خاطب
سری نگر، کشمیر ۵۱/۹/۳۷

میرے پیارے بچو! شاہین، تنویر، تحسین!
دُعائیں!

میرا ایک کارڈ دلی سے ملا ہوگا۔ایک تفصیلی خط بھی جو دلی میں لکھا گیا تھا اور سری نگر سے پوسٹ کیا گیا ہے۔بلاوجہ ہم اخباری اطلاعات سے گھبرا گئے۔دلی میں قیامت کی گرمی ہے۔صرف بشرٹ میں پھرتے رہے اور دوپہر میں بنیان سے پنکھا لگاکر سوگئے۔

میں ۱۱/۹/۳۷ کی صبح دلی پہنچ گیاتھا۔ٹکٹ غلطی سے گیٹ پر دیدیا تھا۔بیس روپے کا نقصان ہوگیا۔

۴۱/ ۹/ ۳۷ کی سیٹ جموں کے لئے ریزرو کروالی گئی صرف بیٹھنے کی حد تک۔رات میں ۸ بجے آٹو رکشہ سے نئی دہلی کے اسٹیشن پر آگیا۔صرف1-70بلحاظ میٹر دیئے گئے۔گزشتہ ۳ روپئے لیا تھا۔آٹو رکشہ والے بڑی تکلیف دیتے ہیں۔قلی صاحب ٹرین میں سامان رکھنے کے تین روپے مانگ رہے تھے مجبوراً ہم نے کاندھے سے سامان لٹکایا اور چلے گئے۔دیکھتا ہوں مجتبیٰ حسین ایک بچی کو جس کی عمر ڈھائی سال ہے گلے سے چمٹائے میرا انتظار کررہے ہیں۔ٹرین آئی جگہ مل گئی۔کیونکہ پہلے ہی سے ہمارا نام فہرست میں ٹائپ تھا لیکن ڈبہ کے لوگ بھی شریف تھے۔ایک صاحب اُٹھ کر چلے گئے اور ہم کو سونے کا موقع مل گیا۔مجتبیٰ حسین ڈبہ کے لوگوں کی تھوڈی کو ہاتھ لگالگا کر کہہ رہا تھا۔”اس آدمی کا خیال رکھو۔یہ ہندوستان کا بڑا شاعر ہے کشمیر جارہا ہے۔اس کا نام سلیمان خطیبؔ ہے۔دکنی میں اس کا جواب نہیں۔اس کو وقت پر کھانا کھلاؤ، دوا کھلاؤ‘یہ بھول جاتاہے۔ابھی دلی سے جموں کا ٹکٹ بھول گیا۔پھر دوسرا لیا ہے۔“ میں شرمندہ ہورہا ہوں۔

پونہ کا ایک نیا شادی شدہ جوڑا میرے سامنے بیٹھا ہوا ہے ہنی مون کی خاطر سری نگر جارہا ہے یہ لوگ کچھ کچھ اُردوبولتے ہیں۔خاوند بنک میں نوکر ہے۔ہپّی لڑکا ہے ہپّن لڑکی ہے۔لنگی لگائی ہوئی، بال بکھرے،ہتھیلی برابر چوڑی عینک ہے۔بار بار مجھے کہتے ہیں۔”تم آرام کرنا‘ اب سوجانا کوئی فکر نا کرنا‘اَم جاگے گا۔گاڑی روانہ ہوگئی۔مجتبیٰ ہاتھ ہلا ہلا کر خدا حافظ کہہ رہے تھے۔”خط لکھو خطیب بھائی،ٹیلی گرام کرو خطیب بھائی احتیاط سے خطیب بھائی۔سامان پر نظر رکھو خطیب بھائی۔۰۲/ ستمبر کو واپسی کا ریزرویشن کردوں گا۔پیسے کی فکر مت کرو میں ہوں نا... دلی میں تم کو تقریر کرنا ہے۔۹۱/ تک دلی پہنچ جاؤ اخبارات میں دیدوں گا‘خدا حافظ خطیب بھائی۔خدا حافظ....!“

