حرام زادی
باغِ عام اور پھر حیدرآباد کا‘ ہندوستان کے چوتھے بڑے شہر کا باغِ عام۔باغِ عام حسن وجمال کا اک حسین ترین مرقع جو بالعموم آٹھ بجے شب کو تاریکی کے جزدان میں لپٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اورپھر صبح ہی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ کوہِ طور کی طرح جگمگانے لگتا ہے۔باغ عام نام ہے ایک دلفریب انگڑائی کا جو فوارہ کی روپہلی چادر سے قوس قزح بن کرجھانکتی ہے۔باغ عام نام ہے ان نقریئ قہقہوں کا جو نیلے پانی میں کنول بن کر تیرتے ہیں اورآکاش سے’ماہ وانجم‘ بن کرلٹکتے ہیں۔باغِ عام نام ہے اس ہرے بھرے کنج کا جہاں محبت کے رنگین نوبہ نو تازہ بہ تازہ ابواب ترتیب پاتے ہیں۔یہاں پانوں کی آہٹ گناہ ہے اور بات گناہ کبیرہ ورنہ دو دل بچھڑ جاتے ہیں اور گھنی جھاڑیوں سے دوفاختہ پُھر سے اُڑ جاتے ہیں۔موٹروں میں پناہ لیتے ہیں‘سہمے سہمے اِدھراُدھر دیکھتے ہیں۔ کتنے ظالم ہیں ہمارے پانوں جو نقش بننے سے پہلے ہی توڑ دیتے ہیں۔مٹادیتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ مرے پانؤں یہ ظلم کرتے ہیں‘ صراطِ مستقیم سے احتراز کرتے ہیں۔سیدھے راستے سے کتراتے ہیں۔ خطِ منحنی کے گرد گھومتے ہیں جیسے رند زاہد سے اور شاگرد استاد سے۔ پھر بھی یہ ٹیڑھا راستہ آوارہ گرد قدوم کو باغِ عام کی اس خوبصورت نرسری کے سامنے پہنچادیتا ہے جوریلوے پٹری کے اس پار ایک ٹیلے کی رِحال پر قدرت کا حسین وجمیل مرقع تھامے کھڑی ہے۔لال لال،پیلے پیلے کیاناز(Cannas)کے تختے کتنے بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ کتنے سہانے، جھومتے ناچتے, رقص کرتے ہوئے جیسے مست الّہڑ جوانیاں رنگ برنگے دوپٹے فضا میں پھیلاکر جھاڑیوں میں چھپ گئی ہوں۔اِدھر اِدھر‘دور دور‘جن کے ہم صرف چوٹیوں کے پھول دیکھ سکتے ہیں، جُوڑوں کے گجرے دیکھ سکتے ہیں،واہ کہہ سکتے ہیں،سیٹی بجاسکتے ہیں یا پھر ایک پھریری لے سکتے ہیں اور بس۔ مجھے یہ نظارے بے حد پسند ہیں۔میری مسرتیں،میری اُمنگیں نور بن کرابلتی ہیں اور عروس آسا بوگن ویلیا کی شاخ سے لپٹ کر جھومنے لگتی ہیں۔میں دھیرے سے نرسری میں رینگ جاتا ہوں۔ بوڑھا مالی پودوں کی کتر،بیونت میں منہمک ہے۔اس کی لانبی قینچی بے ترتیبی کو قطعاً پسند نہیں کرتی۔تنظیم کی دلدادہ ہے کھٹ سے بے ربطی کو چھانٹ دیتی ہے۔
میں پوچھتا ہوں۔”مالی! فارموسا کی شاخیں لگتی نہیں کیا؟“
”جی ہاو ئسرکار“....مالی قینچی روک کر کھڑا ہوجاتا ہے اور آداب عرض کرتا ہے۔سرکار کتنا عظیم الشان لفظ ہے کل تک جس پر صرف’سرکار‘ کا تصرّف تھا آج میرا ہے عوام کاہے میری چھاتی خوشی سے پھول جاتی ہے۔
