خاطب

سلیمان خطیب کو محض ایک مزاحیہ شاعر کہنے میں‘ مجھ کو ہمیشہ سخت تامل رہا ہے اور اب بھی ہے۔سلیمان خطیب کے ہاں طنز و مزاح ضرور ہے‘ طنز بہت زیادہ اور مزاح نسبتاً کم! لیکن اس کو کیا کیجئے کہ لوگ دکنی زبان، اس کے لب ولہجہ،اس کے محاورات،تشبیہات اور استعارات وغیرہ کے استعمال سے لطف اندوز ہوتے اور اس کو بجائے خود مزاح تصور کرتے ہیں۔ظاہر ہے یہ اپنے ذوق اور زاویہئ نظر کا آفریدہ مزاح ہے۔شاعر کا نہیں اور پھر یوں دیکھیں تو سلیمان خطیب کی شاعری تمام تر دکنی میں بھی نہیں،انکے سارے کلام ہی کا کیا ذکر،اُن کی بہت کم منطومات ہوں گی جو پورے طور پر دکنی میں ہوں۔انھوں نے اپنی تقریباً تمام منظومات میں دکنی اور اُردو کے خوشگوار امتزاج سے کام لیا ہے۔کہیں عصری اُردو کا حصہ زیادہ ہے، کہیں کم۔اُن کے ہاں ایسی منظومات کی تعداد بھی کم نہیں جو مکمل طور پر عصری اُردو میں ہیں اور جن کے مطالعہ سے ایسے افراد کوجو سلیمان خطیب کے کلام کے ایک معروف پہلو کے گرویدہ ہیں یہ تسلیم کرنے میں تکلف ہوگا کہ یہ بھی سلیمان خطیب کے زورِ قلم کا نتیجہ ہیں... واقعہ یہ ہے کہ سلیمان خطیب نے اپنی شعری زندگی کا آغاز عصری اُردو میں رسمی اور روایتی غزل گوئی سے کیاتھا اور ایک عرصہ تک وہ اسی راہ پر گامزن رہے لیکن جب دکنی لوک گیت جمع کرنے پر مائل ہوئے تو اُن سے اتنے اور اس قدر متاثر ہوئے کہ اُردو کے ساتھ دکنی میں بھی طبع آزمائی شروع کردی اور آج بھی وہ کبھی کبھار عصری اُردو شعر کہتے ہیں۔اس کی عمدہ مثال حضرت امیر خسروؒ کی”شب بودم“ والی غزل کا وہ منظوم ترجمہ ہے جو خطیب نے شستہ اور رواں دواں اُردو میں کیا ہے۔یہ تین اشعار ملاحظہ ہوں ؎

نہ جانے کون محفل تھی جہاں کل رات کو ہم تھے کہ ہر جا رقص بسمل تھا جہاں کل رات کو ہم تھے
ہلانا لب بھی مشکل تھا جہاں کل رات کو ہم تھے سراپا آفتِ دل تھا جہاں کل رات کو ہم تھے
محمدؐ شمعِ محفل تھے درونِ لامکاں خسروؔ خدا خود صدرِ محفل تھا جہاں کل رات کو ہم تھے

خطیب کی زندگی کا ابتدائی دور کچھ ایسا رہا کہ بقول فیض احمد فیضؔ، انہوں نے ؎

عاجزی سیکھی، غریبوں کی حمایت سیکھی یاس د حرماں کے دکھ در کے معنٰی سیکھے
زیر دستوں کے مصائب کو سمجھنا سیکھا سرد آہوں کے رُخِ زردکے معنی سیکھے

خطیب کی شاعری کا مرکز ومحور یہی جذبہ ہے۔اُن کی ایسی منظومات جن میں طنزیہ اور مزاحیہ عناصر موجود ہیں بنیادی طور پر سماج کے مظلوم،مزدور اور محنت کش طبقات کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔یہاں ہم خطیب کا کلام سن کر ہنستے ہیں لیکن دراصل ہم خود اپنی ہنسی اُڑا رہے ہیں یا یوں کہیئے کہ جس بات پر ہم کو رونا چاہئے اس کو ہم ہنس کر ٹال دیتے ہیں‘ اُڑا دیتے ہیں۔شاعر کا کمال یہ ہے کہ وہ ایک اہم اور سنجیدہ معاشرتی موضوع کی سمت ہماری توجہ غیر محسوس طریقے سے مبذول کردیتا ہے۔شاعر نے اپنا فرض پورا کیا۔اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم مسائل کا تجزیہ کریں اور غورکریں کہ بحیثیت فرد کے اس معاشرہ میں ہمارا کردار کیاہے اور کیا ہونا چاہئے۔لیکن دکنی میں تحریر کردہ منظومات کے تذکرہ سے قبل میں خطیب کی شاعری کے ابتدائی دورکی ایک نظم کے چند اشعار پیش کرتا ہوں۔زبان و بیان سے قطع نظر نظم کا موضوع وہی ہے جس کا میں اوپر ذکرکرآیا ہوں۔ملاحظہ ہو‘

