خاطب

یہ جو آپ کے ڈرائینگ روم میں ننگ دھڑنگ’بابا بالشئتے‘ بیٹھے ہوئے اپنی رائی برابر ناک کی پُھننگ پر نانی ماں کا’کوہ پیکر‘ چشمہ ٹکانے کی سعی مسعود فرمارہے ہیں کچھ ہی دیر پہلے ایک دوات کو شہید اور کتاب کو جنت نصیب کرچکے ہیں۔یہ کہنے کو تو چار سال کے مُنّے ہیں‘ شاذؔ تمکنت کی زبان میں ’رگِ برگِ گل‘ کا مہکتانفس‘ ہیں پنڈت نہرو کے کاج کا بٹن روز ہیں‘ ماں کی آنکھوں کانور ہیں،باپ کے دل کا سرور ہیں۔اگر آپ ہم سے پوچھیں تو ہم کہیں گے کہ خاکم بدہن یہ عصرِ حاضر کے تن کارِ ستاہوانا سور ہیں۔ دیکھئے نا گرما کا زمانہ ہے ملبوسات سے مستثنیٰ ہیں۔ صرف ایک جانگیہ پر اکتفا فرمادیا ہے۔پاؤں پر سیاہی کے دھبے ہیں۔رخسار مبارک وپیشانی پر چھوٹی خالہ کا لپ اسٹک لگا ہے۔آپ گھر پر دستک دیجئے،گھنٹی بجایئے یا موٹر کا ہارن دیجئے یہ نوکر سے پہلے آموجود ہوں گے اور گھر کی معاشیات باہر ڈال دیں گے۔ اس رنگ برنگے ننھے پہلوان کو دیکھ کر یقینا آپ مسکرادیں گے مگر یہ جناب کو چار خانے چت کردیں۔شاہو ں کو شکست دیدیں‘لیڈر ملک کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔دور کیوں جایئے۔ آپ ہی بجائے۹ بجے آفس جانے کے ۷ بجے ہی گھر سے ہجرت فرمادیں اور رات گئے مدظلہ‘ دبے پاؤں گھر میں گھسیں ورنہ آپ کا یہ بھیجہ کھائیں گے اور خالی کھوپڑی کو ممی سے ٹکرادیں گے۔رات بھر دومونچھیں اور ایک چوٹی پڑوسی کی نیند خراب کرتی رہیں گی۔آپ سے ایک دفعہ ہم نے بطور تفریح کہا تھا کہ’مّنے میاں ہمیشہ سچ بولا کرو ورنہ اللہ جلادے گا۔‘آپ نے اپنی پٹ پٹی سی آنکھیں زور زور سے جھپکائیں اورپھر گوہر افشاں ہوئے”آپ بھی سچ بولتے ہیں؟“ سوال واقعی ٹیڑھا تھا۔

”ہاں ہاں ہم بھی سچ بولتے ہیں۔آپ کی ممی بھی سچ بولتی ہیں۔“ لیکن ہمارے ضمیر نے اندر سے چٹکی لی۔ آپ پھولوں کی شیروانی چوں (کیوں) نہیں لائے، جب بولے تھے نا؟“ لیجئے بھرپور وارماردیا۔ ہماری سچائی کا گلاکھٹ سے علیحدہ ہوگیا۔ ہم ’مرغِ دل‘ کو پھڑپھڑاتا چھوڑ کر بولے ”بھاگو منّے میاں. دیکھو باہر کون آئے ہیں؟“

