاکام کیا۔ہم لوگوں کے ہجوم کو چیرتے پھاڑتے اس بھاگتے نوجوان کے پیچھے ہولئیے۔ ٹکٹ چیکر نے دوڑ کر ہمارے ہاتھ سے ٹکٹ چھین لیا۔ہم دیکھتے رہ گئے۔واقعی ہم کو ٹکٹ دینا تھا...؟ ایک آٹو رکشا میں حاجی ہوٹل پہنچے۔رکشے کو(۳) روپئے دیئے گئے۔مجتبیٰ حسین کو ٹیلیفون کیا گیا۔ اس کو ٹیلگرام ملا نہ خط...! اچانک ہم کو یاد آگیا کہ ہم نے ٹکٹ توجموں (کشمیر) تک لیا تھا صرف گیٹ پر بتادینا کافی تھا۔ہم نے حوالے کردیا۔بہت پریشان ہوئے ہم اور مجتبیٰ حسین اسٹیشن بھاگے”آہ وزاری“ کی مگر سب بیکار۔20روپئے تباہ ہوگئے۔غلطی کا خمیازہ بھگتے۔اس دوڑ بھاگ میں اور ۶ روپیہ خرچ ہوگئے۔
شاذ تمکنت ہوائی جہاز سے آرہے ہیں۔میں ۱۱/۹/۳۷ ء کو جموں نہ جاسکا۔مجھے جموں کے لئے ریزرویشن نہیں ملا۔بیٹھنے کے لئے جگہ بھی نہیں تھی۔(۶۱) گھنٹے کا سفر ہے۔مجبوراً آج۲۱/۹/۳۷ء کو شب ۹ بجے کی گاڑی سے جارہا ہوں کیونکہ مجتبیٰ حسین کی کوشش سے آج بیٹھنے کی سیٹ مل گئی ہے۔
آج صبح صوفی سرورؒ کی درگاہ پر حاضری دی۔یہ درگاہ جامع مسجد کے پاس ہے۔ ایک آٹو لے کر جنتر منتر،راشٹرپتی بھون،لال بہادر شاستری کا گھر،گاندھی سمادھی اور ابوالکلام آزاد کا مزار۔پھر لال قلعہ تفصیل سے دیکھا۔دہلی میں بلا کی گرمی تھوڑی تھوڑی دیر میں پسینے سے کپڑے بھیگ جاتے ہیں۔صبح فجر کے وقت ہلکی سی بارش ہوئی۔ذراسی نمی آئی،سنا کہ کشمیر کا موسم بہت اچھا ہے۔ابھی سردی شروع نہیں ہوئی ہاں جشن بہاراں ہے۔
یہاں کھانا بہت مہنگا ہے۔پانچ روپیہ میں ایک بار کھانا ہوتا ہے۔کرایہ ہوٹل روزانہ گیارہ روپیہ مگر مجھے تو صرف ۶ روپئے دینے پڑتے ہیں۔یہ ایک معمولی ہوٹل ہے‘ا ب تھوڑی دیر سے مجتبیٰ حسین آجائیں گے تو میں ریلوے اسٹیشن جاوں گا۔
کل عزیز قیسی آئے تھے۔وہ ایک فلم بنارہے ہیں۔سرکار سے ۵ لاکھ روپیہ ملا ہے۔ماہنامہ تحریک کے ایڈیٹر سے ملے۔مخمور سعیدی ہیں۔واپسی میں ہمارا اہلیانِ دہلی کی طرف سے استقبال کرنے والے ہیں۔جس کے روحِ رواں حضور مجتبیٰحسین ہیں۔اعجاز صدیقی مدیر شاعر کل ہوائی جہاز سے کشمیر آرہے ہیں۔ان کی بیگم بھی ساتھ ہیں۔ضعیفی کا سہارا۔
یہاں بھینس کا گوشت خوب زوروں پر چلتا ہے بلکہ بھاگتا ہے۔مجھے گھن آتی ہے البتہ ساجدہ بیگم نے توشہ اچھا رکھا ہے۔روغنی روٹیاں‘شامی کباب‘گوشت کا آچار‘آم کا آچار‘ ابلے ہوئے انڈے۔یہ کل بھی چلیں گے۔جموں سے کشمیر کا سفر(۸۱) گھنٹے ہے یہ بڑا مشکل ہے۔ہوائی جہاز سے جانے کا ارادہ ہے۔کرایہ Rs.70/-روپئے ہوگا۔اب متین کی صحت کیسی ہے۔مجھے نہ معلوم کیوں پریشانی ہے۔ڈاکٹر کے پاس بھیجو۔
تمہاری امی کو دوا کھانے کے لئے کہو۔میں ۲۲/ ۹ تک گلبرگہ آجاؤں گا۔عزیز قریشی آل انڈیا ریڈیو کشمیر کے پتہ پر خط لکھ سکتے ہو۔مجتبیٰ حسین کا پتہ تو گھر میں ہوگا۔پھر بھی لکھتا ہوں احتیاطاً۔
آمنہ ابوالحسن
62پٹوڈی ہاوس،نئی دہلی۔فون نمبر 381308
بفضلہ اب تک طبیعت ٹھیک ہے۔حیدرآباد میں نسیم آئی تھیں اورحسن علی صاحب بھی ملے۔نسیم کی صحت ٹھیک ہے۔بچی بھی اچھی ہے۔ذرا اطمینانِ قلب ہوا۔شمیم کیسی ہیں؟کیا شیریں پاشاہ آئی تھیں۔
اچھا خدا حافظ
سلیمان خطیب
حواشی و وضاحتیں:
- شاہین: فرزند سلیمان خطیب
- تنویر: دختر سلیمان خطیب
- ساجدہ بیگم: ہمشیرہ نسبتی
- نسیم، شمیم: دختران سلیمان خطیب
- تحسین: فرزند سلیمان خطیب