میں ظلمتوں کا دشمن، ماہِ تمام جیسے لڑتا ہوں ہر بدی سے، رن میں امام جیسے
کس سے کہوں میں دل کی اب کون یاں سُنے گا جھوٹوں میں یوں کھڑا ہوں لنکا میں رام جیسے
ہر تیغ پر، تبر پر، زنداں پہ نام میرا قاتل کو یاد ہے بس میرا ہی نام جیسے
ہر نبض ڈوبی ڈوبی، هر شے بجھی بجھی سی دن دھاڑے آگئی ہے مقتل کی شام جیسے

خطیب ظلمتوں کے دشمن، آج بھی ہیں۔دکنی میں شعر کہتے ہوئے انہوں نے استحصال پسندوں اور معاشرہ کی ظالم وجابر طاقتوں کے چہروں کی نقاب کشائی کی ہے۔غریبوں،مفلسوں،دکھ دردکے ماروں،مظلوموں اور مجبوروں کے جذبات کی عکاسی کی ہے۔یہ صرف جگ بیتی نہیں،خطیب کی آپ بیتی بھی ہے۔خطیب کی شاعری کے ہیرو،وہ خود بھی ہیں۔بات ہے تو صرف اتنی کہ آج دکنی کی وجہ سے خطیب کے خیالات کی ایک وسیع حلقہ تک رسائی ہے۔سماج کے نچلے طبقے تک بھی۔خطیب کی ایسی منظومات میں ”دوطرفہ“۔”چھورا چھوری“۔”میاں کے دوست“۔”پہلی تاریخ“ اور”محبوب صاحب اور محبوب بی“ وغیرہ اہمیت رکھتے ہیں۔ان میں طنز ومزاح کا پہلو ضرور ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں ہمارے معاشرہ کے افسوسناک پہلوؤں کی عکاسی کی گئی ہے۔طنز ومزاح شاعر کا مقصود بالذات نہیں بلکہ وہ طنز ومزاح کے پردے میں ان پہلوؤں کو نمایاں کرتا،معاشرتی اصلاح کی ترغیب دیتا گزرتا ہے۔”پہلی تاریخ“ میں مزاح کی پھلجھڑیاں بھی ہیں۔خطیب نے اس مزاح سے ممکنہ استفادہ کرتے ہوئے اپنی بات،محنت کشوں کے حقوق اور ان کے موقف کی ترجمانی بڑی روانی اور دلداری کے ساتھ کی ہے۔شوہر، بیوی کے شکوے شکایات کے جواب میں کہتا ہے ؎

ہڈیاں کن کے ٹُٹَے سونچ یہ دولت کن کی دوزخی ہاتھ بناتے ہیں یہ جنت کن کی
سب کو کُرسیاں پو بٹھا دے کو زمیں پو سوتیں ہم کمینچ بڑھا دیتے ہیں عزت کن کی
ہمنا کاماں سے محبت ہے کوئی کام نہیں تاج مرمر کے بناتے ہیں مگر نام نہیں
ہمنا سب باغ بغیچے بھی لگانے آتائے پھولاں کھلتے ہیں تو پاواں میں بچھانے آتائے
بُھکّے سوجا کو زمانے کو کھلانے آتائے وقت پڑ جائے توگلّے بھی کٹانے آتائے
ہو کو ماٹھی کبھی ماٹھی تلے مِل جاتے ہیں پھول بن کو کبھی ماٹھی سے نکل آتے ہیں

