خطوط (بیٹیوں کے نام)
تسنیم و شمیم سلمہا۔لاکھوں دُعائیں۔
میں مدراس سے بخیر وخوبی واپس ہوگیا۔آتے ہی کچھ سرکاری کاروبار میں اُلجھ گیا۔بڑی الکٹرک موٹریں خراب ہوگئی ہیں جس کی وجہ ایک طوفان مچا ہوا ہے۔میرے خط کا تم کو شدت سے انتظار ہوگا اور کرایہ کے پیسوں کا بھی۔آج ہی 25 روپئے منی آڈر کرچکا ہوں تاکہ آپ لوگوں کو آنے میں سہولت ہو۔
مدراس کیا ہے۔نیلگوں سمندر کے کنارے ایک سفید براق سافرشتہ پَر کھولے کھڑا ہے۔اس کا دلفریب ساحل دُنیا کا دوسرے درجہ کا ساحل ہے۔جہازوں کو اندر آنے کے لئے ایک مصنوعی نہر بنائی گئی ہے۔جہاز کیا ہیں چھوٹے موٹے محلے ہیں۔سمندر کا نظارہ بڑا ہی دل آویز ہوتا ہے۔خصوصاً طلوع وغروب کا منظر۔سمندر کے کنارے شام میں ایک میلہ سا نظر آتا ہے۔لوگ سمندر کے کنارے ریت پر کھڑے ہوتے ہیں اور شوریدہ موجیں قدموں کو اُٹھ اُٹھ کر چوم لیتی ہیں۔بعض دفعہ گھٹنے سے اوپر پانی آجاتا ہے اور پھر اسی قدر تیزی سے واپس ہوجاتا ہے۔چنانچہ میں کیفؔ رضوانی اور قاضی صاحب(قاضی احمد مدراس کو تفریح کے لئے تشریف لائے تھے)ریت پر کھڑے تھے کہ اچانک ایک موج آئی ہمارے مخمل کے پتلون کو گھٹنوں تک بھگوکر شرابور کردی۔کھارا کھارا نمک سا پانی پتلون کا ہلکا سا رنگ بدل گیا۔
دوسرے روز شام میں حسرتؔ جے پوری،خمار بارہ بنکوی،کیفی اعظمی،عرشؔ ملسیانی،سکندر علی وجدؔ،سعید شہیدی، انورمرزا پوری اور میں سمندر کے کنارے پہنچے۔کرسچین لڑکیاں اور لڑکے طلباء موجوں سے کھیل رہے تھے۔کچھ برہمن پوجا پاٹ میں مبتلاتھے۔بچے یامین اور تحسین جیسے مچھلیوں کی طرح تیر رہے تھے۔بڑے بوڑھے بچوں کے کپڑے سنبھالے بیٹھے تھے۔والدہ محترمہ بھی پیراکی کا لباس پہنے سمندر میں غوطے لگارہی تھیں۔سمندر میں تیرنے کے بعد پھر گھر جاکر نہانا پڑتا ہے ورنہ سر تمام نمک رہ جاتا ہے۔
مدراس خوب گھوم پھر کر دیکھے۔ہر جگہ تم لوگ یاد آتے رہے خصوصاً نمائش میں ایک مچھلی کا ڈھانچہ رکھا ہوا ہے جو تقریباً(۰۸) فٹ کا ہے اس کی آنکھ کے حلقے میں ایک آدمی اچھی طرح بیٹھ سکتا ہے۔ اس کے بازو کے دوکانٹوں سے کمان بنائی گئی ہے جس میں سے موٹریں آجاسکتی ہیں۔ جو سب سے چھوٹا کانٹا ہے وہ ۲۱ فٹ لانبا اور ایک فٹ چوڑا ہے یعنی تمہارے ماموں جان کے کمرہ کے برابر اونچا۔یہ وہیل مچھلی ہے جو جہازوں کو مار کر تباہ کردیتی ہے۔
مدراس نوابانِ ارکاٹ کا علاقہ تھا جس پر انگریزوں نے قبضہ کیا اور پہلی کوٹھی تعمیر کی۔مدراس انگریزوں کا ہی بسایا ہوا شہر ہے اس لئے ماسٹر پلان کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔صاف ستھرا خاموش قسم کا شہر ہے۔لوگ بمبئی کی طرح دھوکا نہیں دیتے۔تمام مسلمان تجارت کرتے ہیں۔ان کی دولت کا اندازہ اس سے کرلو کہ سکندر علی وجدؔ نے ایک اُردو رسالہ نکالنے کی تجویزپیش کی جو سارے عالم میں پہونچایا جائے۔اسی وقت دس‘ پندرہ لوگوں نے ایک لاکھ روپیہ اکٹھا کرلیا۔یہ لوگ اُردو زبان کے دیوانے ہیں۔ہمارے مشاعرے کے اکثر اراکین عاملہ کو اُردو نہیں آتی تھی وہ ٹامل میں بات کرتے ہیں یا پھرانگریزی میں،انگریزی تو اوڑھنا بچھونا ہے۔