مجتبیٰ اور اس کی بچی کو گاڑی نے چھوڑ دیا۔ دونوں ہپّی ہپّن مراہٹی میں گانا گارہے تھے۔ کتنی اچھی آواز ہے۔ سنا کہ لڑکی پونہ ریڈیواسٹیشن سے پروگرام دیتی ہے اور لڑکا بھی۔یہ شادی اسی کا نتیجہ ہے۔لوگ اُٹھ اُٹھ کر آرہے ہیں اور گانے کی تعریف کررہے ہیں۔لڑکے(ہپّی) نے ربر کے تکیہ میں ہوا بھر کے ہمارے سرہانے رکھ دیا۔رضائی اوڑھائی کہنے لگا۔چاچا آرام سے سونا‘لڑکی بولی چاچا چائے پئے گا۔ہم نے کہا ’نہیں چاچا چائے نہیں پیئے گا اب سوجائے گا‘ اور چاچا نیند کی گولی کھاکرسوگیا۔صبح صبح پٹھان کوٹ پر نیند سے جاگا۔دونوں ہپّی بے سدھ سوگئے تھے۔ساڑھے دس بجے جموں پہنچ گئے۔ہرطرف ہرا بھرا ہے کوئی سردی نہیں ہے۔ندیوں میں پانی نہیں۔ایک چارگز کی جھیل بہہ رہی ہے دوندیوں میں گھٹنے برابر پانی تھا۔بڑا سہانا منظر ہے‘ جموں سے سری نگر۰۰۲ میل ہے۔ مگر دیڑھ دن کا راستہ بڑا خطرناک۔ سرکاری بس چلتی ہے۔بڑی آرام دہ ہے۔Rs.15/-کرایہ ہے یہ پہاڑیوں کے گرد گھوم کر جاتی ہے نیچے ندیاں بہہ رہی ہیں۔ پہاڑیوں سے پانی جھرنوں کی طرح گرتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی بادل میں چھپی ہوئی ہے۔بس دوہزار فٹ اونچائی سے جارہی ہے۔بالکل پہاڑ سے چپکی ہوئی۔ڈھلوان سے اب گری تب گری۔مخالف سمت سے ہر آنے والی موٹر ٹہر کر راستہ دیتی ہے۔مگر نہ گرمی نہ سردی،خوشگوار موسم،برف نہ سرد ہوا.سب لوگ بش شرٹ میں ہیں میں تنہا ناسی شیروانی میں ہوں.....لوگ حیرت سے دیکھتے ہیں۔ہپّی جوڑا دوسری سیٹ پر ہے۔ ایک امریکن ننگا جوڑا گٹار بجارہا ہے۔ اسکول کے بچے تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ یہ سب کشمیر کی زیارت کو جارہے ہیں۔ اسی بس میں میرے ساتھ کمال صدیقی پرڈیوسر آل انڈیا ریڈیو دہلی ہیں۔ ان کا ہوئی جہاز منسوخ ہوگیا ہے بس سے جارہے ہیں۔یہ شاعر ہیں‘ بنگلور اور دہلی کے مشاعروں میں میرے ساتھ شریک رہے ہیں۔’گد‘کے مقام پر ایک منسٹر کی موٹر آئی ہم کھانا کھارہے تھے(بارہ آنے کا چاول امرتسری،بارہ آنہ کا مٹر آلو،ٹماٹر کا بگھارا سالن)کمال صدیقی کھانا چھوڑ کر منسٹر کی موٹر میں چپک گئے۔ جھنڈی ہلاتے آنکھوں سے اوجھل۔