یہ ہر انسان دوست کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔

محنت کشوں اور کچلے ہوے طبقات کے تعلق سے خطیب کی یہ درد مندی اور وسعت اختیار کرجاتی ہے۔احساسِ درد و غم اور شدید ہوجاتا ہے۔ناقابلِ بیان حد تک،یہ دراصل شاعر ہونے کی پہچان ہے کہ مبتلائے درد ہو کوئی عضو،روتی ہے آنکھ، کی طرح وہ ہر طبقے کے ہر فرد کے غم کواپنا غم سمجھتے ہیں۔اس کو خود بھی محسوس کرتے ہیں۔اس لئے اُن کے جذبات کی ترجمانی حقیقت سے ہم آہنگ ہوجاتی ہے۔غم کائنات،غم ذات بن جاتا ہے۔نئی نسل کی بے راہ روی، تعلیمی نظام کا خلفشار،اخلاقی بحران،ہماری تہذیبی روایات کا تہس نہس ہوجانا، معاشرہ میں پھیلی ہوئی یہ ابتری یہ بے چینی، یہ انتشار! اس پر خظیب نے کچھ یوں سوچا ہے جیسے یہ اُنہی کا سرمایہ لُٹ رہا ہو، اُنہی کا آپ لٹ رہا ہو‘ وہ خود لٹ رہے ہوں،اُن کا ردِ عمل ہے، بھٹکی ہوئی نئی نسل کے بارے میں ؎

ہم نے کبھی نہ سوچا اپنے وطن میں یارو ایسی چلے گی آندھی ویران باغ ہوگا
اولاد ہی کے ہاتھوں، منہ پرلگے گی کالک آنکھوں میں اشک ہوں گے، سینے پہ داغ ہوگا
بچوں کو میرے یارب! جینے کا تو ہنر دے آنکھیں تو دی ہیں تو نے، آنکھوں میں کچھ نظر دے
بیٹی ہو چاند بی بی، بیٹا ہو ٹیپو جیسا ورنہ تو میرے مالک ماؤں کو بانجھ کردے

ملک وملت سے یہی گہری وابستگی خطیب کی شاعری کا سرمایہ ہے۔اپنی اسی درد مندی اورمزاجِ غم آشنا کا نتیجہ ہے کہ مجموعی طور پر اُن کے کلام میں بہت زیادہ تاثیر پائی جاتی ہے۔وہ اپنی بات کو دوٹوک اور سیدھے سادے انداز میں کہنے کے عادی ہیں۔اُن کا اظہار واضح،اسلوب راست اور نکھرا ستھرا ہوتا ہے۔بات دل سے نکلتی ہے لہٰذا قارئین اور سامعین کے بھی دلنشین ہوجاتی ہے۔میں یہاں اُن کی نعتِ شریف کا ذکر کروں گا،عنوان ہی انفرادیت کا حامل ہے”نبیؐخانہ“ دیکھئے وہ اپنی عقیدت کے پھول کس طرح نذرکرتے ہیں۔یہ پھول نسرین ونسترن کے نہیں، دکن کے ہیں۔موتیا اور چنبیلی کے،ایک جہاں کو مہکاتے ہوئے،کتنا سادہ لیکن شگفتہ اور سلونا انداز ہے،کیسا دھیما لہجہ ہے غیر معمولی اپنائیت لئے ہوئے ؎

چلے آؤ مرے مالک میں انکھیاں پو بٹھا لیوں گا یہ جلوہ کس کا جلوہ ہے زمانے کو بتالیوں گا
کلیجہ چیرلے کو مَیں، کلیجے میں چھپا لیوں گا نبیؐ صاحب مرے دل کو نبی خانہ بنالیوں گا
اندھارے، گھپ اندھارے میں مرے بدرالدّجیٰ آئے نوے رستے ہوئے روشن چلو نورالہدیٰ آئے

سادگی سے میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ سلیمان خطیب نے تشبیہات،تلمیحات اور محاورات وغیرہ کا استعمال نہیں کیا ہے۔ان باتوں کا جہاں تک تعلق ہے سلیمان خطیب کے ہاں تو یہ چیزیں بہت زیادہ ہیں۔ان کی ہر نظم تشبیہات وغیرہ سے مزین ہوتی ہے یہاں سجاوٹ ضرور ہے لیکن کہیں بناوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔سجاوٹ ارادی نہیں، از خود اور فطری ہے ان کے ہاں ”سادگی وپُرکاری“ نہیں،”سادگی میں پُرکاری“ ہے۔ایسی سادگی جو آرائش سے زیادہ مسجع ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن کے استعمال کردہ تشبیہات اور استعارات وغیرہ دوراز کار،بعید از فہم،ناقابل قیاس اور عجم نژاد نہیں ہمارے اپنے،ہمارے اپنے ماحول کے اور دیکھے بھالے ہیں جس میں ہندوستان اور بالخصوص دکن کی بُوباس بھری ہوئی ہے اس خصوص میں جتنی مثالیں چاہیں دی جاسکتی ہیں لیکن ان کی نظم”ندی“ کے مَیں صرف تین شعر پیش کروں گا اور بس ؎