اے۔جے اُردو سمینار سے مطلب الحاج جین العابدین اُردو سمینار ہے۔جین العابدین‘ زین العابدین کی خرابی ہے۔جولوگ زین العابدین کا تلفظ نہ کرسکتے ہوں انہوں نے(۵۱)ہزار روپیہ خرچ کرکے یہ مشاعرہ منعقد کیا تھا۔روزانہ ہر شاعر کو پچاس روپیہ صرف کھانے کے لئے دیئے جاتے تھے۔میرے ساتھ قاضی صاحب اور سرور ڈنڈاؔ کے بھائی بھی تھے۔برابر کے عالی شان ایرکنڈیشنڈ ہوٹلوں میں ’شکم پُری‘ کا انتظام کیا گیا تھا۔یار لوگ کچھ اس طرح کھائے کہ جیسے انہیں اگلی پانچ صدی تک کچھ نہیں کھانا ہے۔پھرہاضمہ کا چورن دن بھر پھانکتے رہے۔سوڈے کی بوتلیں شکم اطہر میں اُتارتے رہے لیکن دوپہر اور رات کا کھانا برابر ”نوش جان“ فرمایا کرتے تھے۔اس میں کسی قسم کی کمی نہیں فرمائی۔روزانہ سگریٹ کے ڈبے راشن میں وصول کرتے تھے۔فی ڈبہ سات روپیہ کا ہوگا۔حمید الماسؔ کے کھانے سے تو مجھے نفرت سی ہوگئی تھی۔یہ شخص تقریباً دس قسم کے کھانے آرڈر دیتا تھا اور نصف بھی کھا نہیں سکتا تھا۔میں وہی اپنا من بھاتا کھاجاتا۔مچھلی،کبھی ایک آدھ مرغ،بریانی،ایک میٹھا یا گوشت کے پارچے،میرا سکنڈ کلاس میں آنا جانا ہوا جس کا خرچ تقریباً(۰۷) روپئے آیا۔اسٹیشن پر لوگ استقبال کے لئے آگئے تھے۔پھول پہنائے گئے اور طلباء ہاتھوں نے جھنڈیاں لے کر خطیب سلیمان زندہ باد کے نعرے لگائے۔اُسی شام کو عرشؔ ملسیانی دہلی سے بذریعہ طیارہ اور کیفی اعظمی،خمارؔ،حسرت جے پوری وغیرہ بمبئی سے آئے۔لکھنؤ سے انور مرزا پوری تشریف لائے۔ان کو بھی ویسا ہی پھول پہنائے گئے اور نام لے لے کر نعرے لگائے گئے۔
مشاعرہ میں کافی لوگ آئے تھے۔پچاس روپیہ اور سو روپئے کا بھی ٹکٹ تھا۔لوگ دل والے ہیں۔اُردو زبان پر جان دیتے ہیں۔نواب حیدر علی خاں جو اُردو کالج کے پروفیسر ہیں وہ اناؤنسر بھی تھے۔بڑی لمبی چوڑی ہماری تعریف کی کہ”سلیمان خطیبؔ دکنی زبان کے واحد شاعر ہیں۔ان کی زبان‘محاورے‘تشبیہات‘کلام میں روانی دیکھئے۔ان کی شاعری آنسوؤں اور قہقہوں کی شاعری ہے۔”ساس بہو“ مَیں نے پہلے سنائی۔عوام کے اصرار پر”شاعر کی عزت‘’سنائی۔”موٹ کا پانی“ سنائی۔دوسرے روز پہلی تاریخ اور چھورا چھوری،انتظار سنائی۔بہت پسند کیا گیا۔قہقہوں سے چھت اُڑ گیا۔مدراس کالج کے لوگوں نے پھر دعوت دی ہے۔دوماہ بعد جاوں گا۔سرور ڈنڈاؔتو پہلی غزل میں چل نہ سکے لوگ تعجب کرتے رہے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں لیکن دوسرے روز خوب چمکے۔ان کی ’سنجیواریڈی ماما‘ اور’گھوڑا گاڑی‘ اچھی رہی۔دیگر شعراء میں عرشؔ ملسیانی،کیفی ؔاعظمی، انور مرزا پوری،خمار بارہ بنکوی،کیفؔ رضوانی اور سکندر علی وجدؔ بہت پسند کئے گئے۔حسرتؔ جے پوری چل نہ سکے۔سینما کی نظمیں پڑھیں۔اے گل بدن‘۔ ’ابھی نازک ہو تم‘ وغیرہ۔خمار ؔصاحب وہی ہیں جنہوں نے’چاہ برباد کریگی ہمیں معلوم نہ تھا‘ لکھی ہے۔
