خاطب

حضرت سلیمان خطیبؔ ۱۶/ دسمبر ۱۹۲۲ء کو بہ مقام چٹگوپہ موقوعہ تعلقہ ہمنا آباد ضلع بیدر(ریاست کرناٹک) ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد سلیمان ہے۔خطیبؔ خاندان کی نسبت کی بنا پر انہوں نے اپنے نام کے ساتھ خاندانی نام برقرار رکھا اور اسی کوتخلص کے طور پر اختیار کیا۔ ان کے جدّ امجد حضرت تاج محمد کو ابراہیم عادل شاہ ثانی کی جانب سے ۱۶۲۷ء میں جامع مسجد چٹگوپہ کا خطیب مقرر کیا گیا۔ حضرت تاج محمد کا سلسلہ نسب مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ سے ملتا ہے۔

حضرت سلیمان خطیبؔ کے والد محمد صادق خطیب کے تین لڑکے اور ایک لڑکی تھے۔ محمد سلیمان ان کے سب سے چھوٹے فرزند تھے۔ وہ صرف چھ ماہ کے تھے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔اور اس کے دس ماہ بعد ان کے والد کا بھی انتقال ہوگیا۔اس طرح وہ ایک سال چار ماہ میں یتیم و یسیر ہوگئے۔ والدین کے انتقال کے بعد ان کی پرورش ان کے تایا محمد عبد القادر خطیب نے کی۔

حضرت سلیمان خطیبؔ کا بچپن مصائب میں گزرا۔ دس سال کی عمر تک وہ اسکول نہیں جا سکے۔ بعد ازاں ان کے بڑے بھائی محمد وزیر الدین انہیں رائچور لے گئے جہاں ان کی ابتدائی تعلیم ہوئی۔ ہائی اسکول کی تعلیم انہوں نے میدک میں حاصل کی جہاں محمد حسین ادیبؔ مولوی عبد الرحیم صدیقی حیرتؔ جیسے اساتذہ کی تربیت انہیں حاصل ہوئی۔ ان کے مدرسہ فوقانیہ میدک کے ساتھیوں میں حفیظ قتیلؔ، عزیز قریشیؔ، امیر احمد خسروؔ، غلام صمدانیؔ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے بعد سلیمان خطیبؔ نے منشی فاضل کا امتحان جامعہ نظامیہ حیدرآباد سے کامیاب کیا۔

۱۹۴۱ء میں سلیمان خطیبؔ کا تقرر بحیثیت میکانیکل فورمین محکمۂ واٹر ورکس گلبرگہ پر عمل میں آیا۔وہ ڈسمبر ۱۹۷۷ء تک فلٹر بیڈس پر خدمت انجام دیتے رہے۔ یہاں موقوعہ اپنی قیام گاہ کو انھوں نے ’پانی محل‘ کا نام دے رکھا تھا۔

۱۹۴۶ء میں راشدہ بیگم بنت احمد شریف سے ان کی شادی ہوئی اس شادی سے انہیں دس اولادیں، پانچ لڑکے اور پانچ لڑکیاں ہوئیں۔

سلیمان خطیبؔ کو لڑکپن ہی سے شعر و ادب سے لگاؤ تھا۔نوجوانی میں طبیعت مائل بہ شعرگوئی ہوئی تو انہوں نے دکنی اردو کو شاعری کا ذریعہ بنایا۔ تاہم مروّجہ ادبی اردو پر بھی ان کی گرفت رہی۔ ان کی نظمیں، پہلی تاریخ، ساس بہو، سانپ، روٹی، رستے، تلاش گمشدہ وغیرہ معاشرے سے جڑے ہوئے کسی نہ کسی مسئلے کی عکاسی کرتی ہیں۔ ۱۹۶۰ء کے دہے سے سلیمان خطیبؔ کی شہرت و مقبولیت کا آغازہوا۔ ان کی شعری خدمات کے اعتراف میں حکومتِ کرناٹک نے سلیمان خطیبؔ کو ۱۹۷۴ء میں راجیوتسوا اسٹیٹ ایوارڈ سے نوازا۔ اور دیگر اداروں اور تنظیموں نے بھی انہیں اعزازات و انعامات سے نوازا۔ سلیمان خطیبؔ نے ۲۲ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو وفات پائی۔

٭ ٭ ٭