چڑھتے چڑھتے چڑھ گئی تو جیسے تیوری چڑھ گئی بڑھتے چڑھتے بڑھ گئی تو بات جیسے بڑھ گئی
گھٹتے گھٹتے گھٹ گئی تو چاند اخر رات کا ہور ڈونگی ہوگئی تو بھید عورت ذات کا
سُک گئی تو جیب خالی جیسے اک کنگال کا پیٹھ سے جاکو لگیا ہے پیٹ جیسے کال کا

اور نظم”دل کی تبدیلی“ کے یہ اشعار بھی پڑھتے چلیئے ؎

دِل کی دُنیا عظیم ہے بابا دل تو کعبے کا نہ کلیسا کا
دل ہی مجنوں ہے دل ہی لیلیٰ ہے دل ہی شعلہ ہے‘ روحِ عیسیٰ کا
اس کو ظلمت شکن کرن کہیئے دل دلاسہ ہے صبح فردا کا
جیسے ارضِ وطن کی خوشبو ہے دل تو دریا ہے ماں کی ممتا کا
دل کے معنی ہیں درد مندی کے ایک سایہ کسی مسیحا کا
ایک آنسو یتیم بچے کا زرد چہرہ غریب بیوہ کا
دل کے نیچے ہیں عقل کی راہیں دل اُجالا ہے عرشِ اعلیٰ کا!

سلیمان خطیب کے کلام کی ایک اہم خصوصیت اس کی روانی،بے پناہ روانی،آمد،غیر معمولی آمد،فصاحت،ناقابلِ بیان فصاحت اور بے انتہا تسلسل وار تباط ہے۔یہی وجہ ہے کہ خطیب کو خواہ سنیں کہ پڑھیں،کہیں بھی اکتاہٹ،بیزاری اور گراں باری کا احساس نہیں ہوتا۔برخلاف اس کے ایک دلنوازی،ایک سلوناپن،ایک خنکی اور شادابی کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔اُن کا کلام قارئین کے دلوں کو چھوتا،جذبات ومحسوسات سے ہم آہنگ ہوتا اور ایک دیر پاتاثر چھوڑتا گزرتا ہے۔اس میں ان کی زبان و بیان پر قدرت،اُن کے موضوعات کی انفرادیت، فن پر اُن کی گرفت،تشبیہات واستعارات کی ندرت اسلوب کی دلکشی اور دل موہ لینے والی ڈرامائیت کی کارفرمائی ہے۔خطیب کے موضوعات مختلف النوع ہیں لیکن سچ پوچھیئے تو خطیب نے موضوعات کا انتخاب ہی کہاں کیا ہے۔موضوعات تو اُن کے آس پاس موجود ہیں۔جب چاہا، جس موضوع پر چاہا طبع آزمائی کرلی،بغیر کسی انتخاب کے،یہاُن کی قادرالکلامی کا ثبوت بھی ہے،بادی النظر میں خطیب کی شاعری کے موضوعات معمولی سے دکھائی دیتے ہیں۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہم نے ان موضوعات کو کبھی شاعری کے دائرے سے باہر متصور کر رکھا تھا یا شاید ان میں ایسی کوئی بات ہی نہیں پائی تھی کہ ان پر طبع آزمائی کی جائے لیکن جب ہم خطیب کو ان موضوعات پر کچھ کہتے ہوئے سنتے یا پڑھتے ہیں تو لگتا ہے خطیب نے ان موضوعات کی تقدیر ہی بدل دی ہے اور یہ موضوعات جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں واقعتا غیر معمولی گہرائی اور گیرائی کے حامل،گمبھیر اور معنویت سے بھرپور ہیں۔یہ خطیب کے معاشرتی شعور کی پختگی اور اُن کی فنکارانہ مہارت کی دلیل ہے۔اُن کی کم وبیش ہر نظم اس کا ثبوت ہے! اسی کے ساتھ خطیب کاطرزِ اظہار،ان کا اسلوب بھی بڑا دلکش اور دلنواز ہے۔میں یہاں زیادہ مثالیں نہیں دوں گا۔اُن کی نظم”پہلی تاریخ“ کے دو ایک شعر سن لیجئے۔بیوی،گھریلو معاملات کے بارے میں شکوہ کرتے ہوئے اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لئے کہتی ہے ؎