رات کے ساڑھے دس بجے قاضی گنڈ پہنچے۔ڈرائیور نے اعلان کردیا کہ بس کی لائٹ خراب ہوگئی ہے ہم آگے نہیں جائے گا۔ سری نگر یہاں سے ۰۸ میل ہے۔ایک سرائے تھی چھ روپیہ دے کر سوگئے۔رات کا کھانا سرائے میں کھایا۔دوروپیہ میں ایک انڈا‘ چاول اور جھیل کا گڈّا۔صبح ۵ بجے سب کو جگایا گیا۔ ہپّیوں (پونہ) نے ہمارا سامان باندھا‘اُٹھا کر موٹر تک لے گئے۔چائے توس لائے۔جبراً مجھے کھلایا‘بڑے پُر خلوص بچے ہیں۔ لڑکا بہت کم عمر‘مجھے شاہین لگتا ہے اور بچی بہت گوری شیریں سے ملتی جلتی۔ساڑھے آٹھ بجے سری نگر پہنچ گئے۔بس سیدھے ٹورسٹ سنٹر میں ٹہرتی ہے میں نے اپنا کمرہ دریافت کروایا مگر معلوم ہوا کہ ابھی تکAIRوالوں سے اطلاع نہیں آئی۔یہاں کے سب لوگ کشمیری زبان بولتے ہیں جو پشتو اور کرخندی جیسی ہے گانے عربی اور مصری دھن پر گاتے ہیں باجے تقریباً مصری ہیں۔رات بھر چاندنی رہی صبح کھل کر دھوپ۔ موسم گلبرگہ کے ہلکے جاڑوں جیسا کوئی بارش نہ برف نہ سردی۔ وہ تمام سیلاب کے قصےّ برفباری کی حکایات ’گپ‘ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ٹورسٹ سنٹر کے روم کا کرایہRs.18/-یومیہ۔ کشمیری محمد سلطان صاحب بیس سال کا نوجوان انتہائی خوبصورت جس کو دیکھتے ہی رہ جائیں کہنے لگا میرے گھر چلئے۔ایک روم ہے باتھ کے ساتھ۔میں نے کہا میں پانچ روپیہ دوں گا۔ وہ بولا سات پھر پانچ پر راضی ہوگیا۔ریڈیو اسٹیشن کے قریب ہے دوسو قدم پر مگر وہ گھر نہیں ہے۔ایک ہاوز بوٹ ہے جو پانی پر تیر رہی ہے جس میں تین کمرے ہیں ایک ہال ہے جس میں قالین بچھی ہے۔حمام‘پائخانہ‘ڈرائنگ روم‘برقی پنکھے‘ ریڈیو سیٹ سب کچھ ہے۔اس ہاوز بوٹ کا نام Water Bird پانی کی چڑیا‘جل پنکھ‘انگریزی اُردو اور ہندی میں بورڈ لگا ہوا ہے۔ مَیں جب ہاوس بوٹ پر پہنچا تو ایک خوبصورت عورت نے اسلام وعلیکم کہہ کر استقبال کیا اورہنستی ہوئی میرا بیاگ لے گئی۔بوڑھا باپ،ماں,بھائی،بھاوج بھی آگئے۔آپ کو راستہ میں تکلیف تو نہیں ہوئی۔یہ گھرآپ کا ہے حضور۔بوڑھے احمد نے کہا کہ یہ کشتی بارہ ہزار میں بنائی ہے۔بالکل نئی ہے۔گرم پانی آگیا ہے‘ میں نہالیا۔سلطان نے ناشتہ میز پر لگادیا۔ ایک آملیٹ‘ تین توس کے ٹکڑے‘ دوپیالی چائے۔ایک انتہائی خوبصورت پانچ برس کا بچہ گود میں اخروٹ لاکر میرے پلنگ پر ڈال دیا۔یہ کھاؤ دادا جان۔میں اخروٹ کھاکر دیکھنے لگا تو وہ خوب زور زور سے ہنسنے لگا۔چھلکا اُتارو ایسے۔ وہ دانت سے توڑ توڑ کر مجھے دینے لگا جیسے واقعی میں اس کا دادا ہوں۔مجھے چھلکا اتارنا نہیں آتا میرے منہ میں دانت نہیں ہیں۔

ساڑھے دس بجے ریڈیو اسٹیشن گیا۔عزیزقریشی میٹنگ میں تھے۔نام کا کارڈ بھیجا۔دوڑتے آئے اور گلے لگ گئے۔خطیب بھائی میں تم کو کشمیر دکھانا چاہتا تھا۔یہاں دکنی کی دھاک ڈالنا چاہتا ہوں۔چلو ڈائرکٹر صاحب سے ملو... ہم گئے ایک خوبصورت پنجابی بیٹھا تھا کلام سن کر بہت خوش ہوا بولا یہ تو خوب چلے گا۔پھر ہم عزیز قریشی سے رخصت ہوئے۔چائے پی۔