”تم مجھے پہچانتے ہونا“؟
”کیوں نیئں سرکار آپ گلبرگہ سے آرئیں۔“ واقعی میں گلبرگہ سے آرہا ہوں میرا قد بلند ہوجاتا ہے جیسے’چارمینار‘ کے کلس کو چھورہا ہو۔ کہاں ہیں وہ لوگ؟جو کہتے ہیں کہ خطیبؔ صرف ادبی حلقوں میں مشہور ہے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ باغِ عام کی نرسری کا ایک بوڑھا مالی بھی اسے جانتا ہے۔اس کی شہرت سے وہ جل جائیں،مرجائیں،مجھے ان کی کوئی پرواہ نہیں۔’خطیبؔ زندہ باد!‘
”مالی مجھے کچھ پودے چاہئیں تم نے گزشتہ دئے تھے.....تمہیں یاد ہے نا؟“
مالی(چاروں طرف احتیاط سے دیکھ کر) ”داروگا بڑا کھراب آدمی ہے سرکار۔آپ جرا بڑے سرکار سے پوچھ لیونا مفت تھوڑایچ لیناہے؟ وہ بنگلے میں رہتے ہیں۔“
میں اس بنگلے کو دیکھتا ہوں جو جھاڑیوں کی اوٹ سے ایک خرانٹ شکاری کی طرح نظرآتا ہے جس بنگلے سے یار لوگوں نے بیسوں پیٹ ہلادینے والے قہقہے باندھ رکھے ہیں کہ اس بنگلے کے صاحب باغ عام کی کمان کوالٹا نونِ غنہ سمجھتے ہیں۔سرو کے درخت سے پھل پھول حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پڑتے پانی میں مالیوں کو حکم دیتے ہیں کہ”جھاڑوں کو پانی ڈالو“۔”سرکار پانی پڑرہاہے“ جواب ملتا ہے۔”آنگ چور کہیں کے۔ چھتری لگاکر ڈالو“ غائب دماغی کا یہ عالم ہے کہ کبھی چھڑی کونے میں رکھنے کی بجائے خود کونے میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور چھڑی کو پلنگ پر لٹادیتے ہیں اور پھر کچھ سوچ کر چھڑی کو کونے میں لگادیتے ہیں اور خود پلنگ پر دراز ہوجاتے ہیں۔ان ہی صاحب نے ایک زرد رنگ کی موٹر کا ر خرید رکھی ہے جو راستوں پر دوڑتی ہے تو لوگ چیختے ہیں کہ”کڑی بہہ رہی ہے“ اور آپ جب اس میں تشریف فرما ہوتے ہیں توکہا جاتا ہے کہ”کڑی میں بھجیہ پڑا ہے“ آپ اپنے ڈرائیور پر کڑی نظریں رکھتے ہیں۔ڈرائیور ذرا بھی چلتی موٹر کو دھیمے کرلے یا روک لے تو آپ فوراً آگ بگولہ ہوجاتے ہیں۔
”کیوں جی؟ تم نے کیوں گاڑی روک لی،نامعقول کہیں کے۔“
”سرکار گڑھا آگیا ہے“ غریب ڈرائیور جواز پیش کرتاہے۔
”کمبخت ہارن کس لئے رکھا ہے بجاتا کیوں نہیں؟“
میں مسکراتا ہوا آہستہ آہستہ اس لطائف نواز بنگلے کی طرف بڑھتا ہوں۔ابھی میں بنگلے میں داخل بھی ہو نہیں پاتا کہ ایک عدد سورماقسم کے کُتّے بہادر اپنی چوکی سے بگل بجانے لگتے ہیں۔’بھوں بھوں بھوں‘ گویا ہماری آمد آپ کے لئے ناگوار ِخاطر ہے۔خاطرِ یار کے لئے یعنی خاطرِ سگ کے لئے سنگ کی ضرورت ہوتی ہے یا پھر ایک لقمے کی یا میٹھی بات کی۔