یہ بھری شام ہے اللہ کی قسم کھاتی ہوں کچّے بالوں سے میں قرآن اٹھالاتی ہوں

اور یہ بھی بات کرنے کا کیا خوبصورت پیرایہ ہے۔جوان لڑکی کے بارے میں شوہر کی بے فکری اور اپنی فکر مندی کا اظہار بیوی کہہ رہی ہے ؎

بے فکر تان کو چدّر تُمے سوتے رہتیں میرے شبنم کے نصیباں ہیں کہ روتے رہتیں

اسلوب کی یہ چاشنی اہمیت رکھتی ہے۔

عام معاشرتی موضوعات کے بارے ہی میں نہیں دیگر عصری مسائل،تحریکات اورنظریات کے بارے میں بھی خطیب جاگتا شعوررکھتے ہیں۔صرف دکنی ہی میں شعر کہنے کی وجہ سے وہ عوامی شاعر نہیں بلکہ ایسے موضوعات پر بھی اظہار ِخیال سے وہ عوامی شاعر ہیں۔یہ اُن کے زندگی دوست،وسیع مطالعہ،کھلی آنکھ اور کھلے دل و دماغ کے حامل ہونے کی علامت بھی ہے۔

ہندوستان اورپاکستان کے مابین ڈاک کی آمد ورفت نے بجائے خود ایک موضوع اختیار کرلیا خوش آئند اورطرب فزا! اس بارے میں کئی شاعروں نے اظہار خیال کیا جن میں دلاورفگار اور رضا نقوی واہیؔ قابل ذکر ہیں۔سلیمان خطیب نے بھی لکھا ہے اور خوب لکھا ہے ؎

صحنِ چمن سے میرے لئے تاک بھیجئے ہاں، واعظِ حرم کوبھی مسواک بھیجئے
”نقادِ بے دماغ“ کی تحریر دلپذیر بے معنی شاعری کا بھی اسٹاک بھیجئے
دیدہ ورانِ قوم پہ رونے کے واسطے ماتم گُسار، دیدہئ نمناک بھیجئے
”بے وزن شعر“ ہوتے ہی بڑھتا ہے وزنِ ڈاک یہ سوچ کے سمجھ کے ذرا ڈاک بھیجئے

بے معنی جدیدیت،شعر وادب میں ہو کہ موسیقی اور مصوری میں،سنجیدہ،معقول اور مہذب حلقوں میں طنز ومزاح کا نشانہ بنتی رہی ہے،بننا بھی چاہئے کہ سلیمان خطیب کے الفاظ میں ؎

بے وزن شعر صرف ترنم سے پڑھ دیئے بے معنی نظمیں لکھی ہیں جدّت کے نام سے
ہر شکلِ بد کو کہتا ہے تجریدی آرٹ ہے بیلن بنا کے رکھدیا عورت کے نام سے

اور یہاں جدید مصور اور مصوری کی خبر لی گئی ہے،یوں ؎

جو بھی تصویر یہ اُتاریں گے بچے گھبرا کے چیخ ماریں گے
اورماں باپ ڈر بھی سکتے ہیں بلکہ چاہیں تو مربھی سکتے ہیں
یہ مزاروں پہ گر لگائیں گے مُردے اٹھ اٹھ کے بھاگ جائینگے

دکنی کا جہاں تک تعلق ہے۔عصر حاضر میں مجموعی طور پر دکنی کا ڈکشن جس شاعر کے یہاں بھرپور توانا اور دلآویز رنگ روپ میں ملتا ہے اس میں دورائیں نہیں کہ وہ سلیمان خطیب ہیں۔فی الوقت مجھے اس سوال سے بحث نہیں کہ اگر خطیب عصری اُردو کی بجائے صرف دکنی ہی میں اظہار خیال کرتے تو ان کی شاعری کس رنگ اور کتنی پختگی کی حامل ہوتی؟ کیوں کہ میرے خیال میں سلیمان خطیب عصرِ حاضر میں دکنی کے نمائندہ شاعر ہیں۔دکنی میں خطیب کی شاعری کا بانکپن اور دکنی کو اُن کی دین دیکھنا ہو تو محترم زور صاحب مرحوم پر تحریر کردہ مرثیہ پڑھئے۔دوبند درج کرتا ہوں۔پس پردہ نصرتیؔ اور غواصیؔ تو نہیں؟