کشمیری حسن فلم والوں سے زیادہ ہے یہاں تو ہر قدم پر ایک سائرہ بانو ہے۔ہیمامالنی ہے مجھ کو ہماری کشتی’پانی کی چڑیا‘ سے ایک بھتیجا مل گیا۔نام تھا عبدالرحیم۸۱ سال کا۔ اس کے ساتھ جمعہ کی نماز کے لئے حضرت بل کی درگاہ گئے۔یہاں پر حضور سرور کائناتؐ کا’بال ریش مبارک‘ محفوظ ہے اور پروفیسر زورؔ مرحوم کی تربت بھی اس میدان میں ہے۔ایک ہزار عورتیں نماز کوآئی تھیں۔تین ہزار مرد تھے۔شیر کشمیر شیخ عبداللہ ایک اونچی بالکونی پر بیٹھے ہوئے کچھ تبرک تقسیم کررہے تھے۔ہر آدمی کچھ نذرانہ دیتا تھا جو حضرت بل کی جدید درگاہ کی تعمیر میں کام آئے گا۔ رسید دی جاتی ہے جس پر شیرکشمیر کے دستخط ہیں۔ہم نے بھی دوروپیہ دیئے۔میں نے جب سلیمان خطیب (حیدرآباد) نام لکھوایا تو شیر چونک گیا! ’آپ شاعر ہیں‘ جی ہاں!! ’کل آپ سے ملاقات ہوگی‘ شیر بولا۔شاید پروگرام دیکھا ہےT.Vپر بھی ممکن ہے کہ پروگرام پیش کیا جائے۔نماز دوبجے شروع ہوئی۔خطبہ کشمیری میں ہوا۔تقریریں کشمیری میں ہوئیں لوگ خدا سے ڈرتے ہیں۔ہر دم ’یا رسول اللہ‘ کہتے ہیں۔بعض عورتیں برقعوں میں تھیں۔برقعے اولن کے ہیں۔سیاہ۔ د رود و سلام زور سے پڑھتی ہیں۔ سامنے جھیل ہے عورتیں اپنی کشتیاں کھیتی ہوئی آئی ہیں۔ بچے ٹنکو اور متین کے جیسے اپنی اپنی کشتیوں میں نمازکو آرہے ہیں۔ کیسی پھرتی سے کشتی چلاتے ہیں کہ نظر لگ جائے۔کچھ بچے جھیل میں نہارہے ہیں ننگ دھڑنگ۔ ایک بات عجیب نظر آئی مجھے یہ منظر ہمیشہ یاد رہے گا۔میں وضو کررہا تھا جھیل میں جو پندرہ میل لمبی ہے۔میرے بازو عبدالرحیم صاحب تھے اچانک انہوں نے ازار بند کھولا اور آب دست لینے لگے۔منہ جھیل کی طرف تھا۔پشت میری طرف پچھلا حصہ عریاں تھوڑی قمیص ڈھلک آئی تھی۔دس بارہ مرتبہ پانی لیا اورمقامات صاف کرتے رہے ابھی اس کے متعلق پوچھنے والا ہی تھا کہ ایک اور نوجوان عبدالرحیم صاحب کے بازو بیٹھ گیا اور ازار بند کھولا پھر وہی صفائی کا عمل شروع ہوگیا۔پھر ایک بڑے میاں لرزتے آئے شلوار کھولی طہارت فرمانے لگے۔ پھر اس کے بعد ہر آدمی وضو کرنے لگا۔رحیم صاحب نے فرمایا یہ طہارت ضروری ہے میں نے آج حمام نہیں کیا ہے۔دوسری طرف ایک دوفرلانگ پر جزیرہ تھا وہاں عورتیں نظر آرہی تھیں۔عورتیں میں شرم نظر آتی ہے نظریں جھکا کر بات کرتی ہیں بہت ہنستی ہیں۔ہنس مکھ ہیں۔بعض عورتیں کرخندی دیہاتی تھیں۔بالکل ہماری لمباڑن جیسی سنولی سنولی مگر وہی اونچی ناک نقشہ بعض تو بڑی خراب تھیں معلوم نہیں کہاں کی تھیں۔کالی کالی موٹے ہونٹ۔

ہم نے حضرت بل سے ایک شکارا کرایہ پر لیا۔یہ کشتی ہے جس پر ’رات کی رانی‘ اُردو میں لکھا ہے ایک شعر بھی ہے ؎

سیر کر دریا کی ناداں زندگانی پھر کہاں زندگانی گر رہی تو نوجوانی پھر کہاں!