سنگ اس مقام کے لئے موزوں نہیں تھا۔لقمہ تھا نہیں جو نوازا جاتا۔میٹھی بات آپ سمجھتے نہیں اس لئے میٹھی سیٹی بجاتا ہوں لیکن آپ کو یہ غمزے قطعی پسند نہیں آتے۔آپ تان سین کی طرح تن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ٹھمری سے دادرا،دادرا سے منہ بنابنا کر وہ جیب جبڑے کی سنگت شروع فرمادیتے ہیں کہ بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔
فضا میں دیپک راگ کی گرمی آجاتی ہے پھر آپ بھوں بھوں کے ساتھ نرت بتابتا کر ایک ایک سیڑھی اترنے لگتے ہیں تاکہ ہمارے جسمِ عزیز سے ایک تازہ تازہ پارچہئ گوشت بطور یادگار محفوظ کرلیں۔اتنے میں اچانک سبزچلمن اٹھتی ہے اور فضا میں شہاب ثاقب کی طرح ایک دستِ حنائی رقص کرتا ہے۔”ٹامی...ٹامی...“ٹامی بہادر پر جیسے چھاجوں پانی پڑ گیا۔سرخ پنجہ ئ مرجان،سرخ گلنار ساڑی،پھنس کراُبھرا ہوا بلوز،گلے میں سفید موتیوں کی مالاجیسے چاند کے اطراف ہالہ۔ٹامی بھی گم اور ہم بھی گم،ٹامی بہادر قئیں قئیں کرتے ساڑی کے گرد طواف کرنے لگے،پھر پانوں پر سررکھ کر سوگئے اور میں سونچنے لگا ؎
ہم نے نہایت ہی ادب سے شعلہ پوش حسینہ کو سلام عرض کیا۔
اس نے مسکراکر تھوڑا سا ہاتھ اٹھایا اور پھر منہ پھیرلیا ؎
ارشاد ہوا”تشریف رکھیئے۔“ ہم نے حکم کی تعمیل کی۔ ایک بید کی کرسی پر شاہانہ انداز سے’پکار‘ والے شہنشاہِ جہانگیر کی طرح بیٹھ گئے۔نہ معلوم’ٹامی بہادر‘ کے کیا سمائی آپ فوراً اُچک کر ہماری سامنے والی میز پر دراز ہوگئے اور ہمارے چہرہ کا جغرافیہ ملاحظہ فرمانے لگے۔ ہم لاشعوری طور پر کانپ گئے کیوں کہ آپ کی باہر نکلی ہوئی ایک بالشت کی زبان اور دوخنجروں کی طرح ابھرے ہوئے دانت کسی لمحے بھی ہمارے جسم اطہر سے دوبوٹیاں حاصل کرسکتے تھے۔ ہمارے ڈر اور ٹامی کی اس حرکت کو’شام ِشفق‘ نے بھانپ لیا۔صراحی دار گردن کو جنبش ہوئی نیم باز آنکھیں کھلیں، میخانہ وا ہوا،حکم ہوا۔”ٹامی چلو نیچے اترو،بدتمیز کہیں کے“ٹامی صاحب فوراً قدموں میں جاگرے۔میں چاہتا تھا کہ اس اداشناسی پر ’دہکتی انارکلی‘ کو کرسی پیش کروں، کورنش بجالاؤں کہ اتنے میں دور سے آواز آئی۔
”نوبہار...اری نوبہار...کہاں مرگئی،حرام زادی۔“
”جی آئی سرکار“ کہتے ہوئے شعلہ پوش حرام زادی گلناری آنچل سمیٹ کراندر اور ہمارا دم باہر۔لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ۔