تجھ یاد کی مشعل سوں جلتائیچ تن اچھیں گا انکھیاں میں غم ہمارے دریا نمن اچھیں گا
دکنی کا اک دِوانہ کوہ کن گزر گیا جی کی بعد اُن نمط کا شیریں سخن اچھیں گا
دکنی کوں جھونپڑے سوں ”ایوان“ میں بٹھایا انیچ واسطے تو گز بھر جگا نہ پایا
پڑتے ہیں انکھیاں سوں موتی کے سار موتی ماٹھی منے ملے ہے کی آبدار موتی؟
ہر اک سخن پو تیرے صدقے ہزار موتی ”لاتا تھا کاڑ دل کے دریا کے بھار موتی“(غواصی)
دکھن کی کھان میں توں لعلِ یمن ہوا تھا تجھ کوں نظر لگی ہے چندر بدن ہوا تھا

یوں کہئے سلیمان خطیب کی شاعری کثیر الجہت ہے۔اُن کے موضوعات ہی میں نہیں، زبان و بیان اور لب ولہجہ میں بھی طرفگی،رنگارنگی اور باغ وبہار کی کیفیت ملتی ہے۔انہوں نے دکنی اور عصری اُردو میں اظہارِ خیال کیا ہے لیکن جب وہ کسی مغرب زدہ نوجوان،کسی ہپی،کسی دیہاتی،کسی جاہل ساس،کسی بہو،کسی کسان،کسی پنڈت،کسی گھریلو خاتون،کسی فلسفی،کسی پٹھان،کسی کابلی والے کی زبان سے کچھ کہلواتے ہیں (اور ایسا اُن کے ہاں بہت زیادہ ہے)تو متعلقہ کردار کے مزاج،ماحول،اس کی معاشرتی حیثیت اُس کی زبان کی سطح اور اس کے لب ولہجہ کو پوری طرح ملحوظ رکھتے ہیں۔یہ عوامی زندگی میں گھلے ملے ہونے کا نتیجہ ہے۔ایک مغرب زدہ نوجوان کا لب ولہجہ ملاحظہ ہو۔باپ کی قبر پر ؎

لَولِی فادر مزے میں سوتے ہیں ہم تودُنیا میں بور ہوتے ہیں
پھول لانا بِسر گیا فادر میں تو قبراں پہ کن کے جاتا نیئں
کانونٹ میں تمے پڑھائے تھے کاں سے فاتیاں منجے سکھائے تھے

اور یہاں ”کابلی والا جشنِ غالب میں“ گویا ہوتا ہے ؎

ام کیسا مصیفت میں گرفتار ہوا ہے ہر وکت رہا کرتا ہے جھگڑا مرے آگے
سسرے کا گلا کرتی ہے کیوں ساس ہماری مجنوں کو بُرا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے
یہ کاں سے اُبل جاتا ہے شادی میں مکوڑے شاپنگ کو چلاآتا ہے مندا مرے آگے
سب ام کو سمجھ لیتا ہے قربانی کا بکرا سالی مرے پیچھے ہے تو سالا مرے آگے

اب بھلابتایئے، سلیمان خطیب صرف دکنی کے شاعر ہیں؟اُن کا مقصد صرف طنز ومزاح ہے؟ میں تو ایسانہیں سمجھتا اور نہ چاہتا ہوں کہ ایسا سمجھا جائے۔دکنی ہوکہ طنز ومزاح....یہ تو خطیب کا صرف وسیلہ ئ اظہار ہے‘پیرائیہ بیان ہے اُن کا حقیقی مقصد تو ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل ہے جہاں سب کی اُمیدیں، سب کی آرزوئیں تکمیل پائیں۔ایسامعاشرہ جانے کب تشکیل پائے۔خطیب اور خطیب کے ساتھ ہم بھی تو اسی اُمید پر جی رہے ہیں کہ ؎

کالے راتاں کا کبھی منہ بھی تو کالا ہوں گا لنگے کندھے پو ہمارے بھی دوشالا ہوں گا
پیاسے باتاں میں بھرا سونے کا پیالا ہوں گا

اور ان مہکتی اور مہکاتی اُمیدوں کا شاعر،دکنی کے شاعروں ہی میں نہیں عصری اُردو کے شاعروں میں بھی ایک اونچا مقام رکھتا ہے۔منفرد!

ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید

٭ ٭ ٭