”آپ جھوٹ بولتے ہیں،اللہ جلادے گا۔“ چاند کا تھوکا منہ پر آگیا۔ ایک بالشت کے ٹلّو میاں نے نصیحت باسی پڑنے سے پہلے ہی پانچ فٹ چار انچ کو پچھاڑ دیا۔اب میں ٹلّو میاں کو کیسے سمجھاوں کہ تم بھی جھوٹ بولو‘ ہم بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ڈالمیا‘ٹاٹا اوربرلا کا سونا جھوٹ کی بھٹیّوں میں تیار ہوتاہے۔امن کی تقریریں ایٹم بم اور ہائیڈروجن کی مشینوں میں ڈھلتی ہیں۔ یہ ننھی جان کیا جانے کہ ہماری سوسائٹی کوجھوٹ کی کس قدر ضرورت ہے۔ اگرجھوٹ کا چکر نہ ہو تو حکومتیں بھوک کی آگ سے جل کر خاک ہوجائیں۔لیڈر دانے دانے کو ترسیں۔للّی،آشا اور عذرا کا بازار سرد پڑجائے مگر ٹلّومیاں تو ہمارا امتحان لینے پر تلے تھے۔ایک دفعہ منّے میاں کی ممی کسی بڑی جگہ مہمان گئی تھیں،آپ بھی حسب روایتِ قدیم منسلک تھے۔ محفل’کف گلفروش‘ سے زیادہ جان لیوا تھی۔ دھیمے سروں میں ساز بج رہے تھے۔ایک سبزہ کے نیم قطر پر رنگین دوپٹوں نے قوس قزح کو شکستِ فاش دیدی تھی۔ ریشمی ہونٹ شربتِ روح افزا کی چُسکیاں لے رہے تھے۔ اتنے میں ایک بازو والی خاتون نے مُنّے میاں کی ممی سے پوچھا کہ”یہ ساڑی آپ نے کہاں سے لی ہے بڑا نفیس انتخاب ہے۔“

”نون کرن ٹھنڈی رام سے“ مُنّے میاں کی ممی کا سرچار مینار کی پھننگ کو چھونے لگا.

”چاوں (کیوں) جھوٹ بولتی ہو اللہ جلادے گا،یہ تو خالہ جان کی ہے...ہاں!!“

مُنّے میاں نے بھری محفل میں ننگا کردیا۔چاروں طرف سے دھیمی مسکراہٹوں کی پھوار چھوٹی جیسے نون کرن ٹھنڈی رام کی دُکان سے سینکڑوں برف میں سموئے ہوئے پانی کی دھاریں آکر گررہی ہوں۔زمین دلدل ہوگئی ہو اور اس دلدل میں مُنّے کی ماں اُترتے ہی جارئیے ہو۔

مُنّے کا سر چارمینار کو چھورہاتھا اور منے کی ماں ایک حقیر مسلی ہوئی چیونٹی کی طرح ان کے پاؤں میں۔

اگر مُنّے میاں کی سچائی یہیں تک رکی رہتی تو اچھا تھا لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کر پولیس ایکشن تک چلی گئی۔شام کا وقت تھا گلبرگہ کی گلیاں ہولناک خاموشی میں تبدیل ہوگئی تھیں۔ دروازوں کے منہ پر تالے پڑے تھے۔اچانک ایک دروازہ توڑ کر کچھ سپاہی مکان میں داخل ہوگئے۔ وزنی جوتوں کی ٹاپ سے گھر کی چھاتی ہل گئی۔

”تم سالا لوگ کواڑ کیوں بند کرے لا ہے“

”جی ڈر سے“

”ہتھیار نکالو، ہتھیار،سالا رجاکار(رضا کار)“

”بیٹا ہمارے پاس تو کچھ نہیں ہے۔“نانی ماں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

”تم جھوٹ بولے لا ہے بندوق تلوار دیدو۔“

”تلوار“...ننھے میا ں چیخ اٹھے۔

”ہاں ہاں چھوٹے تلوار!!“

”ہے ہمارے پاس.... ابھی لاتا ہوں۔“ یہ کہہ کر مُنّے میاں کمرے میں گھسے۔

نانی ماں چیختی رہیں۔”بیٹا وہ معصوم بچہ ہے اس کو کیا معلوم“ لیکن سپاہی یہی کہتے رہے۔”بچہ جھوٹ نئیں بولے لا ہے۔تم حرام خور ہے۔“ پھر ننھے کے آنے تک سپاہیوں کے فوجی جوتوں نے نانی ماں کو خون میں نہلادیا۔بندوق کے کندوں سے مار مار کر اباّکا سر پھوڑ دیا۔ جب ننھے میاں لوٹے تو ان کے ہاتھ میں ایک لکڑی کی تلوار تھی جو نانا حضرت نے خواجہؒ کے عرس میں دلوادی تھی۔

”یہی تلوار....؟“

ہاں ہاں۔ یہ میری تلوار ہے،آپا نے اس کی زنجیر توڑ دی،ان کو خوب مارو“

سپاہی چپ چاپ باہر نکل گئے۔انہوں نے کوئی سوال کیا اور نہ کوئی گالی دی۔ان کی گردنیں خودبخود سینوں پر ڈھلک آئی تھیں۔

(غیر مطبوعہ)

٭ ٭ ٭