تویہ حرام زادی تھی......! ہم نے حرام زادی کے سلام گزران دیا۔دل بھی آیا تو کس پر،اک حرام زادی پر!حیدرآباد بھی عجیب شہر ہے، ملازمہ اور مالکن میں کوئی فرق نہیں۔ملازمہ مالک اورمالکن ملازمہ۔ اب’ٹامی بہادر‘ دوربیٹھے ہوئے ہماری شرمندگی کو بڑے غور وخوض سے ملاحظہ فرمارہے تھے۔ باچھیں کھل گئیں تھی جیسے ہماری تضحیک سے آپ کو دائمی مسرت حاصل ہو رہی ہو۔پھر آپ اپنی تھوتنی پر بیٹھی ہوئی مکھیوں کے پکڑنے میں ہمہ تن مشغول ہوگئے جیسے بھونکنا اور مکھّیاں پکڑنا ہی آپ کا محبوب مشغلہ ہے۔مقصدِ حیات ہے۔ اچانک ایک لونڈا اندر سے آیا اور کٹورا بھر شیرخورمہ سامنے رکھ گیا۔یہ عید کا دوسرا دن تھا شیر خورمہ پر مجھے تعجب نہیں ہوا۔کتنے باسلیقہ لوگ ہیں،مہمان نوازی تویہ جانیں۔ حیدرآباد کی تہذیب تو اسی کا نام ہے۔قلی قطب شاہ نے اسے یوں ہی نہیں بسایا تھا۔بڑے وضعدار لوگ رہتے ہیں یہاں۔ مجھے یوں بھی بھوک کھل کر لگی تھی صبح سے گھوم رہا تھا، دوپہر کھایا بھی نہیں تھا۔ آو دیکھا نہ تاؤ کٹورا اُٹھا کر جو منہ سے لگایا توایک ہی سانس میں سارا کٹورا صاف۔’ٹامی بہادر‘ کی ناک تک سوندھے سوندھے شیرخورمہ کی بھبھک پہنچ چکی تھی۔اب آپ مصالحت پر اُتر آئے تھے۔دیپک راگ مرچکا تھا۔وقفہ وقفہ سے معصوم بچے کی طرح’غوں غاں‘شروع کردی تھی۔جب دیکھا کہ میدان صاف ہوگیا ہے خالی کٹورا ہم نے نیچے رکھ دیاتو آپ صرف کٹورا سونگھ کر چپ ہوگئے۔زبان ہونٹوں پر پھیری اورآنکھیں موندھ کرپڑ گئے۔اچانک اندر سے آواز آئی جیسے کوئی گہرے کنویں سے بول رہا ہو۔”ارے سکندر! شیرخورمہ کہاں لے گیا؟آیا کی ماں تویہاں کھڑی ہے۔“
”باہر دیو(دو) بولے نا سرکار....!“
”باہر دے دیا؟ کس کودے دیا؟۔بو ُا دیکھ تو ذرا کون مردُود ہے وہ؟ کہیں کٹورا لیکر بھاگ نہ جائے۔“
قبل ازیں کہ مردود کی رونمائی ہو مردودبرق رفتاری کے ساتھ نودوگیارہ ہوگیا۔ یوں بھی مردود کسی کو دکھائی نہیں دیتا۔ مردود بھوت ہوتا ہے بھوت....!
’ٹامی بہادر‘ کو ہمارا اس طرح بلااجازت بدتمیزی سے غائب ہونا پسند نہ آیا۔ آپ بھی ہمارے پیچھے لپکے۔جب تک ہم نے زمین سے خاطر سگ کے لئے سنگ نہ اٹھایا آپ کی مراجعت عمل میں نہیں آئی لیکن دور دور تک مجھے آپ کی’وداعی نظم‘ کے کئی بند سنائی دے رہے تھے، بھوں،بھوں،بھوں۔یہ کتےّ بھی عجیب ہوتے ہیں جس کا کھاتے ہیں اس کا گاتے ہیں۔دن بھر غریبوں پر بھونکتے ہیں رات میں امیروں کے ساتھ لپٹ کر سوجاتے ہیں ذلیل کتےّ...!!
آج جب भी اس بنگلے کے سامنے سے گزرتا ہوں تو مرے کانوں میں موہوم سی خوابی آوازیں گونجتی ہیں۔”نوبہار!اری نوبہار کہاں مرگئی۔حرام زادی۔“
”سکندر شیرخورمہ کس کو دیا۔ بوا دیکھ تو ذرا کون مردود ہے۔ وہ کہیں کٹورا لے کر بھاگ نہ جائے۔“
میرے لبوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ کھیل جاتی ہے میرے دوست پوچھتے ہیں۔ ”کیوں خطیب کیا بات ہے؟ کیوں مسکراتے ہو......؟“