بیگم راشدہ خطیب کے نام
ذرّہ نواز! عید مبارک۔
کہاں کی عید‘ کیسی خوشی‘ ہلالِ عید’نویدِ دید‘ کی بجائے غم کی تمہید ہوگیا۔روح پرواز کرگئی تن پڑا ہے۔کیا اچھا ہوتا کہ دفنایا جاتا۔میری شادی کی یہ پہلی عید ہے۔کتنا بد نصیب ہوں کہ تمنائیں،آرزوئیں ایک ایک کرکے چھین لی گئی ہیں۔خوشیاں دی ہی نہیں گئیں جس کا غم کروں۔آج تم جامہئ گلنار میں انار کلی معلوم ہورہی ہوگی۔مانگ میں کہکشاں،جبیں افشاں، سرخ اور پتلے ہونٹوں پر مسکراہٹ کی زرین لکیر کتنی دلنواز ہوگی۔آج عید ہے لیکن میرے لئے ع
خیر! بچوں کے لئے میں نے مولوی صاحب قبلہ کو(۰۳) روپئے دیئے تھے غالباً پہنچ گئے ہوں گے۔بچو ّں میں تقسیم کردو۔بلوز اورجوڑا کامل صاحب لادیئے ہوں گے۔صرف اسی لئے مجھے پانچ روپے تانگے کے خرچ کرکے بوین پلی جانا پڑا تھا تاکہ تم خفا نہ ہوجاؤ۔اب تمہارا مزاج کیسا ہے؟ میں آجاتا لیکن فرصت نام کونہیں۔اچانک پھٹکری ختم ہوگئی۔حیدرآباد گیا وہاں نہیں ملی۔پرسوں رائچور جاکر تھوڑی لالیا ہوں۔تفصیلات کیا لکھوں کہ کس قدر تھک گیا ہوں۔ایک ہفتہ سے نیند نہیں۔مہتمم صاحب چلے گئے ہیں۔ساری ذمہ داری مجھ پر ہے۔
آج تمہاری یاد ہے اور میں انعامات تقسیم کررہا ہوں لیکن یہ کہتے ہوئے کہ”تم اُن کے لئے دُعا کرو کہ وہ صحت مند ہوجائیں۔وہ مجھ سے زیادہ دل والی ہیں۔بہت دیں گی۔“ کاش اس بدبخت گھر کا مالک گھر میں ہوتا.
آج مجھے ملنا تو سب سے ہے لیکن کسی سے نہیں ملوں گا۔اب دل بھرا ہوا ہے۔آنکھیں بھری ہوئی ہیں۔مزید نہیں لکھ سکتا۔عبارت بے ربط ہوجائیگی۔پڑھی نہیں جائے گی۔سب کو نام بہ نام عید مبارک پہنچادینا۔آج خواجہؒ کی بارگاہ میں عرض کرآیا ہوں کہ خدا تمہیں صحت عطا کرے۔
غم نصیب
خطیب