خاطب

1960ء کا دور مشاعروں کا دور تھا سنجیدہ شعراء کی طوطی بول رہی تھی۔ ایسے ماحول میں اپنے آپ کو منوانا بڑا مشکل کام تھا لیکن سلیمان خطیبؔ صاحب نے اپنے فن کو منوانے کے لئے ایک الگ راہ نکالی اور اس نئے تجربہ میں وہ صد فیصد کامیاب رہے۔ دکنی زبان میں شعر گوئی کی راہ انھیں راس آگئی اور شعری سفر دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن رہا۔ پھر ایک مقام ایسا بھی آیا کہ عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ در اصل سلیمان خطیب ؔصاحب کو بات میں بات پیدا کرنے کا ہنر خوب آتا تھا یہی وہ ہنر ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے عنوانات کو بھی پُر تاثیر بنادیتے تھے۔ نظم ”پگڈنڈی“، ”چمچے“، ”ہراج کا پلنگ“ وغیرہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔

حضرت سلیمان خطیبؔ کی شہرت خواص سے زیادہ عوام میں ہے یا عوام سے زیادہ خواص میں ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ کیوں کہ جہاں خواص اور باذوق سامعین سلیمان خطیبؔ کے دلدادہ ہیں، عام سامع یعنی جن کا تعلق ادب سے نہیں ہے اور وہ سنجیدہ مشاعروں میں کم کم ہی نظر آتے ہیں لیکن حضرت سلیمان خطیب ؔکی شاعری ان کے دلوں میں بھی گھر کر جاتی ہے کیوں کہ ایک تو اندازِ دکنی اور موضوعات عام فہم اور پھر آسان زبان یہ ساری چیزیں مل کر سلیمان خطیب ؔکو عوامی شاعر بناتی ہیں۔ حالانکہ کرناٹک میں پیدا ہوئے اس شاعر کی زندگی کے ابتدائی سال کشمکش میں گزرے کیوں کہ کمسنی میں ہی والدین انتقال کر گئے اور تعلیم کے مراحل طے کرنے کے لئے ادھر ادھر بھٹکنا پڑا کبھی کرناٹک کبھی حیدرآباد وغیرہ میں اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے سفر درپیش رہا۔ آخر کار حیدرآباد ہی میں ان کی تعلیم ہوئی اور یہیں انہوں نے اپنے آپ کو شاعری کے میدان میں آزمایا اور نئے نئے تجربات کئے دکنی زبان میں اُن واقعات کا احاطہ کیا جو روزمرہ کی زندگی میں بار بار ہمیں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ محنت کش انسان کے گھر کا نقشہ اپنی شاعری میں بڑے دلچسپ انداز میں بیان کرتے ہیں، ان کی ایک نظم ”پہلی تاریخ“ پڑھنے سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ایک غریب انسان جس کے ہاں تنخواہ پہلی تاریخ کو آتی ہے اور اس تنخواہ کے آنے سے پہلے ہی کتنا قرض لینا پڑتا ہے اور ان قرضوں کی ادائی کے بعد جو گھر کا ماحول ہو جاتا ہے اور بیوی کی پریشانیوں میں اضافہ کس طرح ہوتا ہے یہ سارا نقشہ انہوں نے اس نظم ”پہلی تاریخ“ میں اس خوبی سے کھینچا ہے کہ ہر پڑھنے والے غریب آدمی کو لگتا ہے کہ یہ تو میرے گھر کی کہانی ہے کیوں کہ تقریباً کم و بیش یہی حال سبھی گھروں کا رہتا ہے جہاں تنخواہ مہینہ میں ایک مرتبہ آتی ہے۔ پھر میاں بیوی کے درمیان ہونے والی نوک جھونک کو اس خوبی سے اس نظم میں پرویا ہے کہ پڑھنے والے کو مزا آتا ہے۔ دکنی انداز کی شاعری اور پھر موضوعاتی نظمیں جو روزمرہ کی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں، واہ! یہ تو حضرت سلیمان خطیب کا ہی حق ہے کہ انہوں نے کس خوبی سے نظمایا ہے۔