مشاعرہ کے بعد بھی ہم دوتین روزمدراس میں رہے کیونکہ ہمارے قاضی جی کو ایک نظر میں کوئی چیزسمجھ میں نہیں آتی گھوم پھر کر بار بار دیکھنے کے عادی ہیں۔مثلاً(۴۱) منزلہ انشورنس کی بلڈنگ چڑھیں گے تو پہلے پوچھیں گے اس کی کتنی سیڑھیاں ہیں۔کس زاویہ پر بنائی گئی ہیں۔کمروں کی چوڑائی کیا ہے،رنگ سبز کیوں کیاگیا ہے۔ہلکا گلابی کیوں نہیں کیا گیا۔بیت الخلاء کی غلاظت کی نکاسی کا کیا انتظام ہوا ہے۔ٹونٹیوں میں پانی آرہا ہے کہ نہیں۔گرم پانی کہاں سے آرہا ہے۔کتنے لوگ اب تک خود کشی کرچکے ہیں اور کتنے کرنیوالے ہیں....؟ نمائش میں ہر چیز کوایک کاغذ کے پرزہ پر لکھتے جاتے ہیں۔ٹیکسی کے کرایہ پر جھگڑا کرتے تھے۔’پیدل سفر‘ آپ کو بہت مرغوب ہے دراں حالیکہ اس میں تین گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔آپ کو معلوم کرکے تعجب ہوگا کہ یہ اللہ کا بندہ ساحل سمندر سے مدراس کلب(جس میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے اورجس کو ایک سیٹھ حاجی صاحب نے ۳۲ لاکھ روپئے میں خریدا ہے) چار میل کا فاصلہ طے کرکے پیدل تشریف لایا لیکن ٹیکسی کا ایک روپیہ دینا گوارا نہیں فرمایا۔وہاں ٹیکسی بہت سستی ہے ایک میل جائیں تو صرف۶/دینے پڑتے ہیں۔ہینڈلوم بہت سستا ہے۔اصلی سلک کی ساڑی (۶) روپئے میں زر کی خور کے ساتھ مل جاتی ہے۔باباؔ نے جو ساڑیاں خریدی ہیں یہاں (۸۲) روپیہ میں ہیں۔وہی سو پونڈی مہین تاگہ اور زر کی خور والی۔باریک ساڑیاں اچھی سے اچھی پندرہ،بیس سے زائد نہیں۔قاضی نے ایک ریڈی میڈ بش شرٹ خریدا فوراً بھری دوکان میں اپنی قمیصِ مبارک اُتارلی اور شرٹ پہن کر دیکھا۔بہت خوش ہوئے تین روپے چار آنہ دے کر خریدلیا۔(۲۱) روپے کی ساڑی اماں جان کے لئے لی۔ایک شرٹ کا کپڑا دوروپیہ ۴/ میں لیا،بے بی کے لئے۔کان کے ایرنگ ایکروپیہ میں۔تین تھیلیاں کتابو ں کی۔جانی بیگم کے لئے منی پرس چار روپیہ میں۔ایک کنگھی ایک آنہ والی اپنے لئے خریدی اور مدراس سے واپس چلے آئے۔میں نے آپ کے لئے مشین کار بر کاپٹہ تین روپے میں خریدا یقینا آپ کو خوشی ہوگی۔تسنیم شمیم کے لئے ایک بیگ پانچ روپیہ ۸/ کا تحسین’متین‘یامین کے لئے پھولوں کا بنیان۔میرے لئے ایک قمیص کا کپڑا تین روپیہ کا اور بس۔
ساڑی اس لئے نہیں خریدی کہ آپ ’فضول خرچی‘ سمجھیں گے جبکہ اس ماہ خرید چکی ہیں۔ورنہ ویسی(۸۲) روپیہ والی لینے کا ارادہ تھا پھر بھی ایک گلبرگہ والے صاحب کو کہہ کر آیا ہوں وہ وی. پی کرسکتے ہیں۔
’نگار‘ کا نیاز نمبر(۴) روپیہ میں خریدا گیا ہے۔معصوم جلیل صاحب تالیکوٹ چلے گئے وہاں (۰۵۲ تا۰۵۵) پر تقرر ہوچکاہے۔قادر صاحب نے ۰۴ روپیہ کا مکان لیا ہے جس میں سے پندرہ روپیہ ہم کودینے ہونگے۔یہ مکان سمنٹ روڈ پر روضہ میں ہے۔ خالدہ بیگم اور یاور الدین خاں آئے ہوئے ہیں۔یاور خاں صاحب نے اپنے گھر پر زوردار دعوت دی۔ دعوت میں قیمہ کی بریانی،شکم پور،قورمہ،آلو کا میٹھا،گیہوں کی روٹیاں وغیرہ وغیرہ تھیں۔معصوم جلیل صاحب نے ایک تصویر لی اپنی ترقی کی خوشی میں جس میں ہم پانچوں ’ہم زلف‘ ہیں۔
تحسین یاد کرتے ہوئے کہتا ہے کہ’امی آتے تو اچھا تھا۔‘ یامین بھی یاد کرتا ہے آپ کب آرہے ہیں؟
سلیمان خطیبؔ