خیریت
خدا جانے سماج میں روایتیں کہاں سے چلی آتی ہیں۔ مجھے تو ان سے گھن سی ہونے لگتی ہے۔ دور کیوں جائیے، اسی خیریت والے معاملے کو لیجیے۔ چوتھی جماعت میں خط نویسی کے لیے ایک کتاب کورس میں داخل تھی ’رقعات عنایت علی‘ جس کی عنایت سے مجھے خطوط لکھنا آگیا تھا۔ یہ جملہ ہر خط میں لکھ دیتا تھا: ’’ہم تمام خیریت سے رہ کر آپ بزرگوں کی خیریت خداوندِ کریم سے نیک چاہتا ہوں، دیگر کیفیت یہ ہے کہ‘‘۔ اب اصل مضمون شروع ہو جاتا تھا۔ مگر میں چالیس سال سے دیکھ رہا ہوں کہ یہ خیریت، خیریت والا معاملہ لگتا ہی نہیں۔ حکومتیں بنیں، حکومتیں مٹیں، ملک کے ملک تباہ ہو گئے مگر جناب یہ خیریت جوں کی توں دھری رہی۔ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ ذرا ستم ظریفی دیکھیے، میں سائیکل پر ڈاکٹر کو بلوانے جا رہا ہوں، کبوترؔ صاحب موٹر سائیکل پر دوسری سمت سے اڑتے ہوئے آ رہے ہیں۔ ہاتھ ہلا کر پوچھا، ’’خیریت؟‘‘ میں نے جواباً ہاتھ اونچا کر کے کہا، ’’خیریت!‘‘ صاحب، اس سے کیا بات بنی؟ کون سے آپ میرے دکھ درد میں شریک ہو گئے۔ آپ کو اطمینان ہوا کہ میں نے دوست کی خیریت دریافت کرلی اور مجھے تشفی ہوئی کہ میرا دوست نئی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بھی اپنے لوگوں کو نہیں بھولتا۔ یہ موٹر کی نمائش تھی کہ خیریت دریافت کرنا تھا؟ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ بات یہیں تک ہوتی تو ٹھیک تھی۔ جی نہیں، یہ تو آگے بڑھ کر ہمارے شادی بیاہ کے معاملے میں داخل ہو جاتی ہے۔ بات شروع ہوتی ہے اسی خیریت، خیریت سے۔
لڑکی والوں سے بات کرنے دیوان خانے میں المکلّف ہو کر بیٹھے ہیں۔ ایک بزرگِ خاندان نے حقے کا کش کھینچ کر کہا، ’’کیوں میاں! سب خیریت؟‘‘ میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا، ’’خیریت!‘‘ اب کیا ہے جناب! میرے گھر میں چار بیمار ہیں۔ ایک کو جلاب لگ گئے ہیں، دوسرے نے غلطی سے زردہ کھا لیا تھا، قے کر رہا ہے۔ تیسرا ملیریا میں مبتلا ہے۔ چوتھا آدھے سر کے درد سے کانوں پر مفلر لپیٹ کر لیٹا ہے۔ تو آپ کیا کرنے والے ہیں؟ یہ بھی نہیں تو میرے گھر میں فاقے پڑے ہیں، بیروزگاری سے تنگ آگیا ہوں، فرمائیے آپ کیا مدد کرنے والے ہیں؟
ایک دفعہ میں ایک میت کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔ ایک صاحب اچانک بازو سے گزرے اور اپنی بیوک کار سے خوبصورت ہاتھ اٹھا کر پوچھا، ’’خیریت؟‘‘ میں نے میت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’خیریت!‘‘ خدا جانے ان کے دل پر کیا گزری، مگر میں تو جل بھن کر کباب ہو گیا۔
ایک مسکین صورت صاحب نامعلوم کس گناہ کی پاداش میں دھر لیے گئے تھے۔ ہاتھ میں ہتھکڑی لگی تھی، وہ کشاں کشاں پولیس تھانے جا رہے تھے۔ آگے پیچھے دو سپاہی تھے۔ ایک صاحب نے جو تیزی سے سائیکل پر جا رہے تھے، ہاتھ اٹھا کر ان صاحب کی خیریت دریافت کی۔ وہ بیچارہ شرم کا مارا گردن جھکا کر مسکرا دیا۔ آپ ہی فرمائیے، یہ سماج کا کتنا بڑا طنز ہے۔ بھرے بازار میں بھرپور طمانچہ ہے۔ مگر صاحب، یہی وہ تھپڑ ہے جو لوگ شکریہ کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔
ایک شادی کے موقع پر میزبان کے پچھواڑے میں، میں انارکلی سے رنگین باتیں کر رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک پچاس سالہ خاتون نے ’خیریت، خطیب صاحب!‘ کی روایتی توپ داغ دی۔ وہ بیچاری انارکلی یہ جا وہ جا، اور ہم خیریت، خیریت کہہ کر زمین میں گڑ گئے۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیے۔ یہ وقت نہ ساعت، موقع بے موقع خیریت کیوں دریافت کی گئی؟ اس کا یہی مطلب ہوا نہ کہ میاں شریف لوگ اس طرح چوری چھپے باتیں نہیں کیا کرتے۔
یہ ظالم سماج اس خیریت کی پرانی لٹھ لے کر میرے پیچھے کہاں تک گھومے گا؟ یہ ان زچہ خانوں میں کیوں نہیں جاتا جہاں نہ زچہ خیریت سے ہے نہ بچہ خیریت سے۔ ان پاگل خانوں میں کیوں نہیں جاتا جہاں نہ تو مریض خیریت سے ہے نہ ڈاکٹر...! آخر یہ میرے ہی پیچھے کیوں؟