ایک’۳۵‘ کا شاعر’بسم اللہ‘ کہہ کر کشتی میں سوار ہوگیا۔عبدالرحیم ساتھ تھا۔بارہ روپیہ کرایہ ہوا۔’نشاط باغ‘ دومیل پر ہے۔یہ مغل باغ ہے۔ نور جہاں‘ اکبر‘ شاہجہاں سب ہی کا پیارا ہے۔پہاڑ سے جھیل نکل کر نہر میں گرتی ہے۔آج تک رواں ہے۔سیب‘ناشپاتی‘اخروٹ کے درخت ہیں۔پھولوں کا شمار نہیں۔ہر قسم کے پھول دیکھے مگر مالی نظر نہ آئے۔کوئی پھول توڑتا نہیں۔تختیاں لگی ہوئی ہیں۔آدھا میل کا باغ ہے۔سرو ہے۔صنوبر ہے۔سرو صنوبر تو سارے کشمیر کے راستوں پر ہے۔وہاں سے کشتی میں دو میل بعدچار چنار آئے۔یہ جزیرہ ہے‘یہاں لوگ عیش کرتے ہیں۔ ہم کو پونہ کے ہپّی مل گئے دونوں مخمور تھے بولنے لگے۔”چاچا معاف کرنا ہم بات نہیں کرسکتا ہم خراب لوگ ہیں۔لڑکی بولی چاچا مجھے یہ پلایاہے میں ہنس کر دوسری طرف چلا گیا پھر لڑکاگانے لگا۔لا لا لا رے لا لا ...“

کشتی میں ڈیڑھ میل کا سفر طے کرکے ڈل جھیل میں داخل ہوگئے۔نہرو پارک(جزیرہ) دیکھا۔ یہاں صرف ایک بہت بڑا شراب خانہ ہے۔ جھیل کے کنارے بڑے بڑے شکارے ہیں۔یہاں پر دُنیا کے ننگ دھڑنگ ہپّی ہیں۔گانجہ بھنگ پی کر مادر زاد برہنہ ناچتے ہوئے عورتیں مرد۔سادھو کالے گورے سب ہی...شام ہوگئی ہے۔جھیل کے اطراف چراغاں روشن ہیں۔میلوں بوٹ ہاوز‘ شکارے کھڑے ہیں جن کی کھڑکیوں سے برقی قمقمے جھانک رہے ہیں،بعض بوٹ ہاوز تو دودومنزلہ ہیں۔تین منزلہ ہیں‘پچاس کمرے ہیں۔ یہاں پر خوبصورت بوٹ ہاوز کا کرایہRs.75/-درجہ اوّلRs.50/-درجہ دومRs.35/-درجہ سوم جس میں دووقت کا کھانا بھی شامل ہے اور صبح کی چائے اور ٹوسٹ بھی۔رات کے گیارہ بجے ہیں۔سلطان پانوں دبا رہا ہے مجھے نیند آگئی۔

۵۱/ ۹/۳۷ء آج میں صبح ۰۳: ۷ بجے اٹھا‘حمام گیا‘منھ دھویا۔واٹر برڈ(میری کشتی) پانی میں ہے...جھیل میں کنول کھلے ہیں۔ بطخیں تیر رہی ہیں۔دھوپ نکلی ہے۔احتیاطً سوئٹر پہن لیاہے۔گلوبند کانوں پرلپیٹ لیا ہے۔ دوسری کشتی میں ایک کشمیری لڑکی گارہی ہے جیسے کوئی قرأت پڑھ رہا ہو۔

لویہ سلطان صاحب آپہنچے۔چائے انڈا اور ٹوسٹ رکھا ہے۔ اس کے دوروپیہ دینا ہوگا شام میں کھانا کھایا۔کشمیری بھاجی،شوربہ،ہمارے پاس کا اچار جو حیدرآباد سے لایا گیا ہے۔خشکہ گھر کا۔ہر آدمی آکر سلام کررہا ہے۔”اچھے ہیں حضور،رات تو خوب گزری؟ کشمیر پسند آیا؟“

آج رات ۹ بجے ہمارا پروگرام ہے‘مشاعرے میں کیفی اعظمی،بیکل اتساہی،سردار جعفری،کمال صدیقی،وحید اختر،شاذ تمکنت،جان نثار اختر،اخترالایمان،شاہ جہاں بانویاد دہلوی،سلیمان خطیبؔاور کچھ مقامی شعراء حصہ لیں گے۔ گلبرگہ کے لئے یہاں سے میں ۸۱/ ۹ کو نکلوں گا۔کل پہلگام جاوں گا۔پہلگام میں برف گررہی ہے۔دیکھنے کا منظر ہے ٹورسٹ بس کا کرایہRs.20/-ہے مگر ہم گھوڑوں پرجائیں گے۔

خدا حافظ

سلیمان خطیبؔ

٭ ٭ ٭