حضرت سلیمان خطیبؔ کو اس بات کا علم تھا کہ پُر تاثیر شعر ہی داد و تحسین حاصل کرسکتا ہے اسی لئے انہوں نے شعر کو پُر تاثیر بنانے کے لئے پہلے تو موضوعات کے انتخاب میں دیہاتی زندگی کو سامنے رکھا اور پھر زبان دکنی، اُس پر پڑھنے کا انداز، کُل ملاکر سامع کے دل میں گھر بنانے کے لئے پوری تیاری کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لوگ سلیمان خطیب کا نام سن کر کوئی نہ کوئی شعر یا کوئی نہ کوئی پرانا قصہ یا پھر کسی مشاعرہ کا تذکرہ کرتے ہیں کہ فلاں مشاعرہ میں مَیں اباجان کے ساتھ گیا تھا وہاں سلیمان خطیب نے خوب دھوم مچائی تھی۔

سلیمان خطیب صاحب کا یہ وصف رہا ہے کہ انہوں نے مزاحیہ کلام کے ذریعہ معاشرہ کی اصلاح کا کام بھی خوب کیا ہے۔ باتوں باتوں میں ہنسی مذاق میں اچھی بات کہہ جاتے جو دلوں پر اثر کر جاتی یہی وجہ ہے کہ آج تک سلیمان خطیب صاحب کے چاہنے والے انہیں یاد کرتے ہیں۔ نظموں کے عنوانات سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاعر عوامی اور دیہاتی زندگی سے کس قدر آگہی رکھتا ہے۔ جیسے ”پڑوسی نامہ“، ”چمچے“، ”راستے“، ”ساس بہو“، ”پہلی تاریخ“، ”ہراج کا پلنگ“، ”چلے چلو“، ”پگڈنڈی“، ”دھنک“، ”اماں کا لڈو“، ”عید کے دن“ وغیرہ۔ ان کے علاوہ اور بھی نظمیں ہیں جنہیں پڑھنے سے لگتا ہے کہ یہ تو میری اپنی بات ہے کیوں کہ شاعر جب شعر پڑھتا ہے تو یہ لگنا چاہیے کہ یہ میری اپنی بات ہے تب ہی سامع اس شعر کو یاد رکھتا ہے۔ شاعری کے علاوہ جو نثری تخلیقات سلیمان خطیب صاحب نے ادبی میدان میں چھوڑی ہیں وہ بھی ادب میں اضافہ مانا جائے گا۔

اہم بات یہ ہے کہ شاعر کی شاعری پُر تاثیر ہو۔ لیکن، اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ شاعر کے انتقال کے بعد شاعر کے ادبی اثاثہ کو کتابی شکل میں محفوظ کیا جائے، عوام کے بیچ پیش کیا جائے خواہ وہ ڈرامہ کی شکل ہو یا کتاب کی شکل ہو یا شاعر کی یاد میں مشاعرہ کی شکل ہو یا آڈیو، ویڈیو سی ڈی کی شکل ہو یا کسی اور طریقے سے ہو، شاعر کے شعری اثاثہ کو عوام کے بیچ بار بار لایا جائے تو سامعین اور ناظرین کے ذہنوں میں پرانی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ اس معاملہ میں حضرت سلیمان خطیب خوش قسمت ہیں کہ ان کے لڑکے اور لڑکیاں اپنے والد محترم کے ادبی اثاثے کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں اور عوام تک کلامِ خطیب کو پہنچانے کا کام بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں سلیمان خطیب صاحب کے ادبی وارثین کو کہ انہوں نے اپنے والد محترم کی زندگی کے بعد بھی اُن کے ادبی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

٭ ٭ ٭
اطیب اعجاز — مدیر ماہنامہ ”لمس کی خوشبو“ حیدرآباد دکن، انڈیا